کلیات پا خیاتت شش حراخال

(متروک‌اردولام)

2۵ے

ڈاکرصا برکووی

اچال اکادئی پاکتان

ا والد اہم رغان (متوفی ےب بر۹۹۰ء) کےام جن ہیں ا سکا مکی می لکی بی صرتتاھی

انماہ

زم نظ رجھو سے میں شائل اشعا رکا تق رآ۹۰ فص رحصاییاے ے_ےاتّال نے شمعودی طور پر تر کفکردیا تھا۔ ابرا ا ہلا مکودر یکا بوں می شائل کنا بای یواورٹی دک پرگانامناس بی ہوگا۔ الب تہ اقبال سےلکری وف ارت کو بے کے لیے ا سیکا مطالعہناگمز سے سے ۔ من حوالہ د نے وت ”نا قیات کا ذک کنا ضرودری ہے ۔ت کہ اسے اتقبال کے مداو یکلام سےمن کیا جا گے۔

زا گرترقٰ)

۰

ہ رت

دماچہ ازڈاکٹرصابرکوروی ۱ شعھربی با قیا تکی تر ومن نو (جواز سال اورطر یت کار:) ۳

دورا و ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲۴ء) ك۔۳۲۱ نات ددا کے متروکیات 7 مل مت رنشٹھیں. ۲ طز نظکموں کے ہجزوی متروکات ٭+ےا مل مرو زی ۲٣‏ جال فرزکویں کے جز وی متروکات ۵ عمل قطعا ت۸ر باعیات ۳۰۳٣‏ دورِرو مکا کلام (۰۹ ۱۹ء ۱۹۲۳ء) سم ۴سام انت ددا “کی اشاعت کک کھل می رنٹیں ۳۲۰ بل تموں کے ہز وی متروکات ۳٦‏ ٭ گل می فرزیں ۳۹ جال فرزکویں کے جز وی متروکات 2 پ٭ ظمریناہقطعات ۴۲۳۴

بل ظریفاضہقطحعات کے جز وی متردکات ۲م

با فطعات/ر باعیات

دو سو مکا کلام (۱۹۲۵ءن۱۹۳۸ء) ٦‏ ا ارمفان جا رز کےمتروکات

اہ عمل متروکننییس رقطوات

لہ نظھموں کے جزوی متروکیات

بل نزللوں کے ہز وی متروکات

بل مرو قطحات/ر باعیات مضفرغات

(۱) ریس اورماددہاے تار

(٢)‏ بر یہیگوگی مفردیات ۰ت

(الف) ووریافت کاخ اتّال

(ب) تقق طاب :کا اتال

(ج) اتب لکاا فان کلام

۴۲۸

۵۰۲۴۵

۴۳

۷۰م

اعد

082

۵۳۹ ۳

۵ھ

۵٦

م۵۵۳۳

۹9۹ھ

۵۲

۰ھ

رام تد دت) 75 23 ہی ۲ کک

دماچہ کریات با قیات شع راقبال (اردد) یی خدمت سے ۔ بیکیات میرے پیا ان ڈیی کے 0 0/0 نے اقبال کے شعری باقیات پرشف شرو ںکی ف میرے لے سب سے با لہ باقیا تک لا اورفراجھی کا تھا۔ باقیات کے موضوع پر چن رکب موجودنگی ںلان ان میں نت کلام مشترک تورم نکی بے شاراغلا سا مو جو یں ا نشین کے دوران ٹیس ء میں کان ا کی تلاشی جاری رنھی اور بڑگی درک ان کی فلا کو درس تکیا۔ میس نے صرف دصتیا بکلام پہ روس انی سکیا لہ خی رون اورخی مو لا مچھی حاصس لکر نے می کامیاب ہوا۔ ائمددڈمیرے ا تفگ یکا مکی بدوات ساڑ ح سمات سو کے تر یب اششحا رکا باقیات میس اضف ہواجن مل دو تا یکلام خی رمطبوعہ ہے جواقا لکی بیاضضوں سے ما ے- اقبال کے مودوں اور بیاضو کا یں نے وت نظ ر ے مطال گیا ۔ان بیاضوںکی رولت اختلا ف طن کے بببت سے مسا لکھ یئل ہہو ہے دورال تق اس ام رکا بھی اککشاف ہوا کیاقبال (ایس شاعر) کے شی نام ےبھی اخبر می کھت جے ۔ اس طر کی بارچشییں ذاش ہونشیں جو با قیات ین شال لک لیگگیں۔ رائم الھرو فکواس ام کا اصاس ےکا سکلیات می نمو ں کا یں منظراور اختلاف من شا لنڑیں ہے اور نہ متردکا تکی وجہ متا گنی ہے ۔ برسب بج میرے پی اس ڈکی کے مقالے بیس ششائل ہے۔ جوا سکیا کی اشاعت کے بحدجلد ہی منظرعام پر1 جا ےگا فی مھا ل ےکی اشاعت سے پبیلہ میس ا سکلمیا تکی اشاعت بوجو ضرور یپچھتا تھا انس لیے اصسل ما ل ےکی اشاععت محر ال امیس پڑکی دبی ۔میرے ما لن ےکوا سکیا تکا تمہ یا جتزد لا ینتک

ز مرن رکلیات با بات 9۶0+ - 20ھ -_ادوار

-7

کلیات با قاتشعراقبال ا اچ بنانے کے سا تحوساتحھکلا کو اصناف وارمرت بک رن بھی ضروری تھا برک نکوشش شک یکئی ہ ےکا سے زما نی ترتجیپ نوز کیا جانے:. یریپ وی کیا نکیا جا سالک اقبالل نے انت ےی تتتیب سےکھھابھی ہو

ال کےالاتی لا مکواس مو ے میں میں دی کی ہم ا کی نان دجی شی ے میں کرد یگئی ہے تفیقی مقا بک یکل کے بحد جلام ساٹ ےآ یا أ سے میں نے تی ے میں شا لکر دیاہبے۔زمالی اخقبار سے اسے اپنے مظام پر ون چا ہے نھالیان یور یاں حا ر ہیں نل وین کے خربی ھرائل میس یک اورشھم کے پارے میس معلوم ہوا اتال سے خللدطور رمنسوب سے چنائی را ےلیات ے ٹکال دبا گیا ۔ دیما کت وشنت وواور اشعا رکا اضادہ ہوا جن ےجیک کان ے زی روف 27 بعد ال رنظیرصونی کی تاب اقال دورن ما “(حیات اقبا لکا خالگی پہلو) منظر عام بآ گی جن سکی بدولت دں تۓ اشعا رکا اضافہ ہوا سے واقتی” غی مہو کہاجا سک ہے ۔ا ری ےکلا مکی نشان ددیپچھ کرد یگئی ہے جس سکا بای سے انماب اھ خی طلب ے۔

کلیات با قیات شع راتا لکی تر وی نکا بل مقصداقچال کے ین ارتقاکی ا فکڑوں کوم ربوطکرنا ہے اور اتال کے تصورا تن کا پودیی رح احاطکرنا ہے ۔ چنا نچ ان ںکلامکواسی تقاظ رس دیکھا جانا جا بے ۔کیا تک نل وی نکا جواز میس نے مقدمہ می فراب مک دیا ہے۔ ا طر ال لکلام سے جوضنار رآ مد ہد ئے ہیں ءا نکی نشان دد بھی میں نے مقر ے می سکر یی ے۔

دورا تن شع لوک نک اون بے عاصل در ہاے ا سک ایک لو بل فہرست ہے نے دبیاچے میس شام لی لکیا جار ہا۔ بیقر اصصل مقا ل ےکی اشااعت کے وفت ادا ہوگا۔ ٹ الال اقبال اکا دی کے موجودہ اش مم سیل عمرصاح ب کا شی اداکرنا ضروری تا ہوں جنہوں نے بج سے یکا مم لکرانے کے لے منعددامتظائ یگ آ زماۓ اوردداس می لکامیاب رے۔اللد ان کے درجات بلن کے

ڈاکر صا برنگوروی

4 1 سط صررش بے اررو بثاور لو ورک

شعری با قیا تکی تم وین و: زویتک ا زط رت ن

سوالی رہ پیدا ہوا ےکیجم کا مکوعلامہنے اپئی زندگی یس پیندزن سکیا ا سے ؟ مکیوں تق اورتقی رکا موضوغ بنانمیں ۔ ا لک جواب مہ ےک تقیدکی رحقانات ا ب۱۹۲۴ کی ہت بہت عدتک بدل گے ہیں ف نکر کمن میں کیا کی ابعیت کے سات کیو کی ای ت بھی لی مکی جا ہچگی سے ۔نغیات نےتحلبق کے تیچ نی ق بر کے چچن یم لکی اتھامگبرائیوں مج اکنا سیکہلیا سے ۔شع اورشور کے ر شت وا ہو گے ہیں ۔امی شا عرکی کے بی سے ا قبال برک یکا جزوقراردینے ہیں ایک ز بر دس تتخصی تک قوت تک ات ہونا ہے شا عر کے ڈینی ارنقاءکی سرگزش تک با ن تھی اکا منص بنُہرا سے۔ خود علام کی اپے رل 20 سرگذشت سے نی دی ری ہے ۔کیا با ات شع راقبالی کے ا لیم الشان ذخھرے سے صر فہک کر کےا نکش وکڑیو ںکوجلا شک نان ے؟

اقای کے زی بت باقیات اقال کے نظریاقی اورگکری رڈ وقبو لک ایک خوبصورت توم یی ںکمرتے ہیں ان سے میں بھی معلوم ہوتا ےک علام ہکا ا ات ین کن من واقات اورشریکوں سے متاث ر ہا اور اس نے اقپا لکی شا عری کی جھوٹی فض اک وکہا تک متا کیا ۔کگری اہرو ںکی صداے ہازگشت اتال کے تنداو لکلام می بھی سنائی دب سےمین اس می دوکھ نکر ج نی جوا ںکلام یل موجود ہے جے علامہ نے تر کک دیاتھا۔

نقادوں نے اس اع پہبہت (یادڑدددیا ےک کی ڈیکار ےش نکا جا جائحزەاسی وفت لا جا سکنا سے جب چم اس ذدکار کے ذاٰی عالات اورحخصبیت سے گاہ ہوں۔شن پارےکوذنکار سے نید اکر کے وب ہک یکوشش خالط رانتوں پر ڈا لحتی ہے کی اود فنکار کے پارے ٹیل ہے

-

کلمیات با قات شعراقال 1 دماچہ

بات درست ہوتہہواقال کےحلسلے میں پالٹل ورست ہے۔ اتا لکی ینس دٹچپدیاں مشاعروں کےساسلے بیس سفراورا نکی سوا حیات کےکئی بپہلواورزاو لے تو ککلام یس موجود ہیں ۔ اپ محاصرین سے علامہ کےیپعکتی پر ال کلام سے بہت رشن اتی ہے۔ ملا اس سے عانی می اور ڈیٹی ان راج سے انقپال کے رواب بای عیت ای اس سے یں اناز و ہوتا ےک ڈ بین مرا ھ عا مزال یھ مس نکر بیو ں تص ہکرت ہیں :

”نمی نے دہ راودا کی بہٹتظمیس کی ہیں رای ول شگا ناش بھی سی“

اقبای کے قطعات تا ریت اورمعض دیگرنظموں کے واسلے سےپسیں انال کےینض ا سے اعاب کے پارے می ل_لم ہوتا ہے مج نکا ذکرا نکی سوا یکنا وں می۲ کم بی دن می ںآ تا ہے۔ مض توب خان عامر ‏ سلطان اتیل ان٠‏ تن عبداشن ؛سید ناو ری ن قعییلداربیرہ. لیڑی شہاب الد ین ءنقبراخان چدون اور نادرکاکورویی دخیرہ_

باقیا تک مطالعد درب ذ یل والوں ےبھی مفیرغابت ہو سنا ے۔

ابا لیسوار اتال کے پا قیات شع سےا نکی سوا کات خی ت معلوم ہوی ہیں شا ( دح نے اق لوا وع )ان ےکی با اہ وت تی گی ان ا اا2 اقبای کے ای کشم می سے بی سے جو شوقی ملاقات حفضرت اقبال ہن مسل نا نکفیری کے جلسوں میں مرکری سےش یک ہوکڑنمیں بڑ ھت ہیں اور لو رر یٹرکی / نی انا ئی صلاعمتو ںکاعدومظاہرءکرتے ہیں۔ وزمرنظام رشن پر شاداقبال کی شا ع رب یکو پیندکر تے ہیں ۔ ال سک اظہارھی ان با قیات سے ہوا ے ضا ریشعر دثررہوم ٥‏ وسیٰ۳۷(ھ0 پند ا نکو وزیر نظا مکرتے ہیں٣‏ ایال نے ای ار من غز لکوئ نر کک دی مان کا شدت کن ان .کے با اٹ سےل جا تاپ بے

لات پا قیات مر اتال : اچ تر کر دب تھی خرزل خوان ی گر اتال نے خزللکھی بنا نکو منائے کے لیے

اقب لکی ہی شاد یگحثرات مس ہوٹ یھی ۔اقبا لک یشعمرا نکی ناکام ازدوای زندگی پہ

عحدورڈشنی ڈاتماےے ہوگیا اتال یی شف گثرات کا کا مکیا خلا قکرتے ہی گر صتا دک اقبا لی کا حصب ذیل بشعراس اھ رک تر دی دکرتا ےکہ ارش دگورکاکی اقالی کے استاد تۓے 71 8" ائم سے اوروہ می ابی ارش روا کلام سناکمرداد اص لکرتے تھے 7 ارٹر وراشت سے بہوں اقپال خواپان داد آ داری میں ہیں یہ اشعا رگوپ رکا جواب

تنداو لکل مکی مت رنیم ا ات شع راتا لک مطالۃہا تال کے ناو لکلا مکی می می بھی خماصا مددگارخابت ہو سکتا ہے۔ خلا اقبال کے حداو لکلیات کےم ے۹۰ برای عم چہاد موجود ہے ۔ ا س کا ابتدائی حنوان'نبہاالل یر“ تھا ۔آ خ ری شحرییس اقبال نبال کے جو انے بھی اسیک شع ام لکیا ماج یتھا: ٹس و بہا ک یکنہ ری کا ہوں مترف نس ن کہا فرنک سے ترک چہادکر سی ےت بہ تآ 1 ساپ رئقی ے ۔اقبال کےشارین نے اس لی منظرکی خی رموجودی می نم چا کی تج .جس ےت کت علامہ کے متروکا کا مطالنموں کے عنوان کے تناظر می ںکیا جا نے بھ یمتح دلپ نا سان ےآ تے ہیں ۔ خلا عنوانات می تبد بی ےبھی شا عرکامافی ای رین میں ص۶ ۹ ۹ سے 2 ۰" یندا نان سے زیاد می لکھاتے ہیں۔

کلیات باقاتشعراقبال : اچ اقبال کے راو لکلام می سکئی وہ سےلصض اغلاط د رآ کی ہیں کلام اقبا لکواس رح کی اغلاط سے پا ککرنے کے لیے متردکا تکا مطاالعہ ایک حدکک ہمارکی معاوخ فکرے کا 9 ۶ ٰ 9 -‏ ئ0 ری ادوارک ب تی نکیا چا گا ۔اقپا لک تنداو ل کلام ا نکی ابتائی خز لگوئی کمن می سکم معلومات راب مکرتا ہے ۔ چیہ با قیات ام لک یکو بہت حدرکک پیر یکر تے ہیں۔ تندراو للا مکی ابتدائی شکل می نع و بر ید سے اقبال نے اپ نےکلاممکوخوب سے خوب تر ہنا ےک یکپیشت کی یکن بندوں میں مصرتو ںکی تداد می جماخبیت پرقراد نہر +کگی ایک بیاشم کےایک بند یش سسات اشعار ہیں اور دوسرے میں خن ۔شا برای بنا کیم ال بن ات کوعلامہ پہ را اٹ کا جوا زی ا مگیااوراٹمہون نے عاا کی عق کون بی کک ری ززیااوراز نگ یلا خاصس طور پر اتی تقیدکا نشانہ بنیا۔علامہ کے شع ریی مار ان الھنو ںکودورکر تے ہیں اورگییں اقال کےاصل خیالات اورافکارکو کے کے لیے و ننا خرف ران مکمرتے ہیں۔ دشرا کے ارات اقبال کے مت رو ککلام سے اقبال پر دم رشعرا کے اشرا ت کا ھی پیج ا میں جائتزولیا جاسکنا ہے۔ لا علا مکی ابقدائی غزلوں میس دا ء ام راور ویر ہم عص رشعرا کے اشرات موچود ہیں الب اورداغٔ کے اشرا تکاانداز ان اشعار ے لگایا جا کت ے_ ال کااڑ کھت ہوں شعر وید)َ خوں پار ےۓ گر کاغذ کو رب اب گلتاں ہہوے بوتے میں شل ہگ بایغ ججان مں ون آب دید؟ نا کے ہوۓے (ائُکون) دا کااڑ :2 جوا ی ہے ولولے اے دل و و جک ال تے ین

کلیاتت باقیات شع اتال َ ٠‏ 7-2 شس جو سوال ہو میں اہی رنک کے متحددقطعات" با ئن درا“ بیس ششا ئل یں ہو گے اک رکے اشرا تکا کی انداز ولا نے کے کے باقیا تکا مطالعہ گر ے۔

٢‏ فیاز حفر تک نے فا کن ے پناہعظیر تکا اظہار جقتا مرو ک کلام سرت سے انتا دو نکلام ےیل پوت شابدای بنا ایک زمانے میں علا کش سے ملسو بکیامیا کن سے

کی پہلدان اشعا رکور کک ن کا سب بنا ہو ۔ کت ہیں :-

لیشہ ورر زہاںل سے لن کا نام اتال

تاب زو نکچ تا نکر

پچ ا ٭ نب ال

.- گن گار اونرال ی ے قب لی فضی :ام ےگ یں

ا قیات شع را تال بی شامل یت نظموں سے بر اکشا ف بھی ہوتا ےک علامہ نے فرتی

ام (اییس شاعر) سےبھ یہک وی ںککھ یٹتھیں_ نیس ج نکاعموئی انداز تی او دماح ے ابا لکی ا سح لکو ظا ہرک ری ہیں ایک طط رف و دہاشم سےعم سے بینیننٹف پا رٹ یو سلم لیک یش مکرن ےکیکیششوں میں مصروف ہیںء دوسرکی طرف اس پارٹی کےجض لیڈرو ںکا منا فققتکاپردوجھی چا ککرنا جا تی ہیں ۔ اقبا لکی ان بارہ خی ور نپظموں میس اتاد یوں اور قادیانوں بر جو چٹ سکیاگئی ہیں تنداو کلام میس ا نکاکوگی نمو نمو جو یں -

اتا لی جار گی علامہ کے راو لکلام می علا مکی مار گوکی کاو کی خوتہ شا لک سکیا گیا۔ علامہ کے ہاں بین داغ اور محا ص شع را کے مطا لے ےآ ڑاے-۔وہآ خر وق کک جا رں مگوکی ہج لے میں مصرو فنظ رآ تے ہیں ۔اقای نے دوسرے شع راک یفحایقات کے ۓ اورخواصورت ایم بھی سیے ہیں جن سےکتض انگربیز می شھرا سے اقبا لکی اش پمیک یکا اندازہ ہوتا ے۔ 7 جمہ

رن ت

یا سیپ

ےشن می ا نکی ہار تکاشموت ا نکی بیس ہیں ۔ علا ھی اصمل خیال پ اضاقکرتے ہیں اور یں ان کے ہا تر جتخلی کا درجراخقیا کرت نظ رآ جڑے۔ 0

احہا بک ف انی بھی لت اوقات اتا لکوشع رکوئی جو رکرد ہیں ۔اس طر ‏ کا کلام اقا لکی تار گوئی بی بھی موجود ہے۔ با قیات شعراقبا لکیپچحض د نمی ں بھی اس یٹیل کی یں شزاظنھر ین کے حیدرآ باد کے روا کی مظہرے ہے برانکتزربی شی سراح الد بین سےعلامہ کےخاصا نہ تلقا کی مظہرے ۵ ۔ائن مت روکات سے یی بگھی معلوم ہوا سے کراقا لک اض اوقات احا بک فر انی ںک ایل بھ کرک بد ی تی خلا رز فا فان ہوا ذس ذوالفتقاریلی ا نکی فر مان پر ود اشک خون “کے پرجبور ہو جاتے ہیں ۔ پا بکا ایا کی ات کو کی نت تا کپ ا کن ور قد بھی اس شی کیاشم ہے انف امو میں وی بھی شائل ہیں جوان ایت اسلام کےیغ سے سنا گنیس _ ان نمو ںکا متصد امن کے لیے چندوخرا ہ مک رن تھا۔علام ہک رج گوگی ”ای ے۴۹ اشمت ا کی وت میں جلو مک وو سے اورمولوگی عم ہداب لکی فر انت کو پذ رِائی حاصل ہول ے١۔‏ اولیاء اد ےکقہیرت

اقبال کے مکاحمی بک رع ان کےشعری با قیات مم بھی اولیاء اون ےعقیرت کے کئی ضھونے ہیں مل جاتے ہیں۔ اولیاء الد سے محب تکا اظہار یوں ہوتا ےکہ انی ایک ذالی پیل یکور کر نے کے لے وا ظظام الد بین اولیاء کے نام ای نظ مککعت ہیں اور اے مزار پہ رآ واز سے پڑ ھ کیلقانکرتے ہیں۔ا غم کا نام نیک ہے۔

کلمیات با قیات شع راقال ۸ دماچہ

راک اور میتی 7

اقبا لکی میٹر کک یکتابوں میس م ہنی ک ےج شمروں کے پارے میں جوانے لت ہیں۔ اس سےمعلوم ہوتا ےک ابا کو راگ و تا و اظھار با قیات کے اس شع رےکھی ہوا ات

کلمیات با قاتشم اتال ۹ 5

لیک کتے ہیں بے راگ کو پھوڑو اتال راک سے دین عراء راگ سے ایمان مرا

گاری ارب کینھونے

ری اط سے اقبال ن ےگن خیالا تکوت رک کک دیا؟ ا کا مش من اظہار اتال کے ا قیات شع کی ے ہوتا ہے ۔ وطنیت قومیت نی توف ء وحرت الوجود نقاد باٴبیت اور دوٹو ٹی نظریے کے ہوانے سے اقبال کے ان اشعار بی ایم موادموجود سے جس سے خی کے سے گوئے وا ہوتے ہیں۔ خلا ان وجوبا تکاصم ہوا ہے جو ایک زمانے می اتال او رما ئن ربنم میں اشنا ف کا مو جب تے- اتا ل کا ارتا

ان اشعار سے تصرف اقپال کے چینی ارتا ک یککڑ یاں مرجب ہلت ہیں بل نی ارتقا کی پر یکیفیتکھی ہمارےسامت ےآ تی ہے۔ خلا ہیں ریمعلوم ہونا ےک اقبا لکش نیکی بلند ییں یہ پچیانے والی اصل چیا نکی دو مت ہے جووہ اپ ےکلام ب رسس لکرتے رجے تھے ۔ اقب لکی آ فاقیتکا راز اس امرمیس شید ہہ ےک دہ ان کلام سے ایس انشمعارہکال د نے ہیں جن میں تی اور متام ین زیادہتھا۔ کسی وج ےک علامہ نے بیشتزفرمایئی اششھار ا ےکلام یں شال نیس کے اششحارکی تر اش خراش اور پچھراس کے انتاب میں تک رکا وگی کے ناج میس اتا لکا جھ کلام ہمارے ساس ےآ ا سے أس نے جخرافیائی سرعدو ںکو پاما لک دی اود پورگ دنیا کے دو لی کن بی نگیا۔

اتی شع انال تصرف علامہ کےنظ ریا تکا بیس منفظرف راپ کرت ہیں بل عحوام کے ریزفن بب یکماحقہرڈشنی ڈاے ہیں ۔شاعراپ ےکا مک پبتربن نان ہبی کن اپ کلام کیأن اورگری پھوئؤں پا سکی ائھی اص نظ رہوکی سے ۔کس شع رکوتر کک رنے اس میں مم" "ور جچیے شا ع رکا ز بر دس تتتقیری جو رارف رما ہوتا ہے دہ اہی کلام کولظریائی اورتی دونوں پپلووں سے دبکتا ےه پہکھتا ہے۔ شا عرکا شع ری ذوقی اس مرملے پہ ا سی رتضا یت ہے۔ چنا مج رد وقیو لک یبھٹی سے اپ ےکلا مک ارک دہ جمارے ساتئے ا 7 تحلیق بی کر ہے۔ جتنا بڑا شا عرہوگااتنا بی اس می ستتقیری شعورجھی زیادہ ہوگا تر مم وش

رن ت

-

کلمیات باقات شعراقال ٠‏ دماچہ

کم ل کا از عامطور پراسی وقت سے رو ہو جانا سے ج بکوگی خیال ء جذ ہہ یاداتشا ‏ کے ذہن میں ارتعاش پیراکرد ینا ہے۔ چناخچہ ہوقلیق اس ارتواشل کے نٹ یس عالمم وجود یس آ کی ےوہ ذمن کے پراسرا رگوشوں س ےگ رکرصفنقر طاس نل ہوئی ہے۔ اس مرلے پرقام تمیق یگ لک پودی حر بج لونا ہار ا سکی با یں ۔ لا اس پرکو یں لگا سکت لان جبکوئ ینحلیق زیدت قرطاس ٹڈ ہے اود پچ را کی نوک پلک درس تک انی ہن بیتبدییاں اس مے میں شا ع کی تما فیا یکیغیتو ںکا مطبرہولی ہیں ۔ چنا جہن اصطلا حات اورتپرییوں کیا شاعر کے عبو اور ماحول کے یں منظرمی ںتز کیا جا تے لت اوقات اس ذیکار کے تلق تر تنیز اکشافات ہو تے ہیں ۔اقبال کےشعھرییآ خا رن ط رع کے ہیں:۔

(الف) و میں م خلا مر قطحعات ور باعیا تچ نہیں علامہ نے لف وجوہکی اپ ترککردیاتھا۔

(ب) شی علامہرن کلام میس اشاعت کے لمت بکیہیں ان کےپیصض اشعار تل کرزۓ

(رج) لپ اشعا رٹ علا مر نے اصلاحا تٹگ گ٠‏ ۔ا نک یاضو ںکا مال کچ معلوم ہوتا ےک دہ اک مصرےکودوء دواورہنش اوقات تن ا ار دفع تی لردتے آانات اس ےبھی زیادہ دیپ امریہ ےک ینف مصوتوں می لک جانے والی تام اصلاحات علام کو پن ریس آ یں اور وہ ابنترائی مر کو بحا لک دتنے ہہیں۔ اس طرح کے متعرہ اشعار اور مصرسے اب علامہ کے مداو لکلام میس موجود ہیں ۔کلاح اقال کے اس جح کی نشانددی ہوٹی چا ہے اک ایی اشعا رک ینیم ور میں اس پا وکوسا نے دکھا چا س ےک اتبال فی اگ ری بیاظا سے ان اشعار سےمملمت ن نہیں تھے عدم اھدنا نکا ہیی ما نفسائی تجزراقبای کے بارے میں ہما رکی مو مات مل ضرور اضا کر ےگا-

ابا لکی اپ کلام پر اصلاح عام ور پراان کےشعرکومعیاری :ناد یق سے اس سے علامہ کےتتقیری شمتورک وی میس مدردلقی ہے ۔اصلاںکا بل باتک درا سے ارمفان جا زکک ای شدو ید کےساتھ چاری رہتا ہے۔ ا'علا مہ کے متروکات واصلا حات ےیل معلوم ہہوتا ےک اتا لکوشع ر ےی پہلوؤں کر ری ۔وہاچۓ پا موزیادہ سے زیاد مث بنانے کے لے پک نع ربق اخیارکرتے ہیں نخان شا ع ری ے نا داقن تکا انار ٘ سکاذکران کےکئی

-

کرات باقیات شع اتال ۷ دماچ

خطوں میں ہوا سے بن اکسار ہے۔علامہ کے متروکات او راصلاعا تکا مطالعان کے تراول لا موی میں ہکا ری ہت معاوضتک رتا ے۔_

عامےلٗ اصلاحاتٹ اقبال کے ہا ںکلا مکوخوب سے خوب تر بنان ےئل لح یتخلیقی سے مو ےکی اش حعت تک جار ر چا تھا مولانامسودعالم ندوئی کے نام خط یں اکر چعلامہاپ ےآ پ کن اصلا سے نابلدقرار دی ہیں۔ من بیج ا نکا اکسار ہے ۔ ام رواقعہ یی ےک دہ اشن کے تام نز وت وق رک تھے ناشن علتہ نے اورک کین مالک یف کی زیارنٹ ادا یھی ریما ایی مع راہ قاے ان ان علامہنے ابع مصرسے کے پارے می د من مھ رحوم (ساب قکورزسندج سے کہاککہانہوں نے اس مصرمے پر چالیس بارنظرمانی نی مب موجوددصورت یس یمحر سا1 با علام ہک بیاضحیں اورمسودات اس اھر کےگواہ ہی سکہ ایک ایک مص رس ھک وحن خین اور ض اوقات تار چار دف تم لکیا۔ اصلاحا تکا یل اس وق تج جاری بت تاج بآپ مود ہکاجب کے جوا نےکر دی تھے ۔آ رج جواشعارز ان ز دخاصص وعام ہیںء انس پگ رکا وئی کے نیج ہی میں انہوں نے موجودوصورت اخقیارکی سے چندمنا لیس ے علطالی جبور کا ٢٢‏ سے زانہ جو شضلکبن تم کو نظ رہ ۓ ما دو کادوسرامصررغ ناش لو ھاے اٹ ہیں پیج آخار موی کے ھا دو 2220 محبت ے ان جواوں سے ے عتاروں پہ جھ ڈا گے ہیں گنر ایرکز افو لوزن زع ت تو ےل رےزےپز للویاے عبت گے آفرربیں سے سے

کہ سے آسان گر ان کی گنر

-7

کلمیات باقیات شعراقال ۳ دماچہ

کل ازدا رلعلا بک اضلا حا ٹک معیارنق مب یسا د ہا ۔خوب سے خوب مز کی سج ال ےآ خ رک جلکسماں ور پر چاری ری سے ۔ ام ابقدائی اصلاحات می نی زاکنؤں ایی رای ش کا خیال پچھوزیادو ہی دا ہے ۔الفاظط کے اتاب اوریلم بیان کے وٹ تزع مکی بروات اشعار ٹیل تثا ل1 فرٹ یک یکیقیت پیر اکمرنے ےکاشعوری رجخھائن نہمایاں دہاے ۔ ججلہ آ رک دورکی اصلاحات می ںسکذا یت ٹفش سےکام لیے اور رم بیت وریہ اطافت پا ےکا اندازانکہار کے دوسرے ول پرھاویی ہو جاتا ہے ۔ الوب بیا نکی بتھام تز خزاکقی فی کے معلق اتال کے اس اکسا رکو ظا ہرکر تی ہی ںک ایی شا عرکی ےکوکی دب یایں اود کان کے ایی متقاصدڈن شاعرکی پر غا اب ر تج ہیں ۔ائن اصلاحات سے تراغ کیا جا لکنا ےک علامہ کوأن شا عریی پہگل دسس حاصم نشی اوروہفصاحت و بلاشت کےقمام رموز ےآ شنا تھے اور یں بر کا سلیقربھی جات تھے عرید بآ ں ہیں لفط تی کے رشن کا بھ یمم خھااورتاشر شع ری بی ہدک ت کیب امتنزا یکا بھی واف رو رتھا۔ اصلاحات کمن یل علا مہکی یگ رکادگی ہی نے ایں متازشعرا مکی صف میں شام لکیا اور ىہ بات لقن ]|۷۲ اصلا شر پر اتی عحفت نکرتے فو ا نکی مقصمدی شا عربی تا خی ر کے اس وصف ےمحروم رہتی جھ آ ىا کا ظر٤اتھازے۔‏

علام کی تا خی شرب یکا راز جا نے کے لے با قیات شع راتا لا مطالعہ گے ہو چاتا ہے۔ اس امھ کی ضمردر تگھی اب مز ت تس و لک جاری ےک اتا لکی اصلاحات ہش کر 0 ا فیا ت شی یکا ناب

پا ات شع اقال (ارد کی طوراقبالی کےکلام کے صنداول جھو تھے کلیات اتال“ زاررا فو ل سن ہے۔ بچوللہ اس مجھو ےکا یش کلام اتا لکی شور یکوششل کے ےشن تر کک یاگیا۔ اذا ا سکلاممکوہم اقبال ےکک دن کے شال کےطور پر یی کی سکر کت ۔ ا کلام کونصاب می بھی اس لیے شا لکرنا مناس بی سک اقالی نے اسے در کر دیا تھا .تا ہم اقال ےکی وق ارتقا کی نل فکڑ یو ںکو ملانے کے لیے ا کلام سے استتفادہ ناگز بے ہے۔ ال کے باوجوددائم الھرو فکا خیاللی ےک اکم ماہ رین افھالیا تکا ایک بورڈ اس مقصر کے کیل دیا جاۓ نز جاقیات کے اس ذخیرے سے ایب الا مخت بکیا جا کنا سے جوگکری اورفنی دونوں

-7

لات پا قیات شع راقبال ۴ اچ

پہلوؤں سے اقال کے منداو لکلام کے چم پلہ ہو ذیل میں یمک لنمونے کے طور پر ای اشعارکا تاب میٹ لکردرسے ہیں جی لھاظ ےا قبال کےمحرو فک لام ےک ہیں ہے۔

ہرگنڑیی اے ول نہ یوں انشکو ں کا دریا جا بے داستاں مجھی ہو وبا سنے والا چابے 371

آ مم عال ول ورو ]شیا کن کو ہیں اس ری تفل میں انا اجرا کن کو ہیں 1

ورٹر آ) تھا ںی خ٠‏ کہنا 01

ہوںںبھی اس شا ہبیش اورعگی اس شاغ پہ

اع ا مآ مرے صیّاد کا 01

مولی بجھ کے شان کربی نے ہن لیے

فطدرے جھ تے مرے محر اثمال 2 071

ینغ یق گی کی نین نآ یں

پک لی ما کن نان کے .8

اع جات ان تال بیان

جن مل میں مرے باو بھاری آلٔ 7

۳

زکر یھ آپ کا بھی سے ان میں 7-7 یں سج سال ہوۓے میں 7

کت کے ان کر بن ارس کیا جو سرکو کا کر گناہ گار ہیں میں جیا

شہارت گہہ الفت میں قم دنا سے آسان سجن میں “لاں ہو 71

ین تح ون ا کا نت کے ین خر اس ول پ سے شار ال کا یس 7

سے خر اروں میں لگن مد خوشید کی

ادن شب میں نظ ر آئی رن امیر کی 0011

:1

5

فضا اک اور ہی عا مکی ہوگی سام میرے

گر ڈر سےکہ بھی پرد ہل نہ من جائے 71

نظ ر کی نہ ھی کو بوعلی ہین کے جن

وو حمت ج کبو کوک رے شائیں سے بے پروا 71

لم کے رم خوردہ کو کم سے لے ا نکر

ع کو یی ۓ زا رک رعش کو نے وا فکر

رن ت

رن ت

کلیات باقیاتشمراال ۵ :

صورے رک بادی مر ےٹول کا گیا حصاب وروی داستان نہ وھ وس گرم ورا کر 71

چو سے کر انیاں ینم ئی میں رب تت۳

2.

سے سو منزل رواں ہو ےکو اپتا کاروالں یم ری“ شا کو ایآ بوزا سک ے کین اقب لکی مکی خرزل تق ۱۸۹۳ء کےشارہ میس شاک ہوکی ۔ یلہا نا لکی شا ع ری یکی صل شرت کا آ نا این مات اسلام کے جلسوں سے جوا۔ .نال ٹیم امن کے جے میں ۱۹۰۰ء میں سنائ گی بچھراب یلا 8۰ء می ا ظ۲ ھا ”ککھ یگئی ج خرن کے پیل شمارے ایل ۱۹۰۱ء یٹس ۹۹0یییٰ۷۶۹۳۹۷۷ ۰ٰ0 پیر اخبار خرن ہز مانہ ویبرہ یس شال ہوتا رپالیکن بت سا کلام اقبا لحفوط نکر کے بر ےء کے بععداقبال نے اہ ےکا مکو بیاضوں می ںتفو اکر نا جرد کیا یرپ سے والچی کے بعر انال اسرارخودی اور پچ ررموز ہے خودی یک یتصفیف میں مصروف ہو گے اور این ارد وجھو ےر کلا مکی اشاعح تکا خیال نآ یا۔ ۱۹۱۹ء کے بحعران کے اباب ن بھی اقب لکی نوج ارد وجموہ گلا مکی انب مب و للکرانا ش رو عکردگی۔ ۱۹۱۹ء یں سی رسلیمان ندوئی نے جھوھ کی اشاعت کے پارے ٹی اقا لکو خاکھا _ ۱۹۲۱ء ٹیس علامہ کے بے جن اجاز نے اپنے دوست عضتاتی صاح بک سفار لکرتے ہوے اقبالی کےکظا مکی اشاع کی اجازت ماگی نان علامہ نے یں اب ار نے سے حکردیا اود ری عز دن نکیا کید دہ خودایک جورع رج بک رن ےکا ارادہ رھت ون ر٭ا ۳ء می اقبال نے ارددلا مکی موی نکا آ پا زگ دیا۔ ای دوران میس اقچال کے

-

کلیات با ات شعراقبال : اچ دوست ام دن ے اقّال سے مورہ سیے خی راورانیں حیرت میں ڈال ےکی خوش سے کاب ”اتال“ شائ یکر دی جس میں اقبا لکی غوزلیس او نیس شائ جک دمیں۔ اقبال اس پہ نارائش ہو اورائ کی وج مہ بتائ کہا نکی شاعی تاب اوراصلاح ٹیزنظخالی کے اغیردوبار شال ٹنیس ہولی چا بے چنانجراحددبین نے بجوم نز رآ تن یکردیا۔ تام اس کے ایک دو ش ےکی ط رح محفوط رہ گۓ ۱۹۳۳ء یس بی حید رآ باد (وکان ) سے مولوکی عبدال رزاقی نے اخبارات و رسائل سےکلاام حاصس لک کےکلیات اقال چچھاپ دیا:۔ بیراھ یھی اقب لکو موا رکف راچنا یراس مجھوع کی فروض تکوحید رآ بادکی راس ت کک محدددکر دیاگیا۔ چود ہر مم نکی ڈائری(۱١)‏ سےمعلوم ہوتا ےک کلام ابا لکا اشاب اور اصلاں کاشمل عبدادد چقنا کی اور چو دھریی مین 021 سے پار نے کن لکو پیا اور ہیں انگ ددا منظرعام پآ کی لا مکی فرابی کے سے بت صا بکی بیاضھوں سے بددل یگئی ۔ یق شال شد لمکا حص اقا لکی دزں ے اہر ہا ہوگا۔ انا تاب کےکل سے شہگفذدہکا-

انگ درا جب شا ہوگی تو اس دو رکا ۵ھ فص کلام تیوک قرار دے دیامگیا۔ ال مرو ککلام مل ۵ سے افیص کلام ایا بھی شائل ہوکا جواقبال کےسامنے مو جودو تہ تھا۔اگمر بے تا مکمام شال ہو جانا نذ باتک ورا کی ضفامت ۷۰٦‏ صفا تی کک یھی از کڑے انتقاب کے بحدہ اس مو کو او نے تین سوص فیا ت کک محدودکردیاگیا۔ جوکلام گیا ا لکی یاد پرکئی جھو سے شا لح ہوے ۔ ابا لکا جہ خی رمطبو لام اعجاز ام کی بیاش میس شاعل تھا تے' روزگار فقر“جلردوم میں شا لکیاگیا۔ یوں باقیات کے نصف در نمو سے سا ےآ ئے۔

رام الھروف نے ان تما مچھوخوں کے علاوداقبا لکی بیاضوں ےکبھی استفادہکیا ے۔ اخبارات ورسائ لکی مز ید در قگرداٹی ہ یز مکا تیب اخبال کے ذ خر ےک ھکھگا لے کے بعد بیج خی مرو نکلام اور خی رمطبو یلام دستیاب ہوا۔یجنت احباب نے میطور نما باقیا تکلام اق لک در پافزں کا سلسلہ چارگی رکھا اور ون اتال کے شع ری باقیات شا حکراۓ : کلیات با قیات شع راقبال“ کاماغذ بج یکلام ہے جن سکیا ضصمبل دررچ ذل ہے۔ نعل ھورے اد رختسخفرم تالورعارث یح ازؤل۱۹۵۲ء ٢۔‏ رختح رم تب اورحارث شی روم ےے۱۹ء

ا قیات ااقبال مرج یع بدالواع دجن

پا قیات اتال مرح رعبدالواحد نی عپدائڈ شر سرودرفتۃ ؛لام رسول ہم

ترکات اقبال مھرنراشی دنو یظی م1 بادی وا راچا لعرالفنارگیل

رو زا رفقی را زفقبروحیرالد بی

ادا یکلام اقال اززگیان چنر

اردوگیمئ ی تاب

اردوکی پا نچ ی تاب

1 ط1 50 ۸۷۱۰۰ نواب سرذوالفقارکی خان

اتال ازامردن

کلیات انال (حید رآ باد )مت یم ولدک یعبدالرزای ساس جناب امیراور وم نیس مرج تد قی مین تا

چان اتال مر بدالرشن طاری اصلاحا تہ اتال مرجیشیرفی سنوی مت تج

کر اتال مر یعبدا لیر سالک

اوراق یگ مکشیدم جب ڈاکٹ ری ہجنش شابین علاش وتاشر برای سنوی

اال ‌اورا جن ایت اسلام ۔علیفشاہر روایاتتیاقبال عبراللہ چتال

اقبا لک محبت مس عبرالدچتالی

انال انیسو یں صدیمش

اچ

ٹُخ ازل۱۹۵۳ء شع سم ےے۹اء ۹ء ۹ء ۲۳ء ۰ء

(۱۸[ء

۳ءء ۵ء

۲ء پہلا ا ۱۹۲۳ء ۳ء ۶۸ء ۳ء ۰ء ۲ء ۵ء ۵ء ۹ء ۹ء ےے۱۹ء ےے۱۹ء

ےے۱۹ء

-

کلیات با ات شعراقبال ۸

ا۔ کلام ا قہال(ناددونایاب رسائل کے؟ مین میس )اکب رحیدری ۰۱ء انز کےعلادہرائم اروف نے درخ ذیل اذ ےکھی گھرپوراستفادہکیا۔

علا کی بیاضیں

ا۔ بیاشسٍ باتک درا( جلداولء دوم مسوم چچارم)

اف ال تلام)

۳۔ بیضیبال جرل(شخغ)

۰

۵- اض ارمغان از (حم)

علا مہ ےم ورے

اد مسودہبال ججریل

ج6 مسودوضربیگیم

نی نے

الہ ماغثاجازاب

٢۔‏ با صادق من لاہور

۔ میا حا تیم اگ ہرخان مان رہ

۔ میا تمادا ملک دش انورخان موالہگیان چتر

راہ ک٭ ت

کے ج

ا

ڈاہ7ہاں

١ا‏ گراش اتخلص ابر وفضل: تر وامک

٢‏ مخ عرںفق مور مپدالئدق بی

میں عبدالشجدر سم نآباد لاہور

کریم لی . پیٹ

022

ا۔ چوجھ ری شینیین اورعلا مہ اتال (روابط )ازٹا یف اور ل مارح ء لا ہور رودادی

٦‏ دح

ات پا تیشعر تل ۹ دی

سا

رن

آت ان ایت اسلام لا ہورکی متعروروداد ہی

رسال واخپارات مخزن مصوئی ء پھیہ اضبارء اخبارتفیکی ءانقلاب ء زمیندارء یرف لاد ون اخبار ہ“تفمیرکی گکزٹ ‏ تن * جامعہءمایت اسلام ؛شاہکارء زبان دی ءصباحی رآباد(ون )- عالسی رب یکڑ رومی زی وفردوں (لا ہوں ضشچج الیک عمادلف معارف :مہ رشح روزءلظام الا ء مار( لکعتق)ء نی نک خیال ء جوایوں ء برظلم مطلوع اسلام رشکوفہحید رآ یادء ال ر یوید اقال ءاتبالیات محیفہ دفیرہ

مضاشین اس کےعلاددددرجع ذیل مضمامین سےبھی استتفاد ہی میا تن می ننلموں اورغزلوں کے

کئی اشعارشائح ہو ۓ:

ھلا۔ اتال کا خی مو کلام نظیرلدعیاوی ا شاہکار لاہور ارچ۱۹۳۷۲ء ٢‏ ھلا۔ ابا ل کا خرعلو کلام تظیرلدھیانویں حائیںءلاہور ابریل۹۵۰ء ۳۔ اصلاعات‌اپّال ٹن متظورنین ‏ امروز اپریل۱۹۵۸ء ×٣‏ اق لی ہیں عبرالقوی وی مر روز ون ۔اکست ۱۹۵۸ء ۵- وواورات اقّال اکنل خان گنار:۹ ون ۔اکست ۱۹۵۸ء ٦۔‏ کان اکبرلی خان حفخار١۱ا‏ دب ر_جچوری ۱۹۵۸ء ے۔ انال کے چندوادر ایی خان ماوفدءاقال مہرےے بر ل۹۵۹ء ۸۔ واریاچال اکنل خان ذخا ر۱۳ ۰۶ء ۹۔ ایک جن ےگ تا نکی سک وبنّرہاں عابدرضاءیرار صباحیدرآبادرن مار۱۹۲۱اء

ا ایگ جو ےگ تا نکی

“وب روال عاہدرضابیدار ‏ اتال نرےے بب ۹۹۷۳ء اا۔ چندنوادریسلسل اقالیات ‏ اکبکلخان اخال روہ جوا گی ۱۹۷۲ء ۳ا ایک جوت ےک ستا نکی

موچ روال عاہدرضابیدار مکرا تی ۱۹۰۲ء

۲۳-۔

س2

ک0 (ابالیات ے . چنرنواو ری سلمسل اتال بات

۔ دنک شش

اقب لی ایک فر مل شدنظمرش مق

انا یات

اقب کی ایک ناد رہ

اتال پر یامواد

- نادرات‌اپّال

واررانّال

۴۔ باقاتاقّال ت خی دو نکلام

۔-٦‎

۸۔ پال جج ری یکامت روک کلام

ایک تطعتارن اقیات‌ اتال

َ علام راتا لکا نیم

۶ے

ت٣۷‎

کر او ا علامہاقبال سے خر مور

مو ےکلام

علام راتا لکاظیم مطبو کلام علام۔اال اوردری کتائیں

٢۲

لی تر وائی ایی خان ریس نائی

لطیف الله بروی عبرالقو بی دسنوی کال القادری بی راصرڈار 7 ادارہ

رای

امن بن ظر نی فضل تن ری ادارہ

ڈ اک راف

یف اہر

برا

اقال رو ماونو اتال ٰرےے

اقال رو چامعہ

افکار نام

اتال

کل اتال نر رسالہاردو ر7 می کگوزنمن ٹکا موب رانوالہ یز

نہ

٭

ج یر

ڈاکٹ رح الد ین اتی بزتْتّن‌ غرم

ڈارف الین نی اوریف ل کا میکن

سید ذرازاھ

ڈاکسن اخ

شراب ل بر

باواو

راہ ک8 ت

جوری۱۹۰۲ء جرل گی۱۹۷۲ء

ابر ل٦٦‏

ت ۱۹۹۵ء جوزاکی و ۱۹۹۷ء ابر لی۱۹۹۹ء چوری۰ے۱۹ء ۳ےء ۵ے۴ے۱۹ء ال تژر۷ے۱۹ء ےے۱۹ء ےے۱۹ء ےے۱۹ء

ال ےے۱۹ء جرلائی۸ے۱۹ء

۷۲۲۳ء مار۱۹۸۲ء ا ےل۱۹۸۳ء

اہےل۱۹۸۳ء

کلمیات باقات شعراقال ۲ داچہ

قطحات رادرم افوی ام روزاقالیڈنش زبر۸۳ء

٣۔‏ اق لکااکیک خی موب

مر

پروفیسرر ہاش جن اتال یات جواائی ۱۹۹۲ء

کو ا انل می مہایات جرل ئی۱۹۹۷ء ۵۔ علا ما فا کا ایک ناباب

7-٦

-- ڈاکڑجمودااہی ماونواقال نر وبر۳۰۲ء

باقیا تک نم وین نو کے مسائل

ا قات مر اتا لکی نون فو ےکن میس پ۴ییں جوم رائل درییی ر سے ا نکیانخحیل

درب ذیلٰے:

1

2

اتا لکا کلام ان انگ یں :جن رسائل اوراخبارات میں شال ہوتار باء ان یل سے سيںسپبون۔د

ا ات شمترا تال کے جوجھو سے وقا ف تما شاك ہوتے ر ہے ہیں ء ان میس اپنے بآ کا اخترا فی ںکیا لیا چنا رلتض اوقات ریمعلو مکرنا مکل ہو جانا ےکرکس نے کہاں سے پکلام ان ذگیا؟

فیا یت ا کن کی از نت کن ان من کے جذیادکی مخ سیا بکجییںء ان کے پارے میں اتی فص لکنا مض اووات مکل ہو جاما

سے اقبا ل یھی بیاضیں ا سن میس ہماری بہتی الھنو ںکور خکرسحتق ہی ٹین نشنل بی ےکہا نکی بیاضوں بی ے۱۹۰ء سے بس ےکا کلام موجودکیں ہی ںککیں اقپا یکا سواوخیائھی ایی ن کا سبب بنا ے_

اقبال نے جن احا بک بیاضو لک بفیاد پہ بانتِ درا کا کلام متخ کیا تھا وہ اب دستقیا بکہیں_

ابی کے پا قیاتشعرییکاز ماب نصزیف معلو مکنا م زی مشلا تکا سب بن ے- بایات کے ذخرے میس پلنھالھاٹی ظا مچبھی شال وکیا سے بوجو غااطر پاتّال ےم فو بکردیاگیاے۔

کلمیات باقات شع راقال ۲۳ داچہ

1

1

باقیات شع راقبال کے نصف دجن کےقری بجھوگوں میں مضت رک کلا بھی پایا جا نا سے ورای اکوئی جھوع مو جو وی ہے جوا عیب سے پاک ہواور جا بھی ہو

یل مچھہتوں شا :”با قیات اتال “'اورننرو زا رضق “یس الییے اننحارجھی شائ لکر لے گے ہیں ج با قیا تکی ذیل می میں1 تے بللہ قنداو لکلام یل مو جود ہیں-

مکانیب انال نیز سوا اتا لکی لن ضلکمب میں انا کا اشعارموجود ہیں نہیں ا ات کے جن ول کن کان

ان مہات لکودررج ذلطرلقوں 0

اقبال کے قداول اور شی رتداو لکلام کے تمام مغ ذکا ایک اشار یمج بکیاگیا اوران تام مغ کا برقت نظ رمطالعہاورمواز ہکا گیا۔ ان متو نکوا با لکی بیاضوں بھی ملا 0071

ا ا ا ا و ا ا ا اییےاختا فا تکودرخوراطننافڑیں جانا گیا ۔ حرف انی اختطا فا تکا ذک رکیائگیا جس کی کوئی اور او مک نی ںتی_

کلام اقپا لی مل ہالین اشاعتو ںکوحاص٥‏ لکیلمگیااورپینگمی بیاضوں گی مدد لی تل ان تافو کے کنل انال قوذ دانع کے ضرا کی اداشتوں ےبھی استفادہکیلگیا-

سی سے اتقپا لکی بیاضأوں بن ظموں کم زمانۃف ددم ے چال درست تار ا ہنیس مل سکاء وا ںنض مکی اشن اشاع تکی تار با می کو ز مان رتمنیف ور ا ا یں نی و رق ان ات 2 نان رن ےک یکوشت شک یکئی ہے اور یوں بیکلیات مڑئ عدکک زمالی ترجبیب کے مطا بی مت کیایاے۔

اقبال کےالھاقی کا مکا س راغ لگااگیا سے اوران اشعا راویات سے نار نک دیاگیا- نم سکلا مکی سح تکاپودالیقین درتھ سے ممکو ک کت ہو ےن طل ب کلام کےعنوان کےجشت شا لکیامگیا. :کہ دی شفقین اس کے بارے میں مخت نکر سے کے فیصلہ

لیت باقیاتشماتال 7 :

رن ت

بد زی نظ رچھو سے میں قام مشت کا کو ال کر دیامگیا ہے۔ اود اس ام رکی دی پورگ کوشن لک یکئی ےک افبال کے منداو لکلا مککوئی شر باقیات کے اس مج]ھو سے میں شال ےہو- ٢ل‏ ابا لک سوا عمریوں اور محاص ری نکی یاداشتو ںکو پور ی طر ح تگال لیمیا ے اور ہرس شعرکو اس جو سے میں شا لکرل مایا ہے جو باقیا تک ذیی می لآ تا ہے۔ ک7 اقبال کے الین خ زکو بذیادی ایت دب یگکئی سے ۔ اگ رکسی غرزل پانظ ما الین متن یا بجی ہو کا تو ال من نکوتر یی د یگئی ہے جو دوسر ےب خ کی نبدت زیادومقدرم ہو۔ 21 اقب لکی میاضو ںکومطبوع مواد بر ت نع دی یگئی ہے۔ ش اعجاز اح دکی مرج بکردہ بیاض سےا مخ کی حقیت ےگ رپوراستفاد ہک یاگیا ے۔ ال کے بتملہ با قیات شع رکوز مان ریب سے مد نکردیاگیا ہے اس سے اق ای کے ذینی ارتا کی پر یکیفیت ہمارےسا ۓآ جائی ہے ا ںحن می ں جن ادوار بناۓ گئ ہیں باتک درا کے متروکات : ووراؤل اترا۱۹۰۸۲ء دورویم ۱۹۰۹ءا ۱۹۲۴ء( انگ درائکی اشاع تکک ) ای ج یل کے مترذات ۔ضربگیم+ ارمفان تماز دو روم : ۵ء سے ۹۳۸اءکیک ردوری لا مکی ترحیب ا طط رح رگ یکئی ہے۔ اہشسمہ وہ سکُل رمر) چ‌ تنعداو للا مکینمموں کے جنزوی متروکات

کلمیات باقات شعراقال ۳

راہ ک٭ ت

ً9 مل مل ت غزلوں کے جزوی متر کات ( راو للام)

)0 تار یں اورمادہہاۓ تار )۲( بد بی یگوئی رفردیات تفرقا تکی ترحی ب بھی بی عدکک زمای ہے۔ ہرضے می امو ںکی تی بکو یکن

عدتک زمائی رکھاگیا ے۔ تشقیقی متا نے میں شال ہیں لا نمی ںکلیات میس شام لنمی کیا یا۔ وی ےبھی عام فا رن نک تی کن ول چناچ ا نین یں میرے ما ل ےکی اشاءح تکا اننظارکرنا چا ہے جوامیر ہے جلد منص تتجود پآ جا ۓگا-

7 اس ظلیات میس ہنم کے مخ کی سندیھی فراب مک یکئی ے۔

کے جشن ا کات یس ششائ لکیا گیا جومکن تک ال کے مطابفن سے ۔ دویا دو پل ٹول و و ںا کے اصولو کا ودا ور لھاظ رکھا گیا ہے ۔ اس ام کی وضاحت اور مت نکی اسنا فی متانے میں فرا پ مکردیکئی ہیں۔ شےکلیا ت کا تہب یمچھا جا سنا ے۔

و2 زرنظ رچھو سے میں شائل اشعا رکاء تندراو لکلام سے مقا لہ ومواز ت .کر نے ے ورن زی لکییفیت سان ےآ بی ے۔

تنداو لکلام بش اشعار یکل تحراد: ے۹( مشمولہ :کلیات اتال اروو)

7.

دزن مت یکلام اشعا رکیل تعراد: ے۲( باقیات کےمچھڑتوں میں شا ل کلام )

لمات باقات شعراقال 6 دماچہ

یرون ری مو کلام ۰ھ اتال کےگل اردواشعار ۸۲۲۳

اس سے بی بات غابت ہولی ےک اتال نے اپنا ۳ فیص کلام متر وک تر اردے دہاتھا بیہاں اس امرکی ودضاحت ضروریی ہےکہ باقیات میں خی مرن اور رمطبو ہا مکی ذیل بش ۰ اشعارکا اضافہ رائم اھھرو فک یکوششو ں کا حاصمل سے اورا من ٹیس رائم اھ رو فکا سب سے اہم غذ اق لک وی یں ہیں ج نک فقول اب میرے ذ خر ہکتب ٹل شائل ہیں۔ رید باقیا تک دستیال یکا امکان اب ہ تم رہگیاے اور :اتال فان نز کا ےکی شاف نیش من ہے ۔ ا جن می حال ہی یس منفظرعام پر نے وای جاویدا قب لک خود نوہشت ا ہناگر ییاں جاک کا ایک افقتیا سکاٹی ہوگا:

نا نین 0 >ع- ص “0 ظاہر

الد بن کے ساٹ کا غخغروں س ےگل را ایک ٹرتک رھوایا اوراس یل سے خود جچھاشف

و ا ا لات ا

وہ لصاو او رکا غزات الن کے ساس چلا دے گے ۔ جوکاغخرات با مسودات ہے

گئے اوراب انال میو زی مکی ز بیفت ہیں میرے والد کے اپ ی کانحزات میں سے

دی میں جواننہوں نے بر ات خو دفو ظا رکنے کے فا بل تھے _٣ا‏

7:7 روف نے اناشفقی مقالہ ۱۹۸۸ء می عم لک ریا تھا نس بر۱۹۹۰ءش ڈگکری دی گئی۔اس کے بعداتپال کے جو با تا تیشعرمنظرعام پآ ےی بھی ا کات مس شائ نکیا کیا کن بین زار اروف فی خر خی ارز تی ری ارت کی ضا یلا می نکیفطرسے وکنا سے اس کے باودجود ہی لو کر نا مکل ےکر. ایا شع کے زرنظر - ذیرے میں عید اضا ینمی ن نہیں 7 سے ججھ تۓے غفہ ہمارے ساتے؟ تے جا میں اورااس ط رع با قیات شع راتا لکا رذ تر ءمرید باثردوت ہہوت چلا جائے 7 2- ي طورء ھی برق لی 0 مرعل شوقی یہ ہو ہے ۳ ہل

کلمیات باقات شعراقال 2 دی

رن

عای روداد امن ایت اسلام ++1۹ء ری ۳۹ باقیات اقبال ص۸ ۵2ش سم ۱۹۸ء) ایضا ۲۵۱ اف باتک درا مخ ردق اتال میو زگ لاہور اقبال نامہ جلداو ل٦‏ ربقا قحلا تسرود رف مت لام رسول مہرسے اخ ذکیگئی ہیں - وکھیے اصالاحات اقبال از نشی ران سنوی با ارمفان جماز ہھخزروترا تال میو زگ لا ہور اقبال نام ال ش۲۳٣۳‏ مظلوم اقبال از ائازار ض٠٣‏ مشممول:ونزا لام انے ار دوہ اتنس جنشیاب پو زی اوکاٹ لاخ ااہور- اپنا کریبان چاگ از جاویداقال :شا جکردو سکیل بیشن ا ہوں٦٠۲۰ء‏

ضط

رن

کلیات با یا شعراقال 2 وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء)

دور اڑل کا کلام

( ۱۸۹۳ء۰ ۱۹۰۸ء)

ایوہ قحوت

لے مل مت رنتٹیں میں ہے جزوی مترویات عمل منریی غرزفیں غزلوں کے بجزوی متروکات عمل قطعات رر باعیات

۲

دور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء)

کلیات با یا شعراقال ۲۹ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

عھمل منریرنشمیں

مشبور ناب یئل ہے ہا مندی چچڑ وا ہعری 7 وہ دای و کی تن یں ال کی یت ساری آپ کی بیت الا سے کم نیں کے رت اکروہاں شع خالی آپ یی یں الب گی 2 وہ اے کے معن یت تضور گر راد و ال آپ راہ انی بھوڑ کر گے رین کی راہ سے ے گر پاو الف نفہ خالی ای ان یں کو فصل گل کی وا ون پھول' کے ہر طرف جوئی سے سعدی گل فا ی آپ کی

کہ

کلیات با قیات شعراتال دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

آپ کے اشعار عوئی ہیں گمر پا کے اق

موی ا کے ا ا ا کی وت ا کک ون ات کے منہ ےکی

جان سے ٹک 1 می سے مبزانی آپ کا ہ رطف سے آ رتی سے ہیں جھ ڈر ڈرگی صرا

پا گی بل می کو مرفثالل آپ کی آپ سے بڑ ھکر عروۓ؟ ول دا بن نین

واۃ صاحب شر ا ی بشعدا یل آپ کی نا کک بم جا ٹک یہ جات کہد نے ہیں آن

تن کی یگ سی جب اھر سے می پڑیں ےآ پکو ساجن کے مُول

اف کین ال ای کی ا ا ای مان اکٹ اک

پھر نل جاۓ گی سر سے شر انی آپ کی دن اور ایماں کیا م میں واہ نمرہ دے دا

9 و

حضرت شیطاں کر فت سائھا لی آپ کا

لات پاقات شعرا تال دوراؤ لک کلام (۳۰۱۸۹۳ ۱۹۰۸ء) شجار آنری اک آت ے شیطان کی رض نے تیآ کے کیاکی کیپ کی ال تن و انا ید کر ہو گیا یم کو یقیں غامت سے آ ی آپ

کھھواروں کا وی ون تی ںی سے مفت ران کے ھن ےکی صور تکیوں مہ جاتے ہیں آپ لی عالم نے تھی ہج وس چا ی آپ کی لے پل ہیں نہ ہو پل رکیا کرو گے اس گھڑی جب خر لوے گم تر سمل آپ کی بات رہ عانیٰ سے دنا ش ء کی رہتا وت آپ کو نام کرے گی بے زا یل آپ گا قوم عیعائی کے بھائی من سے گڑی برل راو یا امج ہی اہ ڈامخئش بے مرادے موت 20 عراد ےگوہ ۴س مت ہے توف اغ۔ آ تنبقن نما - مولوکی تراب کی (۱۹۱۳ء) لوٹ :- مندرجہ پالا جواش ظم میں موجود ہیں ۔قرحن ان سےکہ بی جواشی علامہ اقال نے خو وکیے- ت

کلیات با یا ےشعراقال ۳٣‏ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

فلاب وم

اقبال نے رینظم فروری ۱۸۹۷ء میں ا نمشمیکی مسلمانان لاہور کے ایک اجلاس میں بننع کی -

کیا تھا گرش لام نے گے مزیں

بن میں جان شی جیے شس میں صر زوں بڑھائی فوجچ ؛لم کی بوئی تھی بھ لی

لم خوتقی کا مرے ول می ہو گیا تھا گگوں یا اق دی یت تی کی فو بن نے

ا یں نے ا ا ون رک ما کن

بنا ہوا تھا ما ہب رخ صر کاوں زبکہ حم نے ہیں کیا ہوا تھا سے

کی یکیو طض ار ےون جو ساس شی مرے قو مکی ری حالت

نع می کون یت نون ا نین یر نین تی یی کو اض کی

کہ میت قوم گا اصلاع کے ہوۓ موڑوں

ایا ۓعراتال ۳٣‏ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

0 کو و کت

سن کا یک تی رت ای مین غیار ول میس ج تھا یھ فلک کی جاب سے

و مر ویر 6 رفرت ناوت شر تی اکن ان وق جم

و کی اہ جآ کا ا واژوں

مر ور ہلال زا کی و کا ا این ہروں

اوا جہ پھر بھی ہو شر خداۓ ‏ "کن فیوں شال خات کر ری سو زائن وین

پر غۓ ہو زین رو اشن اور ے ون وج

292 ا وہ ما موا کی دروںل ب کیا خوقی سے کہ دل خد ود سے کتا سے

جا مس او وی رع مرن ئن و ہے کےا ا ان نے ال را ے ال وع یں

ٴ

کلیات با یا شعراقال رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

گرم سے اس ہے وہ صورت غلاب کی لی

کہ معن فقوم ہر اک شر سے ہو گیا معتوں اک ات ہن کت ار

مج کے ہیں تی پال گید گرروں! برغ خقل کو رش گیا ے فلت میں

مارے اتھ میں آ جاے گا ون عزا 3 جب ےکہ ہم خود دکھائمیں جج کر کے

ج رد سے ہہ میں ہوتا سے غیر کا مموں وک کی یق جا رت

بھی نب ہو ز رم جز آڑھیاۓ میں اق نار ان کی نآ یکن کے

وجود اس کا ہے قصر قوم. مل ستوں رما ہے گھ سے سے یا رب کہ تاقامت ہو

ہاری وم کا ہر فردر وم روڑ کے لے مدان مم میں چائیں

سوں سے بڑھ کے رے ان کے شہم کا گلگوں چپ ان تا توق ے تر تا سے من جا

ہماری ای وم پ ھک دے یں

کلیات پا یا ےغعراقال ۳۵ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) وکھامیں شم و کا و جٹر ہے اوروں کو زمانے بجھر کے ہہ عاصل کریں علیم وفوں جو جری قوم کا بشن ہو اس زانے میں اسے گی پان نے اخال! صورت مم موں٠‏ ّ شی مگک زین مارج ۱۹۰۹ء ت

20م آہ ! کیا جیے کہ اب پھلو میس اپنا ول نی سو و۴ دے ماف حم تی میں رے بل یں اتی ہی کو ےکر لے نعل کین ائے مس مہ سے ریب مزم سے غانہ ہوں میں گکڑز ےگمڑے جس کے ہو جامیں وہ پیانہ ہوں میں ار صرت غیرت ا وں ہاں 7 پٹ ٹم نیبج زار ہاں ہوے ٤ا‏ رل ما ش مر ضا ففاں ہے ؛ٗ ال بل شا آہاں ہوے ٤‏

کلیات باقیات شع اقال ۳ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) کبیوں نہ وہ لہ سراۓے رک صد فریاد ہو چو ہرود عئرلیپ پ<- ہبادر ہو بی بنثت بڑھا چا گریاں کے لے اب حم ڑضلہ گے پابوس راں ہے سے رت ےن ای ال نان کے سے شن تح یی تو سے انان تھے لے وت قابل حشرت دل شی .رہ یت ان ور غورد بزم طرب جج حر بت نہیں زہ کت شابر آرام 1 صحورت| کی صرت ھازہٗ رشارہٗ راحت وی ات عحثرت بھی ہعاری یرت صر غام سے یی اتال غمبار خاطر آرام نے ے 2 یی ژر ووے ایر کم 00" زلدگی کو فور الفت سے می جج بن نا نے ہے طوان ا سحخم بر خ٢‏ گ٠‏

٭+

-

کلیات پا یا ےغعراقال 2 رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

سے کی مو کم ول عصٴل گی ناکام سے اں نمارے کا مگمر اک یر انام ے اع فان جو نت نان سعادت پورگ تک وٹ دا دلِ 0 و نے رکھا سے سے مماں بی سے بری ناے صسڈاہاں فیاں از وور بر ری“ وی تی رآ اع ا سی نز

٤ه‎

دوقی کو آ آر ریتراراں راچ ٔد ای ےہ یں 0 1ون شقن نآ ںاج کی ردان

خرم تی سے لے انی ےوزز طان

2 مل ہے وا سے “تا میں عرمم مج انی قمت کم ے رو صورتں آیم گے

٦ لی دای پر ۴ سے ز بس تم ے‎ اں ڈو دے اے طط دیہ مم ھے‎

کلیات پا یا ےغعراقال ۳۸ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

فن ا ران رتا وق تن کے کن ؤ٤‏ با ےت اع شی کے جن

سا رمعت ے ڑْوٴ یا نع دامای پا

0 را سے وایی ام میں تو مل خر کت رت

ار پا و و و

فع سوز الم و اور بھی ببڑکا گی م کے بے میرے خی میں وم شمخیر ے مق ا ہکات موی یں ہے شش صرصر سے سے اے بر جوا ی زی اور تر کے بن سے سے ساری ہہ طفالی زی کوم و درا سے سے تائم ان سلطا ی ری اور شعاغ پر سے سے خندہ بغالل زی

کلیات پا قاےشعراقچال ۳۹ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 2 عالم میں میں موجود ساز ےئ ہو گی پھر کییں شی صید باز بے می 2 سکم ے مصؤر خُر 1 کا ماں اور نیہ مکل خھیں اے بث بی ٹخاں بج کم خر میں بک تیر پر گراں 0 وی سرت 7 اع صرت کا تک بپولدہ ے دو ہاں کو چھپانے کے سے اک دہ ے

٠

اے فرانی رفتاں نے بے گیا با دا درو بیاں کی غلش مو اور بھی یکا دا زی ون ور پاگوں کے یا ا کر 7 ۱ ا سام +۳٣٠٠۷١۶۶۷6‏ 6 + 09 مر ٤‏ 8 آمد لے 3 لنشین رب ارم ہو نہ موی '"‌"ءھ2]) آواز ٹم اک اہ تج ےرود رجہ

-

کلیات با یا غعراقال ۴ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) کا و و ین یی ا وی ین نان کک مق مو چجا حق ہیں ہ رکھڑی اے ول نہ ہیں اٹگوں کا ما چا ہے داستال بی ہو وا سلۓ وا جا ہے ہک کی اق ات ا ا ہیں س کوکح| ,ئ٠ ٤‏ پے

لے ددگار تیانع اے پاہ کر سان ا ا ان ا کے ات نے کا کت کاروالں طبر گل کا ہو مل ے ہیاںل کے آیا ہیں میں اپے درو وئم کی دا ال سے تری ات مارک علی ضکل سے لے ام سے ما خا ؟ئکنے ہوۓ رل سے لیے تییوں یح تاب ور ان وی خسن ان ولوں جس طاقت ضا ففاں ہولی ت٠یں‏ کون وہ آفت سے ج رین بیاں ہولی ت٠یں‏ لک شی سے کہ موی زہاں ٣ھ‏

-

کلیات پا ات شعراتّال 2 رو اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) میری صورت ہی کا ی سے ول ن شا کی سے وق بھی مری سانل تی اعاد کی 7 میس طراز مر کتڑے کت لٍ تر و اے ور عم و مت قل امت سے لو اے ضیاۓ مم امال ڑمپ ہر محت جن ا

1 -

درد جج انماں کا تھا وہ ترے پپہلو سے اٹھا قلرم جثل مت ترے ٢نو‏ سے ٹا آپ کی فھ نہ مجاان مت کا ے ڑ جس کے ہرقطرے میں سوموٹی ہوں وہ دریا سے تو طور بر خئم کیم ال مک کا رت و

و وی ات سو دا شی اس نے پپچانا نہ تی ذات پر اوار کو وت فا مت

۰٣‏ و۹ و نان از در شیریں 2 از یڑ ے لو

وےہ

ہہ

0

٦.

: ہج

ت

ے۶

ه: ت

-

کلیات با یا ےشعراقال . رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) زیب صن مفل بشریف علم تق ہا جی مور گرچ آھ پر سم ق ہا ٠‏ اب کی 0 5+ سر ٭٭٭ 5 و 0 و رک ٹرے ساۓ سے سور ۔ویدة الاک سے کیا کت مین جن کو تجھرنے و رکی' غاآ جے نینج نظارے کم می اق مقرور ے و ظمبور معلن تا ی“ گموۓ اوج طور سے وو گی جک میں وقت درە دبقان ہ نے ۔ ای کے مماناآن ون ماان کا ا

وه پتاو می شی وہ دای مار ۱7ا

وو حصار عافت وم سللہ فاران کا و ا ا ا کا

کلیات با یا شعراقال سی رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

ٹر ای سے جی آماں سا ہو گی س9 ںيم باب عم ول بے گنی خ٠‏ قرت میں ہاں ان بیراد کا لوم کرت کام بوتا ے ول نشاد کا آ گرا ہوں ترے ور ء وشت ے اراد کا انی چابے بلہ مق أفاد کا ]نہ مکنا تھا زاں بک سے می کا اتا جعد مجن بے می شی نے ىا حم ذرا بے جلج دل کیا صدا آ لی سے ےی لب آب پش میں ٴ شرالیل ے

ول کو سوز مشق کی نشی ےگرالی سے سے رو مگ ید لی یع بای سے ےی

اں ادوپ اے ول ! بڑھا اعزاز مشت ناک کا شش خاطب ہیں جناب سر ولاک کا اے مرقار خی اے ہر پر ئ؛

اس

تھے سے سے آرام پان سم خر للا

ا کی نے یی یں تھے پچ ای تم ےج سے ول گ٠‏ جا ٹلا درو و الم

کلیات پا یا ےقعراقال ۴" رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) تی بے ساائیوں سے کیوں نہ مرا ول مہ شی ا لی سے تح کو بے نوا سے ہوے

و ا و ول نھیں پپہلو مس ء تیر ےم کا عحثرت خانہ سے نع یا ا ضر 0 تیم جاۓ جس سے ٹفرحت وہ نا کاشانہ سے تام یھ انت ظارے و ‏ اقات کے کی اک نے خونں زواجۓ سے تما دید؟ گریاں مے کیوں نظر ۶ سے و رین شم پاں جے کیوں نظر ٣٢‏ سے ترا عال بے ساماں جے ون نظ مات وش ین نے ان سے راک 6 کیا جہاں مس ناشتای نا محثر میں شس طرب جھ سے نبوت مم ں کوئی بی ھک رنتیں کی یت :نے حفینت جنژ نول پان ھک رین ماق بن ین وی نک رین بم ملمانوں سے غیرت مم ںکوئی بد کر ننئیں

کلیات با یا ےغعراقال ۵" رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) بیودل و جاں سے غداکے نام پرفربان ڈیں ہوں فرش بھی فدا جن پہ ہیدہ انسان میں ائن اہر میں اک اہ ابام ہے ماع ون ا ان کے ام رن یق یک میق جو ا سے بس کا ارہ عراد حم خاحٴش و عام ہے مم ہیں عاشی مرے سب ہند اور یناب کے وہاں جا کر مر اث ت کہ نے پام دے جا کے میں کہنا کہ ء گن اے گاہانۓے با غ مصطفی"

٭+ھ

حم سے بگخد نہ ہو جا زانے کی ہوا و690 مو رت رق صد ایر ہوی سے تیھوں کی دما بے وہ چادو ےن جن سے دب مہا ں دور و 7 سے من سے در و مصیاںل دور ہو یہ دعا میدان ٹر میں بڑی کام آے گی خر خان کری سے گے بلواۓ گی ینعی ا کے ںا کی جو نہ موی نے تھی ویکھا تھا ءتکہھیں دکھاا ئۓ گی

کلیات با قات شعر اتال ٦م‏ دور از لک کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) نس طرح ہج کو شمی رکر بلا سے جن تا یکو رت ہے ہالے

جن میں انی سرک بے کو ا جاپے

"٭٭

افقد خر ا کڑ دکھانا جاپے

بش حم سے تھوں کم بچڑان جاہے و و

پاپ وت جرئخ سن چنا ےک صیر شای شی کا پھڑکتا ایر ے فیک ج س کی ول میں چچجتی ہو وہ کاٹا اور ے

عّے ت٠اں‏ ین ک ماوا ایر سے برو آزار مصضصیبت کا “سيا ایر سے

پل می سے یں نے ن اسلام کی کہ ری سے ال دل سے ابا اسعلام گی ے خُھوں پر حخابیت انا اسلام کی

ٴ

کلیات با قیات شع اتال

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

تم اگ ر بجھو تو يہ سو بات کا اک بات سے آیرو ری یی :گی فا کے ات سےا

- رودادانن پاہت ۱۹۰۰ءگل ٣۰‏

غراحافظ می وب عم کت ورپ روانہ ہہونے پہ

لج عاضر سے

۶ یآ ٴ تم 7

سے پورپ ہے ہہ راہ پر آکھ اٹی سے اکب خوئیں سے ان اتک کن ۳ اتے ظں جات کے ٹر اناں کا سے ماش کمال رر وت موقحع بر ددیا می ہیں بزار مزے و,ۃ سر ام ھر کی موس وو نر باط کی صورت اور وہ چاندل کہ تر تے دی تر آپ نے ىا کیا ناگاہ

ویتوں کا فراقی اتل سے آکھ یس ہیں ہیں رواں لن جاے اور پھر کے آ سے گم اس رح راہ آکھھ دی گی بذم اراں رہ ے گی میں ناسل سک ور دی اجاب فی اناں ے اں وی گناو سے ابی

دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) درد انا صحورت رر

ہیں موژن کو انظار حر تی چپ جاپ شا مکو ہوں تر ئل یا جھ رل میں تا طمر اون کے ا اور یز و و

نت کو ان و بی نف رآ پکو مبارک ہو

آ1 و ےت درہالی گناو کیا کے ین جو لیف اخبار کا ا رت ہے ع رضت وو گرم ہی یت ین ا نے ان اپ سے الا کہ لی امان اللہ دیق ھا یا ۲ ات عم ة اب ہو گر ہو نہ موب ے جدا لی

چم اجاب ٹم سے مب رآکی کیج دی جے چاز کو ت7 ۳ چیپ سے ھو فا نکی لن عق جن ہے ال رق انی لال خر ری ے اب گوباٹی شر میں بھی 930 - صببائی ”بسلامت روی و پاز 77 کہ یں حطاقتب “یئ ی اے رک چان عالم ہَرالٗ'

ابی ٹا کی عایت ہو ا کر پت فا قب کر کی سے شع رگوئی سے شعر سے پھاگتا ہوں می ںکوسوں اٴں چے وانا کن ء گند نادال

وور ال کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) درو فرقت سے پان گب رای ول سے اٹ کہ وہ خفا پل ا 9 ا نکی مت پڑی نہ اک پل ے ں ےپ ور اور میں عیسائی یک بعد اڑ زار روا“

دنن نکی رے دعا حافظ

ہو سفر میں را غراحافظ

مولوی محروب عا لم ا مشہورفلنی وورطبیب لی ہین

۳- ہروورفھ -۶ض۸۳

تَّ اش خوں

اے آہ آج بق مس کفسار ہو

ا حر من ہے مرے ک٘ یج ے پار و ا اگ یں کات وی خسن اج حر روں ء ‏ پاز اگل کم شیار ہو

ااے دای

یھ در یر٥‏

حات ۔ھ

ان آيٗ نمپ بدة ںنغابہ پار ہو

ایا یشعراچال ۵۰ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء) ڈعویڑتے ائلل ناگہاں کو جم اں اے حات خفخر ناہوں میں خوار ہو اے اضری کے جاح گرییاں کو چاک کر

اے سریيی حطلاے سی سوار ہو لے بل گر طض ٹضش 6 نزاق ے

مرمو ین 0 4 روزگار و

:٠٦ : ۰

کے تا تر رہ کی لی ای ےج

ےت ال کو ان تن ان ا و

: 5 7 ۱

+9۸

کلیات پا یا ےغعراقال ۵۱ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء)

کت ظ میں ۳ 7 گے وا و ۷ و و رو و جحم اپنے لب سے ماگ کے درتتے ہیں مم جے بای گر ے ة ئک غ کت را سور اٹم م گے اں اے شعاغٗ او غپ ال طب بل جات سے جر مان حم سے

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

نام میں رکھا ہوا سے کیا ون جا تا یم کے

کت 0 آج عید ہوئی سے ء ہوا کھرے اس عید سے و موت می آۓ خداکمرے

سم خربان ترے اے ح روزگار 01 آگھوں میں ہرگمہ تھی جوئی اتک بادآ کی ار تا ٹر کی بج ہو نے گی آخار آؾ وی کا ت و ر گیا سے کہ ول کا قرار ھی س٦‏ "لئے سوز الم نے ہاں کو ملایا سے ىس طرع کون دل سے اشتے ہیں ٹم سے ار جع اکامیوں نے اس و سا دی وہ کیا خر انید ہل میں بی ے پان وار آؾ

کلیات با یا ےغعراقال ۵۳ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) اںل اے دلٰ یں اللوں کا ور رر

س٦"‏ "۶" تہ

نووا مد وی پڑھردہ ہو گی 5 بی افی

خیں رو ری ے بای جہاں مم بہار آن ٥٥‏ یپ9پی)),+ ۶9999۹9

ام تن بین دل دافرار ٣ى‏ ا ا کی ا ا ا ا

رنصت ہوئی بچان ے وہ ماجردار آ

فراں نہ ہو ولوں پہ تر ان شبی نیں

نے کم جج کوئی نثان شی میں

ز۸ پیارم 7۳٦‏ ای ہت ٹاو تانق تا و

ابی ہے سے کہ آگھ میں آضو ہوں اور کے ٰ ء۶ ۰

کلیات با یا ےغعراقال ۵۳ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) 0 ۹ نت بے تابیاں جھ اور کی ہوں اپنے ول مں ہوں جو ورد اور کا ہو وہ اپے گر میں ہو مور ہو ات حبت سے پا مل جو ول میں ہو نہاں وہ نمایاں نظر میں ہو بس بات ہو ء صا ہو پ تل کی زی کی عراو ول جار ین ہو مم میرلں کے سارے کی 7 ماگے ہہاں عو و مروت ‏ ظر مں شرت کے آسان پہ رشن ہو اس طرئ ہو پر میں وو ور نہ وم فو ق٠ر‏ میں ہو

فان ہوں ولوں کی ولایت میں ا طر جس طرب ور رشیے جار نظر میں اے ند جی چاجے وا ی گزر گی ون وھ ا رای تا تی

۰

کلیات با یا ےشعراقال ۵ھ دو اڑ لکا گلام ( ۱۸۹۳ء٠‏ ۱۹۰۸ء)

کا کے و

وی تح جن سے مفونون کی تی گی نہیں رواں ہیں خون کی چم جاب سے

تی تن یی کی درو ال کی جاک بھی کی خغضب کی شی

گخنڑری جو ول کے گییں کی شی .گی ات وف تعجریۓ می رکا آاھھا ما ا

و کی 2 دے پر ج ضلی نویں کی شی ول

تیرے گھروں کی بردہ نٹینوں کی شی گی ہو نا 01 خواتقین ہر م

ا یی و اب پار آج ہو اے جم سلطنت

7 9 صْى 2۶۰ سے سال خرن ا فو بی سم نے نے کیا کیا

یر رت ان یی تی ری

کلیات با یا ےغعراقال ۵٦‏ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

و -ررق یھ نے سی ماک کان 7- رین جات دلیکون کی تی گی ہف ہا ے ہي سلظن ردزگار ٰئی۰ کت فقوت ہیا ضا عبات ان کا خام ہے صرے ہوٹس پر خرء وفات ال کا نام سے

صد یکا پہلاعال

جایںٰ غزار آ کے میں اک گی ون 9“ 9 )

روز طریت بماں گل نہ 2 ٌ لے روزگًار ھ2 ڑی تج

"0 ٦ وز کر رہ گوفوھ ہک‎

4

۹

کلیات با یا ےغعراقال ے۵ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) نعد تغ جغ بای کاطا ان را تو رت یی تن وت تی ائم ھی وو دا کہ برار٥ن:‏ یں اک سے و اتا پک تن لال اق یت لی یی نا وی اك . کر کو کیک گی کی کی ان کی ٦‏ و او ری نشی سے تھا بھی بک گی لے ورو ٢‏ مرےے مرن پان کی گر 2 یک ہواۓے سس نے یچک گی اک وو ان را کے کے نم م بھی نھیں سے مامھ جو می کک گی ہ رآگھ ء دی پہ رینش طوفاں نھادہ ے ات

کلیات با یا ےشعراقال ۵۸ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

ا کت ہو گیا ے زار گر تسا

0 و جن تن ا ا کی تن ین

پیل کو یرت چنتاں سے ہوے آلیں ہوں شعر زبد٤خیں‏ پار ےۓ گمر لا

آوزوہ عان لوت اور کے نے ہر زئم مل کم اخ خاقن بج میں

بے ہیں سب زوقی معملراں بے ہوۓ کت حج وھ

وہر کو راز ,+۶ ۰۳ھ

کے نے خرن وہ خاق کی کون کو ان نت نے از فان سی نز

-

ایا شعراتال ۵۹ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) مطاعے لو آي گے مل ہے مم نے رہ

ساان کر رگ طخ ناں کے ہوۓے یں یضاق ا

ا ا2ک یا کے نے

آم چو سو ور پإٌنى روزگار بائر

ایں مصرع بلند ز من یاد گار ماند

بشیتہ نشم کیا مزلم کو برا شس گا ن٠‏ رت لی وی زان جن تنا آج: انج 2 ڑے ران جائوں میں اڑا ہوا تھا شر مرے ول ا١ء‏ مس گیا ہو ہو کے بزے ار ٹم سی سوز سے ایا ا سے مر 0291 مت این ے ان نے از نشین سیا ات وو ابر گوئر قرب ے شخطہ ری

ہم

مضرقی سے بڑھ کے بط سے ۲ گر ہیں گیا

کلیات با یا ےشعراقال ٦٦‏ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) صدمہ پڑا وہ آ کے کہ ٹوٹا ے بد بد یا مر روع۔:۔ لوک آتا اش و ۰لا وہ ہار و تا ن ٌ سے ا 270

اس

اے روز تو پھاڑ تھا پا ئحم کا روز تا دن من کے و بڑھا تھا یہ ہوککر بیں گیا کن سم سے اسے اے موم تم یج نع کو کان ین نے رن یی و کل جک کا نین نی یا ش3 وا ان نشین بک گی وفات نا ے ہر بںق اہ اش جات کا

.7 ظم کے باعث دن ء سال کے برا بر ہہوگیا

1 ہت یں ا کو رت

ت پایاۓغعراچّال ٦‏ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

اگی شی بحم نے بج اعل سے لے وا

فت ےد تا کا و ان کین وا ری

ان ان کی ےو تین وی شی جن کی ان سے بویروں کا آیرہ

روا ان گوس دانع سے فو فی ات رق و و کت و کین از

دیکھا سے اس فغر کا کل اجور کہیں؟ نے میں تھ و وش سار کی لم

وو کہ و وہ زی کو جع خارتے اشن فو تا

کنا ہیں بھی ؟ نے جھ ایا نظر ہیں 7 تہ تر مت

٢ھ"‏ ْ ٭۷ً٭۹ٌََی۷‪ٌ9۹ھ") یا سی پر بر ہاں ک فک ار سے

٣٣٥سبس‏ ؤٴٗٴ صورت تری سے ا گر سوز کی طرح

ناو و ا 2جق نظ کین

کلیات با یا ےڈعراال ٣ك‏ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

ا کے نع ہن خ نی ہے رونا ای کا ے زی گی ج٘س سے تچ کو ء جنازا ای کا سے

بنا دم

پغام غاد سطنيا مل پاد پاء بے

فرصت یر رو گھڑی نف شعل پار دے زور جنوں میں جاۓ جو رش عم و دل

ف1 2 5 جِاممٗ یی اجار ودے چھو سے حم کی آگ نے پان نار کو

م کو تسلیاں دلل آ شف ار دے شن اون نا زا ان سی

صراں زار گر دورال و دے از تج ہیں صورریں حرف یں وہ نام

شہرت مان گی پروردگار دے 7 تھرر 5 ام کو راغ

ے زندگی سی جے پروردگار دے اق ری .یی مہ

انز حخاق زاون تع اد تتے

-

کلیات با یا ےشعراقال ۳٣‏ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

بہ نہر اددگا ٦1‏ ہیں بادگار دے

سر

و رھ وٗڈ مل شلي بی وھ پادا بے شمردںم کر گھئی سے جم پاو زاں ے صر لو بہار از 2 روزگار دے رم کے نیب وب مجزل ہو پتھوں میں ابے وشن عبر مل ہو

پنفلٹ شائججکرددشخ مر عامء لا ہور (۱۹۰۱ء)

اے مب معید بے تاب سے فو کم فشد کا جاب ے ظط

2 ا سن مو پا ای تا ای اک

ٴ

لے ان رو سور لور نی لک ایا گے ۲ اے جاب خی خی پاز ‏ نیاعبت صع کا اب ے ٍ

وچ اسلام کا ہاں ڑ ے یم لی نے جن تھے ھا لن رن کے

کت ای کو یک نت

تو" کسر غزال خاری لت اف زاۓ شور لی

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

نا خو ات لاوز وا زنے لو

پنَار دوم

کک

پاز مب و تا پام طرب سٹو ں کو کیہ دا سے پلال

شا ناک

ویر یش کی خی سے کل رم عیدر کی کر سے کل بن یئ کی امید یض یی نت نے نے تل سے شنیر نج تعم دی ےکل انان ون و ےکن ہاتھ لانا اور کہ عید سے کل

او میاں شب مر عید سے کل

کلیات با قیات شع اتال

اک لیے

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

میری عریاں تی کی عید ے کل

5 و و

اھ "نے شعاں ور ہہ پر پر ظرے تی يہ دکھادا سے سب ماش مال بڑھ گیا ُ مرے مر کا

ےگ ر ےہک

باغر پاده لال سے ظط کہ مارا لپ ال ے ڑْٴ ان عاش ال ے ڈ

ہہ شی کے سوال کے می

کیا تاوں گے کک کیا ہویں میں کت نان ان

جح گی باغیاں ہیں میں ژسار اي یق ہیں روۓ از تر ار میں طاقب رن پ 1, منزل میں نھیبوں میں اپ بے ماگ پ ناڈاں ہیں اے ملک خوان نعدگی بہ گر مح ندہا سے متا ہیں ار اں کو وج

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

شر آہر زاں ہیں میں ا ماکح فان ون کہ سراپا لپ فقاں ہیں میں کس مصییب تکی داستاں ہوں میں موچ“ گرو کارواں ہوں من مفت جاما ہوں ؛کیاگ٠راں‏ ہوں میں کوئی نا خوائدہ میہاں ہوں میں آسمال کا مزا داں ہوں میں

اک مۓ شب رکا نئاں ہوں میں

ابی قمتکٴی کی ہوئی ے آ, ری اث کو رولیٰ ے

آرزڑو ۔ ہو دل و ضشرت سوزن رو دل میں

وور ال کا کلام (۱۸۹۳ء:ا ۱۹۰۸ء) یی پھرکی سے کرزہ دی میں کیا ری تی آبرو ول میں ہے کوئی پچ نن تھ ول مش ہے جھ ہول نو ول تن خون اتید کی سے بو ول مں ری تر ین

صرصق میں خام انی سے سمٌگ بنا مماے بای

ے اے سیوۓ سے تی اے شام و ڑے ے ری للا ی ے وت ا می تر مق میں تو سی ے مس وی سے اڑرے ہیں طییر ‏ رو آئاں مھا یل سے ۶3٣‏ رت تا ے ٢ج‏ دے ےج ےتػے کہ

کلیات باقیات شع راقال 29 در 1 ے ل شاب یام

7 سر

وفات ‏ پیدارٔ

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

خر کی ملق بای ے و 2۲ھ

ون ےک اع می کی نے

شی ات و تی میری ظز ہو گی اخ

نشم

رو ات رت رن کن دو زنننل تھے سں ہروں وہ خنگش کہ ڈرتا رہتا ہیں ٹم مت نی مم سے یت دل مں سے پک لی زین تن کک جا جو ا اک ا ا کے ا

ا ہب حال سے پا

مو بی جارنے لی :نہیں ) چھوڑ رے ہج ھکو می نہ کہیں وت کا ین 79 مو٥ت‏ ہو میری زنمدگی نہ کہیں ×× و 1 نفد کی می ین ہو رک چان لی رن

کلیات باقیات شعراال ۷۹ وور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

اب بر زندگی ہوا

کھڑے گرے مرا سفیں ہوا

27

ا ںان ا ےم کی ات یں کے جانا صی کا وہ گحھم سے اود دہ رونا کہ ہم بھی جائمیں کے تع ین کی ا کس تی کی ا تا ان س7 0 نوا ا ای ضلنے وائے گزر جھے اے ول )بے گھوے سے سا اٹٹھ گے آہ قر ہاں اۓ کو کے تی کے جا جن درو ول کی نزہاں فالی سے -ستشچ کو ے نشی سعھعامیں کے تن فی کے ا و ار روک ا ےنت ا ین کے ےن ان ںا ان اک زان سی

پر کم چائد آشار ہوا جی رم کا شر کے پار ہوا

آآو کن تو لفن کے 7- ئٌَٰٔ۳ھ.ھ٭۶ ا لن خی و جال خی پھول ایا سے اب جم مم یں گلنتاں میں آشیان ے مر جس سے جار مصییت کو خرن امیر سے یہ الک یں نا ۳ھ" اے ملک کیوں زیںس سے بس رلیں؟

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

گیا روال ت ا ئم رو اکم و ا یر رو زم

2 ام اہ بام ملک پا ہیں تم کس بھلددے میم نم ہے ا وت یک میری بہادییں کو تر کم ے؟

خات

ہے ج ول یش نہاں >کریں کیو ںکر 0 بس کو و

ےا فو وی ا

٠

۰رہ روزی کا سے بھی 2 مدار

ہد ا

وت ا کو وج شور آواز چاکی بائن

اے

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

دہر میں ایک سامنا ے 7

ہیں جہا ںکوخھوں کے نار پپند اں چن کو یں بہار پند

بر از دم

گی خار غاد سے دنا 20 ہے حم جہاں خاں پید ڈو میتی سے اک نہ اک پہلو 90۳0 3 رت ت

حون روتا کی کے منرل کا

مہوت کم انظار ے 2 کو بہار سے درد 1 21 گار رے

قلے مار ے

7 را رن وس از ے

-

کلیات باقیات شع اتال جان ۳ سے جھ اں یی إاں و امیر کا ادا ے

خنرہ زن ے فلک زدوں پہ جہاں

وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء)

وولرتے رو٠‏ اھ بھکیا کوئی ال ی بہار سے دنا

2 یی راز وار ے دا

بل دا و مب ما و

پر وواز 2

کیا قامت ہیں ٹم کے 7 نمو بھی یک مگاں ہے نشز رگ اک دی بپھوٹی زہاں میں کہتا سے

7

سونٹی اب مم سے برق مہ

بڑھتا جات سے ور پپہلو تی یں فشاں ہو رسے ہیں آ نس وی ری اوال ء ور پہلو تھی مل گیا سز پ ج کی خواب کا اک خیال سے و بھی اع ارت اکن دی کو کے ہیں درو پلو تھی یر کا چاند ہو گیا نو ھی میرے صل کی آبرو و بھی

دو را ل کا کلام ( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

عیر کا چاند اتطراب بنا طائی ہت 'ئ'ظلہِ عذاب بنا

بند بی دم

تع ات نے کی ا کے نے پاے ے خود کیا تصور نے سے مدق مر شی بے اے خال پا اب اف رو رت لے شی فادگی یں کر لپ اظہار وا ہوا و دہ ریو لے شلع لی کا زدگی کیا بی کو تتے ہیں

آسماں من گمیا سنا کے بے ٦‏ 0 ک"ه" وت کوئی فقشہ دکھا رکھا کے بے و ان سے کیا ا کے نے را ک کر دے جلا جلا کے گے تھوڑنا خاک میں ملا کے سے حر ات ا کے جن کارواں نے جے اٹھا کے بے کہ عڑے مل سے نا کے جھے

عو تا ہے جب بہ روتے ہیں کیا یں کے اک ہوتے ہیں

رشن ت6" ْ ٰ0 تا ئ۲" ا

َْ راو نا میں اڑل ے وہ بھی ہہوتے ہیں اے خدا کوٹ اس رح کی سے واستاں ای جم نہ بویش تو خامشی کہ دے

ہو و وت

جا بے یا ہق 6 اے رل

دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء: ۱۹۰۸ء)

پچھیاتے ٌ کی و ا ات

بات باقیات شع اتال

انڑ کے سے رن عاش زرد عال مل کا خا دا سادا سے اقامت طلب جداد مرا اھ اے فھخ ہاں م١‏ عال انا اگمر ے نہ یں صورتے 1 عائنۂ مفلں کر ضط کا نہیں پارا

(۸ھ

دو را ل کا کلام ( ۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء)

کس مصییب تکی داستاں کے لیے بج ھھی درکھا نہ رازداں کے لیے وم ہو خفر اس مکاں کے لیے ا رھ ان او یا انت ان نے زامشی سے مری زہاں کے لیے کت ان کک

درد شخواہ ےکسو ں کی امی راہ ے توم

ت : بیس اور میرم لوم

ہو چا اے وم تا آشیاں برباد اب

سے زندگی کا سے زی داان صیاد اب

اے ری قوم از مس مجرے اٹھا5ں کا

گل زار کھاوّؤں گا اور گل کكھزاؤں گا کین نے گی اک مل کے جوا

نیت“ یی بجع فان جخناآن س؟ ازنائؤن نیا

کلیات پا یا شعراقال ٦ے‏ روب اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء ۱۹۰۸ء)

0 , و سے

لے کو یل کھوں گا پہ جوہر دھاؤں کا رکع ا کی ا یت کی کین

وت ا تک پاکوں دپاّں گا

سس

؛‎ 79٦

وت نے کرک تن ےی او تھا گی حر مھ نت صور مرافل کی طرئ الیں سے ابے ویش محثر پاؤں کا

ای ا سن نک وت ا نک کا چروں گا وہ و شت ٠‏ یہاں ہلاوٗں گا مین انال مزپً دا دکھاؤں گا ثشق کی زنگی سے و خال د ینا ایں ری بر 7 تال ظا لاس دش رص کت بر ۱۹۳۱ء 0٦‏

کلیات باقیات شع اتال

وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء)

ے2 ولاو

(خئی ادن فوقی کے ہنت وار اشہار ک یملق جھ ۱۹۰۱ء میس مجاری ہوا تھا-)

می وا اک اخار ے 2 اخار ے لاہور مُں سے روش ان ںی پسع اص و عام خر ے ارت رپوا لت ا7 سطرسطر ا کی مغیر لک وقوم دید کے فائل نہ ہو کیوں ندم فوق' فان تی تا ای ےکن سے تمیارتٴ کا بھی کا مکیا مفیر دہ ”طاکف“ ہی کہ پڑت می تھیں وت دمسٹثلمٹ ضس کا بھی سے بنروبست سے معلل رائے اس اشپاد کی و و ہیں ہحصر دگھیں ور سے

جس سے سارا ہند واقف کار ے نی ا کون ل نے ار ے واہ وا گیا مل اقان نے ان بگانے کا ہر ى بار سے کوٹ ی کہم دے پر شر بے کار سے شع سفن کی اخار ے دہ خاتف کے سے تار سے ینب ئ کا سے ہآزار ے لا ان ول کور وا" بے جب اڑٹر ٹم تا ے اہر ان وگووں کا خود اخبار ے

يہ زیویں تر کفر سے انار ے

-

کات باقیات شع اتال

ین راغ کے قبت سال کی اور پھر انعام میں ناول یں مفت آٹھو یں دن حاضری نے بے کی ما 1 کے ا سگشن کی سیر رن آزادی سے ہرممئمون میں کون سے اس ہاکے بر پے کا مسر یی بجھ سے جب خر ہے ائں کا مر رن وق شوقی ے معموں نوڑسی کا سے گشت کے عالم میس دیکھا تھا سے

مشیر یکزٹہ جون ۱۹۰۳ء

۸ے

تُ

وور ال کا کلام (۱۸۹۳ء تا ۱۹۰۸ء) ایا تا تھی کوئی اخار ے؟ واہ گیا سورا ین کیا تدپار تاج ران غدمت گار شع رک صد گھزار سرو کا لوا بھی وہ دار بات ىہ تھی قا بی اظہار ہہ ما ا چر رشوار عر وی سے مر بشیار 2 ت ا ا گور پار

آ دی ہار وائف کار ےا

ت2 ین کچھوڑریں (رظم انال نے ایک دوس تک فر راگ پر1 ھ وں منٹ می سک ی تی )

سرایا ہوا 5 آ خوش درا پے دی دکھولیس جبابوں نے 1 ھھیں

۹۰ و

ای نار ےکو موجوں يسھ9

-

کات باقیات شع راقال

ابر ء زلف کیگر ٹر ہو خظر م زلف موجوں نے کر اڑاے ابعرسرحمابیں نے سائل سے نچ ہوئی خونفنناں جشم گرداب ای

چو وس حنائی سے دائن تھڑا

میں آگ سے بھی نچتا ہے پا

۹ے

وور ال کا کلام (۱۸۹۳ء:ا ۱۹۰۸ء) بی قاصتء سے عارن یہ سیبن ۷ یہ جومن غحضب ہے پڑے ربزنو لک گی رہن نپا کر جھ الا وہ درا سے پنی کہ ددیا ہوا یرت صن گشن کہامٹش نے اے روش شی رشن بجا سے جو کی گے سامری شن

وا تم میں کی تج روم ہے صعم چچھوڑ دے کم نہمھوڑیں گے داصن

متٹھیریگکزٹ متجبر۹۰۰۱اء

یب

تمرم (لاٹ صاحب اور ڈائرپیٹعلی مکا)

ربچ ٹا

ڈراواں کہ

اضر لے

۶پ :9ء موہ اہر و کک انا ا عفت سے جس کی زان ظم میں سے جار

831 بات

-

ایا شعر اتال ۸۰ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء)

خغا فحبیب وہ گوہر ے آج ت--.>ے

کہ ج٘ س کی ان سے سے آ بروۓ ماع و سے وہ کوزی زب دو نے کو ناب جب عالمہ سے مھ و لات مل کم حر زی عفل ہیں از ے جم کو

جک ری سے میوں مس ہزی سیر رے سے سا سے بے خوف دید عام

کہ مجرے مر کا سے خوب بھی کو تتیر بدل کے ئن سے پاعث ے اصطاب زہپاں

ویو تل نرہ وہ و رر کوئی جو نمور سے یھ تو الین کی سے بہار

س3 لے کون اق کو تر ۶۳ و

بر

او زین لاو رو تنا ہیاک سے کی بصول و مم سسجت یں سے غر اطاعت جمان مش ایر

پ

-7

٦

بک

مد جمانں میں کرت ہیں آپ مم انی

ریپ نل ے یں کن عزاق ے بن ار گھر حفور نے جم پر کیا سے وہ اصاں

کین یوق کے تی و ات لف وو لیک بم ہیں کہ می کو یاد رن ہیں

اق ری یت مات جن ان ہے ین ے مور شار ریں

رہیں جہان میں عقظحت طراز جات و سے جب طرع کا ظارہ سے بی مخل میں

نے جنپ نالان رے فا رر ہوۓ ہیں رق مفخل بناب وم مل

ضیاۓ ہہ ری صورت سے جن گا ہر تیر و تل کی تن سا و ہین وا

اٹحی کی ذات سے عاصل سے ہ رک تر خدا یں تھی زان میں اہ کام رکے

2 2 ف0 قر کے گرد حتارے ہیں بم عاں کیا میں

ےس او ھت

تی تعراچال ۸ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء)

-

کلیات با یا ےشعراقال ۸۲ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) خوشا ‏ یب 27 2 بھمرو حور کے ہماری مم 1 01 بڑھ 0 و بوےے چان میں اثال بن مئیروں کا کہ ان گی ذات عرایا سے عدل کی ضوںا

َ مرن فروری ۱۹۰۲ء

دن دا

دگی 20-۳ جاب ایک دن جانا ھا میں

ور ےت خفرصورت مولوئی صاح بکھڑے تے اک وہاں

بر صلماوں میں ابی مولویٗت عام سے رع کے تے ”کوگی مسلم نہ اگریزی بڑھے

ا ای ا من ا یت ٹس نے بیس گر کیا ا ن کو خاطب اس طرع

ووم

آپ کا ون تھی انی گُرش نام ے

ین ا کی اتی ا لیت کر ےت آپ کے ول میں ج ائی کا انام سے

ایا ۓعراتال ۸۳ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

کف کی تریف میس تتتے ہیں اگریزی سے شرط

رک وو سی یا ای کت تی را ہے

وا گیا کہنا نے کیا ا کیا بعظ ے

پ گا ہر بات گویا کٹ کا آم سے اما ےی دن آپ کان ظط ابی ب و لام کی تقدیر سے کلام سے صلموں کو گھر ریں ہو گر ون پگ ئہ ہو بندہ پور اب و جم چالویں یں نے کے نی آپ کا دی دارییں کا راز طشت ازیام ے

او

پا

کاما ی کیوں ئہ ہو خر پ عاصا دام ے صرتے چاؤں شم پر دنا فیس ریں سے الگ

بیز 9 اک پالی اکام دی کا نام سے بترہە پور ند انی یں سے ہو ول

تظ اب ایا صداۓ می بے ہام سے

اق : 7 4 ت۶ ال 0 دو راو 1 ) ۰۹ ۸ء)

ا اند سے نب بتفوں کی : پر ّ طر سا ۱ ھ804 کت ٠ ۰‏ 2 یر ےا ےت ۲ 0+ جار از ری 7 اور ا ین ا]گ جس . حا پچ لعل کپ ۲( ے - شس ے مد ا گی وں ے ٹل آ1 کت تک ےن ریا کر ۰ آپ کی نریں 7 ۰ حا ور - ۰ ےک ےن فرع واڑے مُں ه: : ہس فر اقاے یا ء بادام سے ٦‏ سی ۳ ہہاں کت جن خیل : : .0 عام ہے ََ دی داروں کا سربے نے گان و قاف و لام ہے

ظ یصو 7 5 1 ہے 7 صر گی 7 ین ٦‏ 2:2 ہے ۔ ہوں 7 تنا

کلیات با یا شعراال ۸۵ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء)

یں ۷ ., کے مات سے شد

آپ کے یم س برک عڑت وا افرتے ام گی الدینی ےک رت ہیں وہ اہیائۓے یں

آپ کا دٹی کتالیں کی اشاعت کام سے شس نے یہ مو یچھا کر ضرت آ پکو فرصت و سے

نم انی سے بح کو اک ذرا سا ام سے دکھ نہ جاے د کمن شا حر کم دل انار ے

بے ۵ہ 32 ے 08 ضس ٠‏ شنام آج کل لوگیں کو سے انار کی عادت بہت

او سس سا تو 7 ہدنام سے

ٰ

ٹس کے فررنے گے پہ ان کا عام سے ابن کاکام گیا سے غلمت الام سے عم کریں اس کام کو سو کام ایۓے تچھوڑ کر آپ کیا بے ہیں حفرت بے بھی کوئی کام چاپ وین ظم کا جھ پر گراں کوئی میں غدمت دیں اپنے دل کو چاںہٴ ا7ام ے ہو اگمر فرصت نہ ہج ھکو اور سے ہوا کے ووں ہو نہ اتا بھی تبون دتوی اسلام سے

خ0

-.

کلیات با یا ےقعراقال ۸۱ وور اڑل کا کلام ( ۱۸۹۳ء" ۱۹۰۸ء) 2 سے ا نر کوئی طاون کا ین انا چاسے مج کوئی ہیں منٹ کا کام سے بات سے ول 0 0

+٭+

تق وی ہے وی نکی ای تا ام ٤ے‏ مزوت ہو عزیزوں کی خاہوں میں اگر

چھر دی بم ہیں وی شوکت وتی اسلام ہے ا ںکھانی کے بیاں سے شی غمش اک اور ہی

بیرے ہر مرع میں جٹی صنحی ایہام

اں طرع دنا کا بندہ بھی نہ ہنا چاے ای دنا ہو ت ورالدین ‏ گگارام سے

۳

ہے ہرکام مس ہو دین گی غدمت کا پائں رت من بب کا می پیغام سے

جا ہے

روں سے ج ب کک بدن میس عشق جم ججنسوں سے ہو کین وٹ اع وی ا جام سے داخوں کی لطافت بیئجھ اىی کا سوز و ساز تشق. رین ٹا کی انی من عور غام سے سر جھکاۓ تک دن جانا تھا کمسماپی کو میں داین تن نے کے یک کیا کام ے

-7

کلیات با یا ےغعراقال ے۸ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) و ہن ا و اہ ات ات ین

ابو گی وروش ہیں میں ہو تا آنا م۱ 77 سے فردا کی اور دل نے نے ےم ے

تلم ریں کا شوقی سے دا سے مطلب یھ گنییں دال ول کو اپنے دالِ دنع نے ادقام کت

گاؤں سے یاں مج لایا سے جے بڑ سے کا شوق

عم دیں کے ساتھ اپنے ول کو ذببت جام سے ب کہا اور چٹ دکھا دگی اک با ی کی تاب

وی ےھ ای پر ےا انام ہے 7 0 و

واہ کیا غیت ے ء کیا اوفاتٹت کی الام ے ور سے نز جیے بٹشن پر ہو ٹنی ما مال

تر ی دی داری کا ہہ ذّت ہی کیا انجام 2 ری بجھ کو بج کر ہو گے اور آپ اش ریس ہو فو اس کے ساتھ یھ دنا بھی ہو

ورٹہ روز رشن اصلام 01 - ام ے

ایا شعراقچال ۸۸ دور ال کا کلام (۱۸۹۳ء:ا ۱۹۰۸ء) دی ء دنا کا محافط سے اگ ر بے وی یہ بج کے کے می می ضرنام ہے ان تو ان دضایتے کون نیس شون اع اح نین چدە جب لے ےے گلا نا مار یں می سے جس م کا پلے سے بچجھ آرام سے کر جب اتال کا آا و بول ‏ ٹا لی رہتا سے بھا ی بس اک دبا اعتام سے یٹ گی ایک پاری ھا ج٠‏ کا خیلا مگھمراس زمانے میں بہت ضشورتھا۔ ۰0 ٹر اڈل بھم شی ہونے کو سے ممار سے تقر آج رتو شاو سی و وت 5000 ۱ی و خوقی شر سے وا ہوئی توب آع ۰ء ہے ب با ہونے کو سے اک می گر آج

کلیات با یا ےغعراقال ۸۹ رو ر اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) ژ دیس فی مس طرح تا سے احوالیي نخزاں 406 عشق و کو نی ہے آ اد تی صن و ا لا ۷ لق و و گری فیدر کی ہن گنی د چنا تی ےن ان تن یی وی تو کن آ و ئل باب وہ کیا انراز ممشوقانہ ھا چم لڑت میں فرا ہو ہو گئی باخر آج عتر ےکعحل عاے کے ہس صل دہالی روزہ دار ے ہال عید بنا اض مر آت کے سح رم ہج سے کس کس پر اڑ ن٥‏ و و ری مفل "یں فان ری عا لعل میں سے رواں ہو ےکو جوۓ شی رآ عبر را از مز دل پاہولا لگردہ ام کیو ضو رر ٹر پیا ںگردہ ام

کلیات با قاےشعراقچال ۹۰ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) پتر روم

آج جم عالی دی وہ آمھا نے کو یں

بس بی ممفل میں انا ماجا نے کو ہیں اق کے پان وا تن طور

9-۰۹ کیہ محفل میں تڑہاج ےکس کس کو بے شور

ری ین کش ا ا کو ین و تی لس ہوئی ہو فی منثار مین

27 ا کو کت کن و کن تہ ات کن لی و تن

ای ا جج گار کی ون تفل اعت نین کیا جانے من کا ار

آج ہر آیٹ مو بم آوازر پا کے کو میں

کے سے ےہ نرل روال ہوے کو اپ کاروالں جم صریر غامہ کو پان درا نے کو ہیں

ایا ۓےعر اتال ۹ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) سے گر بادگ پہ مال جھ اے وت گمم

روہ جو ےرا جانا تھی ا ے مر

یم و نے آخ٠‏ گے اسے مڑھا! کین کو ہیں

از اعاز سا را ہویدا گردہ ام

رے را بازبان غام ہگویا گردہ ام

۰

بر وم ایر بین کر تم جو بس گشن پ گوہر پار ہو

چس ہرے کم ثل دد؟ بہار ہو یس صرف ‏ تم ایر نیساں ء میں گلستاں ٢‏ تم بہار

رع" وٹزمیںءخم ار درا پار و ٹںش تمہ اک عدیٹ ایا یرب کا ہیں

تم سی بی کی بتے سے ظبردار ہو اک مہ نو آسان مم وخمتے پ ہیں میں

حم بھی اک فو لا ی کے پہ سالار ہو

نام یڑا اک ویار عم و ححھت کا ہوں میں اور م ا زہاوں کے وی الصار ہو

یاےغراچال ۹۲ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) ان یئ پا نزاں کا ھ2

میں ملانوں کا گشن , تم مری دار۶ ٠ ۰‏ کے اے 029

یی کے ان کی وت وستار ہو تر وا لے انتقاب بفت سور 2 ہو تم

کون جن زان فیشنع لیخت رت انار میری دبیاروں کو چو جاۓ ج اسر عطا انان بھی ری ال گوہر شھوار ہو

ےم

717 اے ذو خ راری! 727 7 تس بسف سے نٹ خا لی حمر ا پازار ہو

ببسفملم نتم و نیا بکنعان من است از ومیر سی حمت جاک دامالن می است ز7 پیارم ھ میں وہ چادو سے روز ںکو نما سلتا نہوں میں توم یی کر ےکن ون کو کنا سنا ہیں من

پر ہیں ئىمُںل اے نا شحم عظارہ ری اور مقصور کا دہ اٹھا سا ہیں میں

کلیات با یا ےغعراقال ۹۳ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

طبر ححمت با دا یش ہوں اے صیاد ! میں

وام تو سونے کا بنوا لے تو ۲ تا ہیں میں طریں زی جات دای نے تر

آء وو ول بش مرح پھر دکھا سلتا ہیں میں آئیں اڑ اڑکر ييے مصرو ریم و شام سے

اک غاب میں اڑی جلا ستا ہیں میں آنا ر مغ و کو رت فا و

ڈھوینی ہیں ج سکو میں وہ وکا سلتا نہوں میں ترک ا مرن تی ای یز کے

گ۶ ۶ "وج اشن یں یی قرو روز

کی تل از وکا سک ون مین گ ری کا جن کی ضو سے غرت مطرق بے

اس انی شان کے موئی نا تا ہیں میں ٔ8 9 2

مرل متصور کم ۷ و

٦

از تم حمت برو ںکردم شراب ناب را ا * مبارک سرننٹین نل جخاب را

کلیات با یا ےشعراقال وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

یا ے وت 7 راگن زار کی

ٴ 2 ٭

ا" پ بھایا ہوا سے اي گر پار کیا ےی لی ای نع وو

غا کیا ء مل کی کی تھا :خی متفار کی

7 نی کش م انان ہو

اب شئیں وپ نان ان طالپ دیژار گیا اک جہاں آیا سے کل کخت جن سے واسۓ

اغیاں باہر ند گے گا جن کے خار کیا نی انی زانے میں تہارے نم سے ہے

ہے ا نت یرت نی ا ا کیا 7 )

7 دو اٹول سے ا ھی ے وہ دژار گیا نے سے بھی ون بھی تھے اب حم کا وور سے

وو وت بر کاشھ کی م ١وار‏ کیا خوی قمتے سے پیا عم بک لٹ ہیہاں

ورٹہ گیا ناب اور باب کا 29-2

ایاۓعر اتال دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) رت وا ات و 9

یی صورت ین طدےً اغیار گیا آرزوےۓے کے بھی 1 کی وشُوار ے

کام زا موی 2-2 اے لپ اظہار گیا

"اع رھ ا آوز فریان آر

شانہ را پل بہگیوسوۓے پر بنا ںکرد؟

کیوں نہ دوانے ہہوں لب سوز خہاں کے واسے

ڈہویڑ کر مل بلی واستاں کے واسۓ اس ری فل میں اپنا راز ول کہتا ہیں میں

ا ہی زیا سے یل کی فاں کے واسۓ طعد زن سے ضط اور لت بڑکی افشا مس ے

سے کوئی مل سی مشئل رازواں کے واسٹہ جس نے پایا انی مخت سے زائے میں پروںغ

سے وی ار یی کپلغاں کے و اسے

اغہاں کا ذر ہیں ء خظطرہ کہیں صیاد کا ششگلیں ہوتی ہیں سوہ اک آشیاں سے واسطے

ایا ۓعر اتال ۹٦‏ دور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء)

خر ہت کا لت ٦‏ ئگی۹گی گ70+0۷

انان تھے لے تو گان کے ول زندگی دہ چا بے دنا کی زیت جس ے ہو

نع کن ا کر ہہاں کے واہنۓ نہ اب کے پاس جانا سے بھی اٹ ھکرگنواں؟

رخت کب منزل نے پاندھا کارواں کے واسے ۴ لشن عم میں وہ رام تی نظارہ عون ڑنا

و ضف نہ ہو خواپ گراں کے واسے يہ پشیدہ سے بے آرامي مت مس مجگجھ

چا ہا ے ئ و کہاں آرام جال کے واسے

رشن از ورس حکمت شبتا نمی است

یں رگ مکشیے من براما نیشن است

ان مک ہمت کو اتی جتل میں لاۓ وی صشنی اخواں کا اٹ دنا گو بکھلاۓ کوئی

جو ہدددی میس پہاں دوات ایماں سے مب نی خر التروں ہآگھوں کو تھلاۓ کوئی

کلیات با یا ےشعراقال ے۹ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

پپٹاں اد ناکائی ,989 عراد فاو ا ولا ای ہی ٤ے‏ کی

بہر استقبال اعتاو, سے ہر گل کی گی اں ہن میں صورت پاو عبا آے کول

ای و وف وپ ار سن

دنا اے بغیاں ٹہ حہ مرجھاے وی مڑھا کو یر ککھاا خوش فریاد نے

وج پا و ہے کی نے کی کہ گئی زوقی رم مو شوٹی صن طلب

یت ای تا وق ان ‏ فی میا وق الک چا درا رواں ہوتے کو سے جنیاب میں

از کی فحوزت آ رج ناف یکر یی جان ےکوی 99 و

بکییے اس ہزم سے بے کر کہاں جاۓ کول مر ریں کے ساتھ رکھنا گر ونا بھی ضرور

کت کن یت وت جاک زی

خوپیش راصسلم جب یکویند وبا ماکار حیست

1 + 3 ۰ 1 مّ ۸۷ رد جج خاں بج رڈی زثار ہت

کلیات با یا ےشعراقال ۹۸ وور ا ل کا کلام (۱۸۹۳ءتا ۱۹۰۸ء)

عم کا موب رتنقی کش پشادہ تق ہو

اہن ای شال بم چادہ وق ہو پھر ساں بندھ جاۓ گا خرناط و بقراد کا

پچھر زرا ولا ہوا جازم وم افائد ْؤ ہو دم میں شوقیق ے ححت جوا پیوا گ٠ر‏

ۓ تھی بٹ جاۓ گی پل گر پان نے ہو

بے اظامّہ علامصت ے ‏ ٹٴ پھر سعدیق بہت زرا ویا سر نا کاشادہ و ہو

9 “َ" ٣

پا

ان شلادہ د ہو ہریء ایراد ْٴْ ہو پھالی سے جہاں میں تل مت کا مزا اں نی سے مل ہزرہ کول بگانہ ق ہو

وم نی سے عم کی ووات بھی کرتا سے عطا اں گر پےہ تو ری لُرلباد وو ہو

داڑاگی

را کم راد لو ہو

-|[ 1

-

کلیات پا تا شعراقال ۹۹ رو اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء٣‏ ۱۹۰۸ء) رام کر لینا زمائے کا رے پاتھوں میں سے نی جی جماں مش راد تق ہو گل اکر ییحی کین لیے دل پیا ور وا و ہو ا ےک اطلبوا لو کَانَ بالسی نگفتہ ائی گوہر حکرت پہ تار چان ات ہف ا

۷ی را جیی ا را از کی یعضتاں گردہ

ى اے کہ صد طور است پدا از نقان پاۓ لٴ - ڑب را 2 گا عرناں ری اے کہ ذات ٹر نہاں ور بد مین ع رب روے ور را ور اپ 2 پہاں 23

ى

ى

اے کہ بعد اڑپ وت شر پہ ہ رٹوم شرک 2 ر 7 ز‌ جن اہاںلں ا

ى

ا یا و أُ وگی و عبت را نمایاں 2 ای

کلیات با یا ےشعراقال ٠‏ رور اڑل کا کلام (۱۸۹۳ء۲ ۱۹۰۸ء) ٦ٹ‏ القت ہ ان رویت زردی عانے را صورے آئّیہ جاں 23

وٹ ھ7 انظار ساخشت ا ا ا ان و مل ٹر ال در فرانی ما“سالۓ پور لو 972 سے ار لی ا 2 کل فرستاون پر مر بے کراں می زیٹش فط بے ہاب را کم بت طوزاں گردہ ہے کل و او ایت اہ مر زی ۶۸۶7 ۶+ ۶ ص2

فا ما ےا2 فات ا پڑ شور از گوہر ححمت سر دامالن ا

ى

ى

ى

ى

- کرو رف بی ۲

دو را ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

6 کہ 7( مم بھ چھ

آپ نے ہجو ج٘ھی ارمفاں اگنٹریی زیت وست خا بالید؟ جاناں ول سرایا آ تے رس میرے ‏ اتھوں سے اسے بین ےاگمر دو ول ریا ہونہ برق الک نہیں اے طائر رن جنا سار سے میں بڑا مکش سماتقی کاچنکس

دے ری سے بردالفتکانشاں انکفت ری سے مال عاشتقاں ہن بجاں اگنٹری وق مطلق اےسراج مہریاں اننتری ہو رموز بے دلی کی تجماں اگفتری تک رنقیق ہے تیرا آشیاں اگنتری بن گئی گردایے آب رواں انشنٹری

ہوں بتبدیل قوائی فاری میق خواں ہنرے عا ی صرح اصنہاں اگننری

ارم ازشھر فرتاوست ار انی ار راگرصد برا رآ ورددام ایک ولمل دا دا ازم رج بنا کا رین جو بہار در اپاور' مھ وم ماش شر تام ا کن اک ئ وت 7

ار درصورت کممتی صد زار انکفٹری شدرقوظ ست ارم جر چہار اگنتری رہد چچوں یگل ہوۓ ہار انگشنٹری وۃ ور تیر جشم انار اکفنزی

علقہ اش غیاز؟ دست مار اشنری

ما ایر علقہائش اوخوداسیر وس ووست 27 دست سلیماں علق د رگوش دوے است وه چ ککشابد رت آل نگا جم تی مین دل یگ مگشیۃ خود ایا جویم مرا راز داررزوم وزوست ور پاز ارر٠٣ن‏ ہردو با ہم ساختتر و مقر داہائی برنر فو بہار نفریب اننٹری دروست یار وا پویں ز انگشنتری طرز اطاعت بادگر اونوقال بک لکردست ازصرت بب امام سن کو ہرجاست ىشنی ایی غزل گشت اے اتال مقبولی امیر ماک حصسن

۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

اللہ الد دم و صیاد و ہار اگشنزی اے جب اننٹری را جاں شار نکنٹری انمدگر زی پیچتر صریسۃ کار اگفتٹزی وُزری 7اظا راظرو ظا ری 2- وزر خا را راز دار نشی مخ رانکشیں جاناں ء پت کا اتی و تت0 و نہار اگفتری خمد حر بر خیط فرمان یار اگٹنری لوہ فر مانشد چو ور اککشت ہار انکنتری کر سرايم فور پا آمد چہار اگننری ۷۲ وت

سد لا ہورکادوس رانا ش نکوامی ضر تق ران السععد بین یش استعال فرماتے ہیں تال )

٠٦گزفردورس‎

مائم پھر

اندعیرا عر کا میاں ہو گیا

7 سے وۃ خورشیر رون نہاں ہو گا

کلیات باقیا تیشم راقال

یاہاں جاریق سر مین گی گیا اڑ کے وہ عملی خیش وا تی ال از گیا کارواں ء اور یش راہ یل ٍ0 ۶ص" 009 0 1 989 تم اس غحضب کا غخزاں نے کیا ہوئی شم کی عادت بپگھ ای جے می نوجواں کی جدائی میں تد ۳۷۰۷٣ك‪ء۷ھ4۷۹۵‏ وہ مرٹی ہے اقب شف رک میس بنایا تھا ڈر ڈر کے مج آخیاں کروں ضط اے نیکس طرح حضب سے غلام جن کا فراتی

۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء)

ماف شقن کو روا ہو گیا

تصاں ۲م کا آساں ہو گیا یااں ما بیستاں ہو گیا ہم کو ا ان ھا ںی ان ہو گیا وہ گل زمپ با جناں ہو گیا

کہ ہر اک طوناں نتاں ہو گیا کہ جینا بھی مج ھک وگراں ہو گیا

دا ھن کے وہ ئم فیک نے سے ہو رای فیاں ہو گیا

بی مخزنء جولا ئی۱۹۰۲۷ء

-7

کلیات بایاےشمراقال ۲ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

ریاواشت دی میس جھ یھ سے ء قدلب پر اسے لائو ل کیو ںکر ہ؟ پچھپانے کی نج بات چھپاوں کیوں کر قرن تا ہے کے امت نے

پچھر میں نالوں سے قیامت نہ اٹھائوں کیوں کر

کی جن اتی وت نان کون کر

7کک ےن رت تار انت خی

اکِ عم سے ترے تحعلوں کو بچھاؤں کیوں کر ا لے ہیں اق تر را سی

زی می سے متچج_ کو نہ بھاؤں کیوں کر ۲))))' 9 و مک

اۓ اں درو بت کہ چھپا5ں کیوں کر

بات ےرا زی پر نہ سے ئل جات ۓےگی

رخ یت اکا ا کی

-7

ایا اتال ۵ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) آساں مج کو بجھا دے ہج آروزاں ہوں میں

صیرے بآ مر گور نریاں ہوں میں ہیں وہ ار جو ہو گر مراوا جج کو

درو ت کے بی کہتا کیہ زان ہیں مُںنں

دنا تر مری صورت پ نہ جانا یل جیں

ڈیہ کو صشت و ظل خنراں ہوں میں مر و و

ام1 جائۓ جو ا کا گریاں ہوں میں دور رہتا 7.7.77 بزم سے اور ما ہیں

یھ گی جینا ےکوئی جس سے بیاں ہوں میں اع ا ےی ےن و

يہ دبی پنز سے ٌس پچ پا نازاں ہوں یں دا مل ہر یی صورتے ه56ھھ

سے اسے وق ائھی اور نمایاں ہوں میں وی و و

الک بڑھ بڑھ کے ب یکنا س ےک وفاں ہوں میں ہروں ےو ت5 سے -سمبھنا مجر

کوئی مل ہو کے پہ ق آساں ہوں میں

-

یبال ۷ دورا ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

کڈ کید

رن کپتا سے ول ہی ای گی زا نے سن کے ان دوفوں کی تقر کو جراں ہوں میں زپر ہف نفظر نے “سپ پر پان اور کافر ہے تا ے صلاں ہوں میں کوئی کپتا سے فان ے صوی رپ کوئی تھا سے کہ شیداۓ صیاں ہوں میں و حا یت یت ری ای ای کیا غضب آآۓ ںاہوں ے جھ یہاں ہوں بش دکہ اے چشم عدو مج کو ظارت سے نہ دکھ جس پہ خال قکو بھی ہو ناز وہ انماں ہوں میں رع مزح عشقی ے عائ٠ل‏ ھرا دردفرہپان ہو دل پ دہ ے دل مرا یھ اک یکو سے ہرا دہر میں 7 زادگی کا بر ہروا یری زنر )نا نات رل آی سے انی بجھ اعد یہ انل ہو تفع ا نے ا کی یز ون و کر

ۓے" 5 3 ہی ۲

لیک سوا کو سے کتے ہیں "نبرا ہوتا ے“

عخل ہل بے ہر سال ہو کر آرڑو ک می رونا جع اپ ام

اس سے پچ ھکوئی کیا دل نے لیا وی ہوکر ری تی بی نمی ہری نظر کا پدہ

ا یا ای ینزو تفل: جن کر

یی نی ہوا تی کم خا ہو پچ ا

رر وا ا و لق معتول سے , میں سے لق اے ول

دکھ نادان زرا آپ سے نال ہو کر مور کی ات و اک دید سی دیما

٢ھ‏ 2 و کیو ںکیوں بے خودکی شوقی میں لت کیا ے

ےکنا ینا یی ای و نک رو الشت مل رواں ہوں نی اٹادہ ہوں

ما و ا ا ا و و ا رٹ

یر ہر :نک تل ہو کر

ےا دو راو لی کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

کلیات پا یاتیشعراقال دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) وو سافر ہیں لے جب نے پا مل خور بھی مٹ چاؤں نان رو نرل ہو کر ے پروں دو جہاں ا کین جاند ہہ وہ سے کہ گنا میں کائل ہو کر "۷۶ى جس و و مج ہو کر

ۓ رفاں سے مرے کاست دل ممھر جاے یع یر ا رن نی ین انت تج ”ال سر بی می ای 09٦‏ ا لاھ سامان سے اک بے سو سااں ہوا بجھ کو حضبے نار ے بپہاں ہو ری الفت کی اگ ر ہو شہ تارت ول میں ری کو بھی حم 1 اتال ہوہا؟“ یہ شھادت گی الفت میں ق مم مکنا سے لک ہآ سان سبتے ہں میں ہو

کلیات پا یاتیقعراقال ۹ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

رل ھ ہار جثت ہوا ء آباد ہوا

2 ۰ت

لیف دے چاتا ے کیا کیا گے ناداں ہونا بھی مب می ایس تر سے چنا

بھی بر 1- سويٴ ‏ گراں ہونا انت وین یی وی اتکی و یت کیا

ھی یکن کو ان حور بھی لان ہوا لیف دنا سے کے مٹ کے تری الفت یش

ىہ تی شی ہواۓ عربتاں ہوا بی الم سے مرا بی ہاں مرا

ترے ار بغار ے تراں ہوا

ری ا ان وت

رہ پداز یرت تد 2 ا

ال َ۲ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) عثر میں جس بں تر صلرا یں ال 7 د ھن 7 کا ر دپرار :.-

0 0 0000ھ

07 کے

ین

ٹل موداۓ مت میں گریاں اپ

یں نے دیکھا تو نہ پاتھوں میں کوئی تار آیا 09ے و

و کت ای کون و کل ان

اس شفاعت نے امت مس بلاگیں کیا کیا عی شش میں ڈو ج کر وہ می م گن اور وه 7 تی ات ان اد یی گیا کیا گے جاد آا و کر ضا ری نے ات بی ہار و اور مُل سرشار ماع رمنا “نے پچھپارنھی ےلت تی نا بتوسین ےکی ہےمتقیقت تیر

ہے)؟ہ

ایا ریشراچال ۷ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء)

ے جا حر مت کم حظم مھ کو نی تی

صص جا عری آگھوں میں مایا جب سے

اق و ا و ا و رت راع نی کت ضایر ےتکن

نے اس تام کا نے وی تم ہچ کو اک ہو کر پہ لا اوج تڑیی الفت میں

نے ا و یی بے کو ید ا فی جالع نے لگا یجرنا ہروں

وک کی ا ا و یی تر کو کوئی یھ نے ڑے اشن شیرا کم عزاع

حور سے کا سے پچھیٹرا نہ کرو خم جج کو کا و سا و ا

"وت صفت وی مر ار ٹپ فرقت میں

چھ ری سے گر و یئ ائم مج کەو

ن0 تا ا و ا و و لے طور کی ست نہ نے جاۓ فوجم مج کو

-7

کلیات بایاےشراقال ۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

نے آگھوں کے اشارے سے چوسکی ںکر دی غور حثر ہوا گائمی نم بجھ مو 7 "ء۶" "رر بے کو

ے اٌئھی امج مم کا رونا ای ۳۶ ۶+

ےھ رت ہویں سرایا ٹم ہہادی ہیں

ےہ دہر کا مارا ہوا فریادی ہروں

اے کہ تھا فٹوں کو طوزاں میں بارا جا اور برائیم کو آ میں ببریسا تر

کی بت ھا زا قارےی عالم میں وجور ایر ور گمر عشل ا سا تما

ٹ0 سے انا تھی چا با با غا ت١‏

گر چہ ارہ رہ جن پدوں ین نع تی وت یت جوا جا

-

کلیات پا یا یشمراقال سا دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) چم یی صفت دہ رت ہوئی دیہ و و لور ٹہ ہوتا مر 72 1 انار 4 آمد رق ے گر یر مین سے کوئی شل ہو با ما و ائُتی "7 حا ال کیا ے کس سے برباد ہوۓ ہم وہ مححییت مصییب تکیاے عال امت کا با ہو کہ بھلا کتے یں

0 و 0 وھ یں واعظوں |ہیں بے گر کہ ا لی ق وہ

ان کے ہر یام میں َ ۰ و

کر ور کا پیر ھی ہو و سے چاہے اپھا کنا

پر غضب سے کہ یہ اپخوں کو برا کے ہیں فرقہ بندی کی ہوا جرے ممتاں مس بی

0 مھ‎ + ٥ شر وم ہوا مر پار یں‎

اۓ غفلت سے اسے رن جا ػتے ہیں

-7

گیا تبایایقراال ۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

آہ ػس بات سے ہو ہت 5 پا و سو او و کو وو و

2 دہراری من ے آرزو زر پہاں 1 کے میس ائھین: را نما کے ان

لاکھھ اقوام کو دنا میں اچاڑا اس نے بس تمحشٴب ا ا ا دہ کت

نان "گی کو سے ہیں بناۓ باں عرش اوت سے جو اس مو روا کے ہیں

ص یپ ۳ و سرت ات عھن نف سے اچو نک برا کے ین

-صَْٰٰٰ"0 ان راو یت یک کی یں کت ین

ترے پیادوں کا جھ یہ عال ہو اے شائ حر

مرے جیسوں و نے کیا جاہیے کیا کے ہیں خض لہ سے بدے مم عات ذالّ

7 000 ےو شن کا ىہ دیں ہوک ایخوں سےکرمیں تک سلام

ایے بندوں کو بے بندرے ‏ ص اگ کت ہیں

0 +٭+

-7

کلیات بایاےش٣راقال‏ ٔ‌' دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) توم ےت ای ہو گار کن بھی ثر تے مو تک رر ہہ بے دواء ص فی فی سے ے مٹ چا ہو 0 "09 0 پل ہو ایی متصور سے کیو ں کر اپنا خر سز ٹس سے ات انا و یو تر یی انا کنا

تھم جھ امش تھے اب کک تو اوب ما تھا

ورؿر ]مم تھا وف تنا کنا ۳۷ھو.0 عال چا رتا ے

نی خام‌وقی مھ ی می ایک طط کم کن شود مق ت کی اب ہے بھی مق ت کش لم

را کنا جھ سے رونا ١‏ سے رونا ء نا قوم کو وم بنا سک یں رولت وا لے

"۰" و او گنی من سرت در کرت جن

٦‏ ٭٭

یاد نراں ۓ ا اور نہ خرا کم ہنا

ایا یشراچّال ۷ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء)

یم نے سو پا ر کہا ”نوم کی عالت سے بر“ جو مرے ول میں سے کہ دوں ت کوٹ کہ در ےگا من پر ہوا خ۰یں ان لوگوں کو اپچھا کنا یں و ای ا یڑ کوئی کہہ دے و اث کرتا سے کیا کیا کہنا ان کی مل میں سے بجھ ہار ای لوگوں کو جی کو ۲چ ہو سر بنم لیا کنا دیکھتے ہیں ىہ خریو ںکو تو یرم ہوکر قر تا خر تا شاو رو عالم ہوکٗر ان محیبت میں سے اک ىی مہا اپنا لف ؟ رر لپ ٹاد :نا ھا انا

ابی عالت میں می ١‏

تر آولا ای نام نوا میں 1

میر و و میں وا ا

رق کی ہے کیا ا ما نے رات

بت اق ات کے ا سا ان عم مد جائیں سے ممور) تی سے گر

ہر ان راہ نماوں پہ بڑے گا سنا

-7

کلیات بایاےشراقال ےا دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) زی سار میں ایوں کا گلہ کیا سجیچے سو تی جانا ے ححبت ں پیا انا عم نے سو راو خوت کی کی مین نز ةٴ پٹنا ہا پا ےھ پا نا ور وا کو 2 اون عارث یں سفیدہ انا

و تی تا سک ا کن جن

اور میس 7 جا یٹنا اپ 0 ار یم و ہیں سے ائھی کہ ے ہوے ہے با ہوا ہوا نا

لف سے سے کہ پ لے قوم کی ححقی اس سے ورنر ہوے کو تق آنضو بھی سے درا انا اپ بج ے ار صحیبت کا رظال رعار آیا ڈھوڈعا پھر سے تو رل شا انا یں پشیدہ نشی تجھ سے جاری حاات نی تتھ سے سے اے فر باتہم ای ا کی یی ہوا ینا ۱

پیٹ

مک

کلیات پا قاتیشمراقال ْ۸ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) اع ا کے کے سک ایز پان سے ائی لوگوں کی جقت پہ بھرسا اپنا داستال دردکی بھی ےء 6 09217 قوم کو جس سے شفا ہو وہ دوا کون سی سے یہ جن جس سے ہبرا ہو وہ صا کون ی سے شس کی جاممر ے ہو وت دن و وی نے اے شا محثر وہ دعا کون ی

جج 2 ۰ئ إاں با دے میں وہ طرز وفا کون یىی ے

شس کے ہر قطرے میں خر ہو کیک رگ کی

ہاں با دے وہ ۓ بل ربا ین سی سے قالہ ػںس ے رواں ہو ہوۓ مرل اتا

اقہ وہ گیا ے ٭ وہ آواز وا وی سے انی غرد مس خر مس سے بل

جس سے ول قوم کا گے وہ صداکون ی ے سب کو دولت کا مججروسا سے زان میں گر

اتی اید یہاں جرے سوا کون ی سے

ٴ

کلیات بایاےشراقال ۹ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) انی تی سے اج ڑ جانے و اے پر "مم و رک ا ین سے نہاں جن کی گدائی میں امیری سب گا آج وا میں وم پزم فقرا کون ی سے تبرے ترہاں کہ دکھا دی سے ہی مل نے جس نے ٹپ ھا جھ اوت کی بنا کون سی سے نی می ات اور ال یم کا داواٹہ بنا دے س کو

-- سرودرفت بش۴۲۴ءروداوانین

وت پغام جات چااددایی ال دلد بر ہو کر ہے سے نہابن الل درد

ہوا ے صٍ ے ہر اخخوان اپ درو بی وہ ںی ےک"ہ اس مھتی میں سے رفعت نہاں

سر ہے مل متا سے گیا زدہان ال ورد

کلیات بایاےشمراقال ما دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) سہارق دئا نا ی کے دای اپ درد

٦

انز تھی اور وی نے ضرے: ار

سد رت دس ور

مین بیداری نے ہو خواپ گران ا٣ل‏ درد کیہ ری سے پر گی گزار ابابیم کی

ا سے ہوتا ے پیہا تا ن اپ درد پیا خقٰ نے ار بثة ال کک

ورو والوں کے ا سے ان اپ درد ان کی دنا بھی میے ‏ عش معفی بھی بی

مل کات اپ درو و اکا اپ درو ائے کیوں محشرپہ واعظ نے اٹھا رنگیا سے بات

ے ای ىؿيا میں ہیتا مان ہل درو درد ہی کے یم سے سے ان ول ججلوں کی زندگی

درد ے پیا ہوئی روں وہ رواليی اپ درو

: 2 2 ٹیں دايٴٗ ٹّے نۓ گی شت عراد

نے کیا موب سے طرز یان ال دہ

-

کلیات بایاےشمراقال ۳ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) یو ا اک یی تا ین :تر ڑظویڑتا سے ماڑرن کو کاروای اپ درد ایل ہم نے اےاقا لک ڈانے شر ھی نوازن ش کو جو کگر امتمان اہ درد

ت ہي در مر الپیبپ ففا ۶ و جال اپ درو

گر آم ہشت ‏ درودالی اپ درو سے یں بج نا ٹج جان بل ورد

ہوں تر سار ے ق لپ سان اپ درو اون 23 مشتب ار سای اپ درد

جھر رثعت پا گروان اي اپ درو

سر تر وت

یہب گل سے شراب اان اي وہ

قزر نعل ۳۲ پہلا مان ہل درو

کی ا کا اہ ا کن

تی بم آبنب نراۓ من“ نعان ال خویش محشر جے واعظ نے سے تھا ہو ے وہ گل باتک دراےۓ کاروالی ال

بھدرے کی مت کیوں چاتا سے پا رب بمشن کپ ول ىی ق سے بنرستانن ال

24 جوںل عقیرت سے کیا ری شر کے

مق ا سے آشان ہل

زغ ہونا کوچ الفت میں سے ان کی ناز

ےا تو کی تا اذا ال

ٴ

٠

وار پر بڑھنا یہ تھا معراج تا منصور کو

ھی وم سولپی ور خقیقت دبا ین ہل موجن تع مہو فی و مصور ے

و لق ار انان ق نے اے انان طائل ! بیھھ پوا نہ کی

ہے زہاں انز ھت تے زان ہل دہ سوزن نے گگئی رکھتے ہیں ہہ بناں اے

کوئی کیا د کے گا زئم ے نان ال

یاےخقراتال ۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء)

درد(

درد(

درد(

درد(

۰

درد(

چ5

درد(

کلیات بایاےشراقال ست دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) کے بانے مجن کہ وم تر وت 2 ۳- مو 3 وتای اپ درو پھرتے رت ہیں مان کوچ“ ”نجل اوری"“ٴ ے اکا 5 یں عڑو ان اپ درو ای نف خر وا نے وہ بہانہ ہو گیا بر مالین اپ ورو'

- خرن ؛ ۱۹۰۳ء

کیوں نہ ہوں ارہاں مرے ول میں کیم الد کے

طور ور 2 ہیں زڑے ‏ ری درگا,ۃ کے ین کی ورکاو گی عاب ج کا ا نے اڑا

آاں تارے با 7 ری ا 2-9۲ سے زیارت کی مناے ‏ الدد سے سوز عق

ول و وے بججہ کو گگزار شیل الد سے اي مبوپی موی ے پدہ درار ان عشن

ا یا ےھ تن اشن تح از ای حا کے

تبایایتخ اتال ۲۴ دورا ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) و و رو ویو ٹا

الک موی بن سھے جم قاغا خوام سے رگ اس درلہ کے ہر ذڑے میں ے ل وحید ک

طاٌاي ام بھی طا میں سم الد

2 جن ران َ ینا ان کے

++

سیب اسود تھا گمر ٹب غان جخعشق

ٹم مر ےکیا ہیں ء ددواے ہیں بیت اللد کے عشق اس کو بھی تری درگا, کی رفعت سے سے

آء! پر اشھم نہیں ہضو ہیں جمم مار ے کس قور سر مر ہے حر مت کا مر

اح ک کی خرس ہیں اور ساۓ ہیں تل ؟ٴ و کے میرے بشن نے جھکھوٹی حم ا حم کی گرہ

تک اتا رک 2 کے میرے کیے ے ‏ واوّں کا بھلا بزکور گیا

قیصر و فور دہاں ہیں ری درگاہۃ کے

و اظہار تناۓے دلي نا کام ہیں

لاج درکھ یناہ یس اقب ل کا م نام ہوں'

ایا اتال ۵ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) تھی پھ ری سے خغفا میرے دل ار سے

اے ما بی ! بالے مج کو ا آزار سے اے غیائۓ حم عرفاں ٠‏ اے با راو صصق

22 آا ہیں بجناے 2 ا ار سے ٦٣‏ 0 .۰۹

اے شی ذی چاہ ! 8 وائف ے ان اعرار رے

ہٹر کا داتا سے ٹپ جا ڑا برار ے 7 ۴ 7

کی لی بک چھئی: زاشن: ور ا روز زان نے انآ میں خرزہ مان تی شر ہو

شع تی اح ان کی نز نے ۹۳ي 28

یر سے پاد 2 آج کل اصفر جھ تھ ائبر ہیں اور موا غلام

ہیں بے شُلوے بڑراروں ےت کان نے کیا کروں اوروں کا شوہ آبۓے ار ملک نر

کی میں ہو مے ال ٹن اغیار ے کیہ رہے ہیں جج کو بربستۃ خٹس میں دی کر

ا جاتے سے یں کول کر تار سے

کلیات بایاےشمراقال 2 دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

کر مو سک ا

و رت گزات یں صیاد 02 آخہاں سوزی 7 ۰7

اغ تھی گڑا ہوا ے عدلیپ زار سے ک3ا لت 7 کے اتا بھی کہ میں مور تھا

انی مین نی رون ار نے اںظحم دنا ہیں میں ھ ون رب کی ئے

کر دعا حم ےک میں جچھٹ چاٗل ا زار رے

ھت سے ممیرىی معلبت ٠‏ گھب رایا ہوں میں

نک ا اک ون ین کیا سے تھی ففڑوں سے تیرکی خاک در جے

ہال عطا مر وے مرے مفصود کا گوہر بے سے موب الی کر دا بر اج

بىك بت سے ال رم کے بے وج رت

خرق کر ڈانے گی ہآ رو پ شم نر بے ہو ار پسف مرا تحت کش چہ ؛م

جن رۓ مصر آزاوی میں پھر کیگر بے

-7

کلیات پا یاتیقعراقال ۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

آپ بے وق تچنی جم صورت ماب ے

کیا فی دے بل ہر ول حطر گے کیا کہوں میں قصہ جدبەي بل من

یر لی تا ے اور لی خر بے یہ خفی لی مرے تم سے کہ خادی ہرگ ہیں

نکی ہو گی سے موت سے بت بے ا ان کے ان و ا کے

یہ تضوری میں عہ رب کی ے لےکر بے کیا ےا ئن فان ججا تر

تیرے جیا مل گیا لے سے ربہر مے زان جن گان ال ات دلی زہرا“ کا میں

حم میں کیوں کر بچھوڑ ریں کے شا خر جے ہیں عریر انان خی ناک جک

موچ ددیا آپ نے جا گی ساعل پر مج رونے والا ہیں شبیر کربلا کے شم میں میں

کیا ور محمد نہ یی کے سای ٢ڑ‏ مجے دی ببس ہے جھ یئل کے دارغ عمش اىلي ببیت

وو م7 ہے تا رای پر گے

کلیات بایاےشمراقال ۸ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) جا ہی پنیے گی صدا ناب سے دی ملک کر دا سے گُرچہ اسم نے بہت اظر تھے آہ ! رے سای ےآ نے کے نافائل ہہوں میں منہ چ اکر ماما ۷ 1 - و

ت شیضہ سا یح تکی ریگ

کو ا

صرصر کے دش بر تو اڑپ ی پھری ے صریں

سے خار زار غخرت مرے لے بے شیشہ

قصر پاور جس کو مری نظر نے تھا تیرے ساوت و و8 ال

عہد کن بھی موی دیما ہوا سے ج١۱‏ اس دن کی یاد اب کک بائی سے تیرے ول میں

کنیاں کا خالظلہ جب ہوۓ هھاز آ

ےہ

کلیات بایاےشراقال و دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء)

دی ہو میں جرے فیون سے بای قے ہو ہی سے شا پاال قرم موس

:

چوسے تھ و نے اڑک ھی کے پائۓ نازک یؿ؛ جو ناصمہ کی شر کا س لا

شاین گور ہے و ایوہ کے تج رب کا چاند شس بن اپنے جن سے گا وس رح بھلا تو ہس نقشل پا سے نال یہ کے وو و سک پا نا

ااے رت حر 7 خر تد کب نے

ٴ شش چاتا ہوں مضہ میدالی کریلا کا گر پا سے شاو بصرہ کے زائروں کی باتک 00 ھت رن یک مایا جاہیں من گنی ےگ حم زنگ ک' خوا یش اتال :حضرت کےایک مر با کا نام تاجن برا نکی بی نظ رعنا یر تاھی- سرویرف ع۷٦۸‏ تَّ

کلیات بایاےشمراقال ۴ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

لزان ول اون

ہزم انم میں ےگو موا سا اک انز ء زییں

آج رفعت میں شی سے بھی سے اوپر زیم ادج میں الا فلک سے ء ہر سے توب میں

کیا اس ری پر خر ا وو را انجاۓ ور سے ہر وہ اف یر ے

ہر و ماہ وش زی مین ہیں اور صرر زم لے کے پغام طرب جاپی سے سونے آاں

اب نہر ےگ یبھی الٹس کے شانوں پر زی شحوقی پک جانے کا سے روز گمردوں کو بھی

ول ای ا نات تھے کے گور ین بک گشنی ری سے ہر فظر کر بہار

ے گقی صورتث طجچ شی حر زیں بر گل کی رگ میس ہے نفش رگ جا ںکی طرح

سے امیں اعماز می کی کہ افسوں گر زییں ناک بر میں جھ نہ مرغ مم ال 6

ثوت ہوا تن یت نر جح تو کر وین

-7

کلیات بایاےشغراقال ٢۳‏ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

صاف ہے نظ تن جن ہیں عس گل

کی ات ای ای کیک کی یس آں ثرر ظّارہ پور ك2

رک سے کرلی ے پیا تم اسکنرر زی اماں ہو ا کی سعت کم جو تصور ہن

شا اشن نت کن کے ان ا ماع جاندی کے بپچولل پ سے او کائل کا ماں

دن کو سے اوڑھے ہو تاب کا چادر زش آسماں تا ے ظلرت نا وو

( و ۓے پیل ہم شید سے لے گر زییں پڑتی سے دیلنا جوش عقیرت کا مال

پاے - بادگار 4 72 زیں زیت مر ہوا عتامیوں کم آذآب

٦و‏ 4 آزاو اصای شمي خاور زمیںش نی نوا بہاەل غاں 07ج پ> ٹا

بھر موٹی ء 1ساں ام زر و گور زییں 2 20 پرخواہوں کی شیج آرزو ہے واسے

بھتی سے آغشل میں صد موبے صرصر زیں

کلیات بایاےشمراقال ۳ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

مل کے رنج سے 7 دبدر ہر ز یش قش پا سے جس کے سے وہ جا چٹ ی کا ذو

ٹج سے مق سے بوانے کی پر زی 7 را ننتاان یکن ے وہ رھ دبا

کبخاں اس کو متا سے لک .‏ ور زی آسانہ جس کا سے سس وم کی ارہ

شی بھی بین وم کے نے میں نز ین

۰مم اعد میں چا کر خاک کا عفر زیں 2 سے عالی کو جہ د کے ہڑؤں ڈھویڑزے اگر

ری ا و و رر سو

دہ سرایا فور اک مخ لع خطابہ پڑھوں

جس کے ہرصر غک وجےمطلع خواورز یں کو یں کی ا کا سر بمرصرزییں

لا لے م دم 08۳09 اور زین اے کہ ترے آ ساں ے آماں 2 ہہ تیب

و ت ری سے معدن مگوہر زمیں

گلیاتبایا یق راال ۳۳ روا لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

لے ہے آ لی سے براۓ خی نام سر

چو کل طور سے ت شا ہوا خبر زیں ار ا وی نی وھ رہ ا

جافیق سے رو اک بجر سششر زیں سے سای طور غکس روے 7 سے ت رے

ورنر تی ہے ور مل دیدإ٤ٴ‏ تبر زی ای ناننل سے نو اس خانداں ہے واسے

اب کک گی سے جس کی داستاں ازبر زں ہو زا عر مہارک 2 حتے کی مود

دہ چک پاۓ کہ ہو مود پر از زش ۳ک "۷9 ہ

بند میں پیا ہو پھر عتاسییوں گی سرزش کر یت ری سا انان تی ری

٤۰٥ھ‏ سے رہ ہو ابی ء گے مل جاکیں ناقوس و ازاں

اھ ا کے رک نی بات ین نان ام شاہتاو بر نشةٗ جادو سے

ورنہ واصین میں لے ٹٹھی ے سو یصر زییں

کلیات پا یاتیقعراقال سس دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

پادشاہوں 01 قاوق ہے یت سر

9| 0 تو ات وت ین و نین ون

گر وو ہے کر یپ قرا کور رن خمراں مت شراب مجن و ثت ہو نز

آمیں کی طط ہول سے مم پور زش عدل ہو مکی اگ اس کا بھی فردویں ے

ورنہ سے می کا ڈعیلا ء خاک کا پر زییں سے گل و گفزار مت کے حرق سے سلطنت

ہو نہ ہہ پالئی تو پھر صرمنر ہو کیوں کر زی پاہیے با دای عاقت اٹل کا

900 و ہی تک کان کان کو ھت ھا اع کی

عنش جک تپگی سے جس کے شع رکی ا ڑکر زمیں

غاداں جا رے نیعة ٣ج‏ ؛ ہر>

ٴ

06 ڑا رے پر زی کے تہ یں ہو اک رت خواب ہو اعدا کا اور بس زی

کلیات بایاےشراقال ۳۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

کا ک0 نک یع رین یا کرت ران ہو گر پنباں تری بیت سے ڈرکر زیر اک ھ۶ ۶ چ0" بج اک ی7 ے آتت اشعار کا جو لک رفعت میں ہوء ایا ہوں وہ ٹچ یکر زمیں تی نو پھر یمر بدرحت سرا کے واسٹے ہوگئی ےگ لکی تی سےبھی نازک تر زمیں

ت مخ زندرکای ا زنرگای کیوں 22,/ را ہے اید کہ ہار عرصر جھ کو با ری ہے

إں پں ذرا بر جا بس مزل نا میں

زم جہاں کی الفت جج کو تا ری سے ا کی ان یی تی تر کیوں تل ٦رزو‏ بر گھی گر ری ے

کا( ؛وعگ ٤:‏

مل کا ا او و یں او کے نے تی ہوئی کہا ی نے 7لا رنی

گیا نا امیر ہو گر بزم جچاں ے چااّں 00 و رو کو ہی نان نی یں ناد ہو ری سے حتف ماد مرک صل چتار اس ک6 تن جا ری ارمان و رای دی و کو رکنیا کیوں میری ضرنوں کو ول سے ما ری اے شع کیوں بھی سے آ میں ہیں س بک پرنم کیا میک نگمائی تخریف لا ری کن ےا کن و سے ےن

اس دویاؤ لکا لام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

سے

-.

کیوں تو ای سے رز گر سب کو ڑا بی ہے

تی اگر خونقی ہہ مرنے پہ مس ہوں رای

شع حات گل ہو یں ٹھلا ری ے!

با یا تک ۲۲۸

کلیات پا یاتیقعراقال ع۳ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

جا نراورشا مر

کا - 2۰ء ,۹۰ ۹ گ۶۷۶گ۶۶ئ۶ئ0۰۴۶ یں چدڑیں کے چان سے میں نے گیا سوال اے چان تچھ سے رات گا عمزت سے ء و ا کے تچ ]سن کی مفل سال ۓے ہے وو و ور کی چادر ای ے

اپ ارات

وع ےہ

وضع تھے رما کین ور سے

گی پڑی ہل سے یں کی رن گیا کہ اس ین پہ خزاں کی ہوا ہی 6 00 اس یج تی جوا بنڑی سے نو مرجھا گے یں

++

:1

:1

کلیات پا یا یشمراقال ۳۸ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) اس وفت ترے ہساۓ سورن بھی رہہ روما سے ١ء‏ یم کی مفخل برات سے :جال بے انت تھے کو کی نز ے کہ ایا مال و جی طرت کال ما سے خل ہھو زی و تھے کم سے نائہ لی طر قا من ا کا2 :اون خر تر عاصل کروں مال ء مخوں چگیٴ کا چا سے لک کا چاندء بخوں میں زیں کا چا ہر ایک کی نظر میں عاوں بی طط شرت کے آسان پر چھوں بی طئ

چاند

اع نے کیاز ان بے کن لے بد اپنے ور کا کتا ہوں مس سے

کلیات بایاےشراقال اس دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

سور کے نم سے ہج کو ہہ عاصصل ممال سے کال ای کے ور ے ہھرا ہلال سے چنا ہیں رڑنی کی جا میں مات ون رتا ہیں میں کمال سے سدا میں رات دن جھ کو اڑاۓے پھرٹی سے خواپشش عمای کی کر پیل مان مٍ می خل ىی ہے فائدہ نہ اآپنے یں کو خرب کر یی طرت حش کر آقاب مر کے ہیں جس مو عم وہ اک آقاب سے

9 ٤)" 99 سس“‎

ٴ ٴ

سے حمال کی سے سم گر ئ ے

ے چا ہے مال کو خطرہ ژوال کا بے طز گی لے درک زوال کا

ٴ

رت .

فو ہس خظر سے ہر کال سے نے کا اس کو ڈر ے نہ خوف زوال ے 7 ؤ4 “۹ ۶" رنتیق سے اس ہن میں پش بہار مہہ

کلیات باقاتیشمراقال م۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) اذیاں کو ٹر چابیے ہر یم کال گا کسپ کا لک" نہک ہعزی جہاں ٹوی“ ت

چم نین ےی اک روا

قا ]سان پر یہ کھیں بر کا یں

ال ملا نہ جب ہوکیں خنگک جھتاں ہے رے ھ طا کو غاد کر

او تو و کت ات مان کو ا و و

فیدر ستھ وڑ چُیىتمشی مان کا 77 98 9 9۹۹و" نک دن ج اپ گیتت میں ٢ر‏ ڑا ہوا

لپدوں کا ۳ پھھ0۳'و

کلیات باقیاتیشعراقال ۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء) ہر پار آماں طرف 7 تا وہ اش کے اتاد می تر ر ناگاہ ا ار کا کم ظر پا

ال می اپۓے ساتھ اڑا کر سے ہوا

ال کا اک ور نے جم کا ایھر اھر ۳ 6 ۰ 3

ویانں ہو گئی سے ج حثق غریب کی

كت ک

٠ 7 ً ٤

مل کن ارت سے کہ اس کا ھا آروں و مر و وا کٹ

بیندویں نے جب سی بے لی کی کفظو کت دہ واج از الع رے ہًرزو

اک زرا سی بوند سے اتا بڑا ہے یت

ت جو

تیرے ذرا سے م سے نہ ہو گا ہرا یہ گھیت 0 و ا کو

ہو خود جھ بچء کیا وہ کی کا بھلا کرے و جک تن تن ان نون

وی وہ بات جس نے کیا سب کو لاجواب

کلیات پا یا یشماقال ۳ دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

انا این کن ان ا اشن نع جج

تطرہ ذرا سا ہوں ءکوٹی پچیٹٹا نھیں ہوں میں اط کہ مر خم کوئی ودیا کا حم میں بی کی رہ میں بھی مت نہ پارپے

مظرور ہو و عر بی ین نے قران اتی چان کریں گی کان >>

کیا یں گی میں بر کے یہاں آسان پہ

اع کی ا ا و و ی7 و کے ات وی نر

یندوں کی ان میں پان موی وو ند بپ دے سے ال گی ناک پہ وہ ہوناگر پڑی

مپھی ہوئی مان کے ول کی گی کی رکا نے و تق تین

جقت کے اس مال پہ کی سب نے آفریی اشن 1٤‏ وت یر لی و پھوڑن

ایا یں سے مہ کو رفاقت سے ہوڑن

تبایا یق اتال سی دوراڈ ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) می کے ساتھ سب کو برا ضرور سے

گر بم نہ ساتھ ریں تو مرت سے دور ے و ا ا

907 یں

7ٛ۶۶ ۷۳۳۶۶۰۰۰۶ پھر ساس فظر کے بندعا سس کا ہاں

تین بای اشن نیا کان کیا مان اڑا ہوا جو کے ا ]آ٢ثژر‏ ہا ہوا

سادا ىہ ایک بن کی جنت کا ام تما بھی گی نہ س سے میبت سان کی

0 یی 2 و ساوح کاو جن زی کان

یہ فیفی ۶ب یکم ء بے مرذت ۰ نما گ غان ١‏

بیاض اقا زض۰٣۳‏

کلیات بایاےشمراقال ۴۳۴ ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) یں کے لیے چن تی

7٥۲‏ ۹ء تپ یف

نک ذرا انان میں جے کی من چاے بل نہیں علق گتوں کو زان میں عراہ

کمما ی کی جھ ہو خوابشل نو حت جابے اک نت ہو ےگی جب نہ ہو پاتھوں میں زور

نمی نے ۰7 "2ئ2 عادت جا ہے شی یق ا ین ات ین لی جازد نین

ہر کوئی میں کے ای طیعت جا ہے ٹس ہے نا رام کر لتا سے ہر انان کو

سب سے مٹھا ہوے کی تم کو عادت جاہے ایک ہی اللد کے بندے ہیں سب گچھوئے بڈے

اپنے بم ججسوں سے دنا مج مت چاہے سے ممائی می بائی !ک8 ام کل پر کبوڑن

آج سب بپھھ کر کے اٹھو گر فراخت چاہے نع کان یھ کا ارت کا

یک ہو نے کے لے ئییوں کی صت جاپے

کلیات بایاےشمراقال ۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

دبی خدا نے مج سکو عزت اس کی عزت جاہے کن اتی وت گی زا

ٗی کو ے نہاوں تج نی الفت چا بے سے تی میں بد عزت کا اگر بے لی

چھوئے جوں کو بنرگوں کی اطاعت چاہے صلم کے ہیں جے ء سب سے بی دوات سے ہے

فو و زی کن ا ا ین فوفین جا ہے سب با سے ہیں لڑن ‏ کو برک عادت سے بے

ساتھ کے لڑکے جو ہوں ء ان سے رفافقت چاہے ہیں ججاعت میس شرار تکرنے والے بھی اگر

وور گی ان ے فتظا صاحب سلامت چا بے و ٰ ٔ ۶

آںنں نر عد سے زیادہ تھی شرعلی جا

یہ اپ داروں 1 بڑالی ت7 ٹہ اڑا کہیں سب بڑالی انی مت کی بددات چاہے

اع دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

030 ٴ8 ا

ہ وگ رکہ سب مھوئے بڑے عق ت کر یں ور رق جا ہے بات اوہگی ذات میں بھی کوئی اترانے کی ے؟ آری کو اپنے کا میں کی شرافت جاہے گ رکناہیں ہوگئیں بھی نذ کیا پڑ نے کا لیف کا مکی زی میں جو ء ا نکی حاظت چا ہے : بیاض اغازض٣۲٣۳‏ چ‌

کھوٹڑوںکی چان

نع رت رت کک ا ان یک

انان می توم سے کرت ہیں جن رکا سے ھرے بجھائیوں کو اس نے جکڑ کر

شر ہو لی کہ لے بن کو ر ال میں قوم کی زیت نہ بھی کہ یں مٴ

اک اگ کی سے اس نے مرے بی کہ لال ٠" ٢‏

مب آ نے کن ای وا خی عیب کیا بچھلائی

کلیات پا یا یشماقال ےٗ' دو را لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲5ء)

حاضر ہوۓ بوڑ ھے بھی ء پچھیرے بھی جواں بھی

بے ہیوۓ انان کی گن کی ہل پیلے تق بری گھاسں سے کی ؛ن کی اح

ہانوں کو پھر بات جو می ول کی تال اک گھوڑے کو کری پے صدارت گا بٹھا کر

رک اس ا رق تک ہوۓےۓ ا گھوڑوں کا بڑی 6 ے جلہ

سن گی س قوم کی اک ان ال ا ا ںی رع کی سان

و اف کا تی اک ا چنا

اور ائر کے نات سے نہاں 2 لاگ نے پر سو چان ۶ >٤‏ ۶ ۶ 0

بی کھوڑے کی بانں میں قامت کی سنالی ولا کہ مر وم میں یرت نی بائی

کس طرح ہو پھر غیر کے پتھوں سے ر لی

ایا یش اتال ۸ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) جھم گاڑیاں انان کی میں ٢‏ ىہ غضب ہے

نت کریںی عم اور ہے کھا جاۓ ئا

سردی سے رہیں جم نے طویلویں میس تھرتے ا بن یم رضالی

کیا سی مت ہیں پٹ جانی سے تھی ہو جاۓ ج خ الم کے خیلوں میں لڑائی 20 سس رہ

افوں کر رت نہ رگا قوم کر ال 027" یں قوم کے وکھڑ ےک و کہاں کک

جھم تھے میں ے وا خلائی میں ٴُاالی اے قوم ! بے اپچھا خیں ہر روز کا جا

زا سے ہیں تقر سے اناں کی ٹلا

تُ

اوت بوئی شخخم ت بنا وہ پیر ےک نع کن کان نا

کلیات بایاےشمراقال ۴ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) ہر بات گچیرے کی سرتی گی مین کچھ نے پہ آمادہ تھا اک اور تھی گوڑا اظر تھا بہت گرچہ بدھاپے کے سب سے ا کہ سے وم کو تھا راہ پہ لان ات نت اتا نون کرت نف پبھ جش جا لی نے کا سے اسے ائرما انا کہ اسے قوم کی ذلت میں بھالی سی س8 ائھی سس نے زانہ نہیں دیگھا کا لآ کے انان و رہ تہ تق یں ول و ا نے تی میں جو راحت ہو ت گی سے گوارا انان ہے اصان کو ھا میں تم نے دا سے طویلوں میں میں بقت پ وا ریے مو طویوں میں ھت ہو ما م جلل کی ریف میں سے سو طر تا کا دن رات دہاں گحات شی رت ہیں ورنردے

کلیات پا یاتیقعراقال ۵۰ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) سے قد میں انان گی راحت ہہ سعرامر ہر عالی میں سے اس کی خلا ہیں ڑیا 7 وھ آت پت سے راب ی28 زررشت کے بچھولوں سے سے تم کو بھی سھایا یار جج ہو چا تق کرت سے روا تھی گنا سے جارے لیے نقصاں ھی گار کر دوڑ کے گھوڑوں کی جھ ہوئی سے تواشع آرام وو میں کو مر تھیں ہو آرام ہیں لاکھوں ہیں انان کے یم سے برا و ایت بی بھی اب نے کط مم ال ا کا یت سے نی و کی و کت ےت 7 اق ان نے تن ےآ کو زج تقر وہ کی بس نے کہ چادد گا ما وی سا و جو ا وی کی ھی بڑس کی تقر میں ما شر غضب کیا'

۰ ار دی پا نچ ینتا ب۹۵

کلیات پا یاتیقعراقال ۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

ا

س پھول پ ٹٹی بھی س پھول پر ٹٹھی

تلاۃ تق کیا ڈہوڈل سے شر کی کیوں تی سے ء کیا تام ے گگزار میس اس کا

بر بات جھ ما تو کجھیں ہیں وا جکارے پر ہیس جو گھشن میں رندے

یں مہ ٭٭٭

کیا ا شارت کے

7 قری کی کہ بل پر ے شیرا؟ ہے رس وک

ٴ

دل بائغ کی ظیوں سے نو اتا یں ا کا؟ باج سے سے ان کے پچگڑگ ے ‏ تاا؟ ا بیار سے گشن ہے پندوں کی عرا ے؟ ھا سے سے پھول بی یل کا پچ ا؟ قری کم وا سد پر ٹئے ہوے گا؟

۳۲ دویاؤ لکا لام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲۳ء)

یغام کوئی تی سے یل کی نبلٰ؟ تق سے وا ول کے تائوں می کبائی؟

رکنا سے غدا نے اسے پچھولوں میں چھپا کر ھی سے نے جا ی سے نے میں اٹھا کر

ہر ول سے بے بق پھرنی سے بی کو 400ص +4"

یفن سے کوئی نت سے خرا کی

"ت0 سو او و مر و

کلیات بایاےشمراقال ۵۳ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

انان گی بے نز غذا تھی ے روا تھی

قذت سے اگر اس میں تے سے اس میں شفا تھی رت ان کی کی و وین اٹ تک نے

قب شر سی معچی سی طرح علم کو ڑعوڈہ بر عم بھی اک شمد سے اور شمد بھی ایا

دی میں میں شمد کوئی اس سے مصئا ہرشہر سے جو شر سے ھٹھا ‏ وہ بی سے

رتا سے جو انیاں کو نان ء وہ بھی سے 0 وت ا

0 1 مو تر انان کی عظمت سے بی سے

اس اک کے پ ے کو سوارا سے بی نے پچھولیں کی حطر نی کتابوں کو مجنا

چکا ہو اگر تم کو بھی یھ عم سے میں ا

بیاض اغاز ۳٣۸‏

حتع

دتی لیک پاتے ہیں عڑت زیادہ ای می سے عڑت ء ٹردار رہنا الى سے سے آہبادگری جہاں کی ہڑائی پثر کو ئن نت ٹل ے زمانے میں عمزت عععکومت می سے یقت جو محت کی بھچان ہیں کوئی بھھ کے عحنت سے سونا یں سے جہاں میں اگ رکمیا ہے فو بے ہے بی یتیاں ج نظ رآ ری ہیں میں کرت دنا شس نادان حنت 7 کوئی ا کو جے و اکر سے سے پگ دہ ہے لے یں سبکام ای ے

جو نت نہ ہوئی شارت نہ ہوئی

دو را ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

کرت ہیں دبا بین حتف از ڑا دکھ سے دنا میں ہے کار رہنا بی دنا می بیاد ے ہر ہکاں کی یت ا کی جن بڑکی سب سے ایس دوات بی ے کے ےھ کمہاس زرکو چودری کا کھڑکا ہیں سے بجی کے دکھکی ددا ہے تر سے ہے میں شان مح تکی دکھطا ردی ہیں جو ججھھیں نو سون ‏ کی ےکن عحنت چووولت بڑ ےکی نوع کر سا پڑا بھی کے رہ ےکی تیر ے ے تا سے اسان کا نام ای سے کسی قو مکی شان رکاری ہل

کلیات بایاےشگراقال ۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) سادا جار تمارا می سے اندھصرےگھریں کا اجالا بجی ہے بدے کام کی بیز سے کا م کنا جہاں کو ای ام سے رام کرنا گل ن کوشا نشی ا 0یج کی سکو دما نی اس نے دکی سے کھڑا ہے سے نار نت کی کل پر میس بکارخانہ ہے ا لکل کے ئل پہ نائی سے بے شرگھری ٠‏ موں کو انی سے أجڑی ہوئی بتیوں کو جھ پانھویں سے اپنے نایا دہ ایچھاا جھ ہو انی مت کا یسا دہ ابا عرکی جان ! خاشل نہ نت سے رہنا ار جات ہو ذراغت سے ربنا اردوگ پا نچ ںکتابہکگلہ دو رکا خ اب مسافر رات کے ء چاندی کی جیب وآ سجیں والے تتارے آساں کے ہج کو کتے ہیں زییں وا لے اٹھا کر دوش پر اپنے عرە شب کی عمل کو بر کے خوف سے اڑتے جےے جاتے حے منز لکو شال کیسوۓ شب ناش بھی بی جاتی تی صدا موجوں کی مین ساعلل ورین سے آآلی شی

-

کلیاتباواعت۴عراال ۵٦‏ روراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) اق 7 وت یی یاباں ہ این تی نات تین یا رک میرک اڑا :این کے تع خ مان یا ان زع تین و وا می فا شا رٹ کال آپ راوئی خواب نے پاچیا دیا اس کو زا ا فی تا ان کا ا ان کو

۳ 9 9 سو جہاں محت جم آغش کفایت ہو کے رنقی شی قاعت خغانہ پرورو عبت ہو کے رنتی شی ہاں بے ئک خواب 1ور صرا برد ھی 1 ہوں کا ماش ائچازض۲۸۹ ه‌

ا

خ3 ون گی نین رای تن مان تا خوشا وہ دن کہ میرے فرق پر تاب زر افغاں تھا

-7

کلیات پا یاتیقعراقال ے۵ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

خوشا وہ دن کہ شوقی جامہ زی تھا گستاں میں

تھی جز سے را عطر جب گربیاں تھا بپار جو صن ازل تھا بر" گل میں

وو گٹو تما کہ کاغاتہ فرزز صن بعان ا

سر ص۰

بہار ٣ن‏ شی جشل اب فتنر سامان تھا صبا گپوارہ جتیاں ء قضہ گو پان عتادل شی

نا ئن ا ا کی ان ا نناۓ لالہ و ریجان وگل پرییں کی عحفل شی

سم تج کا بھوچ ج تا تخت سلماں تا مم رن تھا شاخؤں پہ میرے طار معررہ

ن کا میرے دس تآموز اک مر نمزل خواں تھا جواپ وت کو رن ول کش تھا

بہار نرہ و گل شی جوم سرد و ریجاں تھا اوھ تل کو تھا مز ہے گیسوۓ مل پر

اھر اس کو گشن میں غرور جشم خاں تر 11 رویز کن را شی ائ غ میں

گوزہ جو بن میں تھا عرمں کل بدااں تھا

کلیات پا یاتیقعراقال ۸ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

مواشی جھ سے تھی و ہوائۓے دہر اے مم

صا تھی خطر ؟آگیں ۰ ار رحعت گوہر افٹاں تھا ےق رن کے رم۔ سے ڑا

رن بو نہ مجچھوگوں میں ہوا کے ہیں پریناں تھا ٍ۰۰ ۰۶ئ7

زیں ہیں و لی جرد 7 یاباں تھا نہ پوں ایے ہوۓ تے نار ححرا میرے دامین سے

ضز نون دا جوا خوں مین ہر انآ جار ہیاں تھا ٦ : 7 0898000‏ ھی خنداں تھا میں بھی با عالم کے مرش میں

نہ میں رت کا چا تھا نہ یں اصصوبر ھماں تھا نہ ہیں بالہ کش بتلی ول تھا یاہاں ٹش

نہ ہیں شو, طراز گرش آ شوپ ووراں تھا ٣۶‏ ۰ تو

6 ٰ۶ یہ سے افسانرکل کا کیا کہوں ا ے میں مھ سے

٦) 4ٔ4۰۰ٔ ٔ . ]7 ۰‏ ار علم نیک تی ہر تھڑی می

گلیات پا یا یقراال ۹ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) یل کی رز رخ ان نشی مین رت کہ مرا ضس تخل مز تم یس شر گویا 7 - ئ 2 ا چون میں میں فل شج سر گور خریاں تھا ۳۴۰ با گوضہ مرقہ عری تی کا مییاں تھا را تھا عظر ۱۲ہ اک نک بانغ صقی کا و تو 7 امکالں 7 حوابے رپچاں ۳

ےط

۰ ٹوارراا لضش ۲۱۸۸ تّ

ٹس جواپی اے غاب رف اے آمام جان بے ترار کی ہت ےت کل تاور ہاۓ وہ دن مو بزن تے دل ٹیں جب ارمالن مل ےا فو تاجن سک گی جت صجیت لیں و نار

اف وہ بوالی کا عام جب رل آوارہ کو یر و نشمز سے تھے بڑھکر پن نان ناگوار

-7

کلیات بایاےشمراقال 7 دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

یو یکین فرا کے اف مں نام قاط

جیش پر انی جمالی کی می جب فضصل بہار بھی بھی بام پر گمری ہوئی وہ پاند

ڑی یڈ روں افزا وہ یم خوظگوار مل میں اربالوں کا وہ شس ہآہے آرزڑو

ا اتی ار کا و ا وم بت کے مرے ء وہ لطفِ شب ہاۓے وصال

چان رالؤں کا وم منظرء وم پچولوں کی بہار ام پر اک اہ ما سے وہ ساالی وصال

اک پر ػل سے وہ زوٹی لت اں وکزار وه ناو از مرسصتی ے ربتان جن

2 از آگھوں ٰ۶ ا ماع ر یی میں پپھولوں کے وہ کجرے خویش نما

میق می گردن نزک میں ےہ کی بہار پا پا نے دوپٹا صنرلی زمپ بن

27 اع بر فزالت ے وہ یع اگوار ںُ پہ مل کھاے ہوۓ وہ اہ ہے دراز

تھری تگھری مورے مالوں 5 وم زلف ہار

تبایا یت اتال ا٦‏ دورا ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) بی بھی وہ مظریسں وہ انار اب

2.1 سان سو وو سرب پپالہ دار بھی گی پن کی مق ب گھلگ پ

وۃ حنالی ہاتھ ہین ہے و نل سار نی جمل ای کی ہہ ماد ائگ

جس حطر ہو کوئی سے اوا مے نار گیل سے مرضماروں پہ نطرے یں پپننے کے عیاں

جس حطر جقت حر پھولوں یہ نم آخھار اے وہ اھمز پے کے ون ء جوائی کا وہ جن

نون صن پ مم مم وه جیے پر ابھار بام پر وہ چاندی مس ش ب کو لوت کے مرے

لطلف گھاگی کے ساہاں ء لت ہیں و کتار می بھی عر میں ڈولی ہجوئی ہاو شھم

ری مڑی چاند گا وہ 927 خواوار میری جاب سے وہ میم عم شرب آرزہ

داحالی و روراِ دل امپروار

اور اھر و2 ئل ار سن دہ دار

کلیات بایاےشمراقال ۰- دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

یل میں لب پر اوطر عزر نزاکت کا گلہ

افطراپ رل سے ہاں شوہ زہاں پر پا پار ٢را‏ کر مہ چا لیا ابع زیر تاب

اور اوظر ذو 8۳۳ نہیں ۓےے قرار

ڈال دینا بڑھ کے باہیں وہ مرا نے اخقیار وہ دلیں میں اک پان الفت کی خلشل

خی کے انآ کاو ون پر ہے و کن از 27 : اے پہاں وہ نہ کن

٣ نے وہ شب بھر شراب شل کی سرستاں‎

تج کو ہگھوں میں کم کم خواب یشیں کا نمار پیا پیا لب پر وہ بد نگ لکھا پان کا

خی خے ر۴غ پہ بیسوں کے نشاں وہ آشار ات کے اکن کو کے ان

ایمرے مین پر وہ دلاۓ ہوۓ پھولوں کے پار

1.- ہے تا ادا

-7

کلیات بایاےشمراقال بس دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

صرت اے شام جا ی ۰ اے شام وصال

دورابيی یب ۳۲ 1 ثرر نا پایدار آو اے دور نشاط 6ات موم ٣ه"‏

کے مک رع مین.ز ود تی نے یلاو از رق کی نفک می ہم لی کی خود

کی مس گرماں میں شوفی ٹس و شر الف بگھائی کے ساماں چگجھ روں اٹم ری

اور تن ن 2 چترے صرت ہوؤں و کزار خیش نہ آکی جرغ کو بے “می للف و نثاط

تفگ للا آە ہآ ؟ سی یں شمار اقلاب دہ کت 1 ای گ روف اگہاں

وہ نا رم " پایان کار او ا و کل لاف :وت یڑ

عبر رخصت ہو گیا جات ربا دلی ے ٹرار 70

اں کا اب ہونے آکا افسیں رووں میں شار

و کی اتی ہے کر ارت شب پان جاز

کلیات بایاےشمراقال "٣‏ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) کاو ذو م موق سک جو اگ مرے ناوا ی نے سے کروٹ کر بھی پرلنا اگوار مس پہ غم بھونے ہوۓ ہو آہ یاران نثاط ہونے والا ایک دن سے میشل دنا کا فشار

- ابا یکلام ابا لضش۸۳

تحورت چاند کی ل ےکر گولاگی ٠‏ ساٹپ کا پچ اور ٹم بد مجنوں کی فزالت ء عیلی سے مل کی گی "بر پہارے پا تموکح جھانےء ‏ دیدرۃ آ ہوۓ جیں اہ ہے یق نے نے الا نے اڑا تم خاونل اور پت سے ا مد و چنا

کلیات پا یاتیقعراقال ۸۵ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

سرد عری ج نے دی تن فی الس سے

جا چان گآ کنیں مل کم زآن: نی نے لطليی گزر نے می سپ تر بی

تی سے زار نے شی مختار دی روز اڑل ے وولت ٹور کا جوسن ہوا

بے یل کا اضافہ اس پ کا پن جوا گنر گنرعا کر ےہ مصا یہ جب اکٹھا ہو گیا

وست رت نے بتاا ایک ڑھانا ور کا

1 تع راو رک ضیرےئ

نکی 2 مکی مورت 7

ا ابتدا یکاماچا ل۹۱٣‏ ×٢‏ مصا ہت یککھاجا کہ اتال اس افناکواسی طرح کھت تھے جا لٴ“

تُ

فط ٤‏ ائنک اٹل ہیں کے بت" سے جب پمٗ زشں

ٴ

-7

کلیات بایاےشمراقال ۷ دو را لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) ا ا ا تد کا یی ضرتی وو ای کیا نرے فضا میں چند “علق ہیں آب کے ب صی پ ں۷۹9 ھپ

ٴ

اوں رح اق و کی اون

سب مت ہو کےگمرتے ہیں آ خوش خواب میں کرت ہیں مپئی دہ خدا کی جناب میں ہوا ٰ سے ٌ ٦‏ دافرار کا

۶ ص2 9 9

رتا ے :۱ا رن 0 تج

سے من قوس فو بن بھی سے بنا ے تيب رل پ ساں غلر زار کا

کلیات بایاےشمراقال ے٦‏ دورا لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) تر وار سد تا توب اور سن جو رات ے تل زرؤر کا ری ہیں ول میں رٹ تم کی شوخیاں ہوئی یں آشھار مت 1 خویاں زے طفل ایک! نے عریی الشت كیا آبزو ات وو نع ےر ما یی و تھا کا

وم ول کہ جس میں جلوے تو نے تے رات ون ات ا ےا سپ مل سے ساز کا عو یک وق ین ار لوجاک کا آباد ] کے کر مری جم خال ہو نی ےکن یکا لپن

باقن انور ہجوالگیان چند اقبالیات جو لاکی سخرے ۱۹۸ء ات

-7

کلیات بایاےشمراقال ۸۸ دورا لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) عم نان

۴ سز سے اپے ضس آپ طا جانا سے

یھ نات کی جوئی می رش می پیا 7 ا ا کر وک

اق ج0 تین جم گی امن نشین اپ كوئی اور جوں رل کو ہوا چا ے

جس طرح نی کی وزت میں کون رگن طفلکِک خفنہ کے پاتتھوں سے گرا جاتا سے

,گیا خوابپ عح٣ت‏ میں بیئی مق نکمے ہو مم حھیل ل یں سے فرامش گے

ہد پش اتل ض۱۹

دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

مر ظا تار

پیا ال ض۷٣‏

کلیات پا یاتیقعراقال ےا دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

مالہ

دہ اسچھالی من ثررت ,“70 ۶-7 ہے وہ درخؤں ے بے خورشیدیھی لگ کرک ہے ہر پچے سے جح سک ری میرےکانوں میں صا آکی گر ٹہ اور ہی و لکی تار بی جس ود خورشیر چال اٹروز ے ہستی ج سک یکرنوں سے ضیا اندوز ہے

وہ اصول جن نراۓ ھی ہستی کی صرا راو نی سے نز ھت یتآ لا 2 ے پہٛدہ روے وی بت کا اٹ جشس نے انا ںکو دا راز یقت کا پا

پر _٭ا

ایا تق اتال اےا دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

ترے دا نکی ہوائوں سے أگا تھا بجر ین سک ہندیس سے ین دجاپاں مںٹەم

و و سے مت سے انی سرزمی کا آشا یھ بنا ان راز دانای یقت کا پا تی بی اموقی میں سے عد لف کا ماترا شرت نع نز ا نا وی ےر ا سے

پ۶۸ةھ قدر کو دکھ ان گنن گی مزا کی رکا کوک

اپٹی بجی دکچھ اور ا کو ہ کی رفع تکو دکیھ اں موی میں سرو رگوش عزات کو دکھ

شاہر مطلب نے مس سے وہ سامالں سے می درورل چاتا ےئ ے ءوہ در‌مال سے می"

خرن اپ یل۱۹۰۱ء

شعراقال ٢ےا‏ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

صٴ لے کل یں

یر ے ض نکیشن را پر کا جانا ۓ ول لأتِ نظارہ سے بے خود ہوا جاتا سے ول بر لا کر صورت بل اڑا جاتا سے ول علقہ جاۓ مو جککہت میں بپچنسا جانا سے ول

ا ےکل ! تھ می بھی جوہروبی مستورے جو و ازاں میں مض رص موج ور ے ہا پھریھ سے جدال یکیوں گے منظور سے دل میس ہلھھآ تا ےمان منہ س ےکپ سنا یں اور آکلینں خھوڑٹی کو بھی سبہ سنا نہیں

با گے انداز تیرے نے کن رعنا جے مار ڈالے گا خی سے مھومنا جیما مج کیوں یں تی .تسین قرار افزا جے ہاں سھا دے جح سیق انی نموڑٹی کا جھے

کلیات بایاےشمراقال ےا دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) پاپ تی میس پ بنا ں صل بورہتا ہوں ش ھی مشیر زوقی جو ربتا ہوں مں' بنرے۳:آخ ریش ر آشھاۓ سوز 7 دل ور ہوں ول ہوں می ںچھ یمر این جن سے دورہوں

سمخرن :۱۹۰۱ء

پإِں اٹھا اے ساز ایام ! ے چادہ را انی گرووں کر ہو و رم ]ہو زرا نے نا یی مر 2 7 ڑا لا وہ نار ےَ 1 اشا جو زرا

خون رلواتے ہیں ایام جوا ی کے مزے ہیں سے پھر ودی ایام فی کے مرے

پاے وو عالم کہ عالم می شی ای ادا غیت صدفصل کل بھی ہے کش نکی ہوا

کلیات پا یا تی ضعراقبال "ےا دوراؤ لکاکلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

تب فی میں غیر از درس آزادی نہ تھا زنِ افاد جہاں سے خیش دل تھا صنا

اب دار صر زّت )یئ تھا مر تی کی ان ین کک ا

7ات ڑا جن ای خاش رل سے لو شس کے پردانے یں سی ےء ود حاصل ےت

چو مار ے بے را ےء وو نرل ےو

ت سکی می مای دحقت ہوء ووگلی سے تو

عیرے پاتھو ںکوئی جوا ۓےلیں نہ ہو

ان از مار زین گلنتاں کل گل ہوا مخزن:جولا گی۱۹۰۱ء

ت

مرزاغااب

مجر میلک تصضور ے وا دلیاں ے ہے ا کوئی تفسیر رعز فطرت انماں سے سے

کلیات بایاےشمراقال ۵ ےا دوراؤ لک کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) نا زی موی کلائی ہائے ہندوستاں سے ہے یر ”ہے + از زطر ان معن ای ےکی ضیح تا انی سے بپیرئن ہر پیر توب پچ“ مخز ن تقبرا٭۹اء پا نچ یں مصر میس اتال نے ادلی سا تر فکیا ہے چ‌

ا رکوہسا ر

و لگ یکوہ کے چچشموں سے چجھے بھائی سے زی انی بی طر گزر ال ے

کل مرے سائے سے نک جانا سے خر قب گزار چک با ے مرا ہر قتطرہ لمتاں پہ پی؛رک جانا ے ول ٹطی لکی طر گل سے اکک جاتا سے

سے جے واشن کہسار میں سے کا مزا پ2 2 دوخی دہتاں 1 صرا

کلیات با وا مت۴عراتّال ٦ےا‏ ووراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) وو رکو, ے حم عم کے اترنا اس کا حثر ڑعالی سے ہہ آہنتہ خرائی گا اوا مم پ وہ دووجھ کی گھلیا کو اڑ بھاے ۲ن اور نف رم 0 یر

دم اپ ہھ سوۓ شر و دبار اٹتا ے ہے نار ھزوں سے غبار اتا ے کوئی کپتا ےھ وہ ار بہار انا ے او رکوکی جش طرب میں پہ پکار اٹتا سے مرو رر شور وے مست ز سار آھ

ے نقاں مژدہ کہ ار آھ و با وھ

می عادت شی سے اک شور میاتے آ نا مر سار سے ض ور ہھجاۓے 31 چپیٹر سے باغ کی کیو ں کو نساتے آ نا وم ماۓ تح ہر ماتے آ: وی پاد پ اڑتا ہوا آ۲ ہوں میں گریی مر کےکشتوں کا ما ہوں میں

کلیات بایاےشماقال ےےا دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

وۃ ضا محر عالے وہ عرں زیا نام افمان گی بوٹی میں تر سے جس کا اھ گیا موج کے یئ دای جھ مرا ہو گیا وا مان لک کر ہت رو ابا ںکی ملک دے کے مس یت ہیں ہر _٭ا گی ذرا دست درازی جھ ہوا نے ہجھ پر چا دای سے دک مظ رآ ے - جھ سے جلے میں نہ ہوا کوئی ئل پڑ کر ٍ۶ ا متصدر ہر صرف قلزم زار ہوں میں ا رمت ہوں “گپردار ُ٦ر‏ پار ہوں ںا

ہف -سمحخرن ۱۹۰۱ء

کلیات بایاےشمراقال ۸ےا دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

ای ککڑااورشی

بڑ ھک رکوئی ے سے ملانے سےکیں سے ہو بھی نہ دنا میں نمس کام کا جینا

پرطرںپ ے پار ہوں یزن تل از انت ٢‏ طح و دکھاوا خیں ۰1

کی نہیں 1را م کہ یہ آپ کا گحھم سے اب وفت ےکھا نے کا ء نی ںکھا یےکھانا

ڈرنا ہو ں کہ وش نکیں نار نہ ہو جانمیں

رہ جانمیں نہ ب رھک کے ء یجھے سے می یکھڑکا شم_م

ان باقوں سے ابو میں نآ ۓگ َ

اب اور کوئی جا بے دینا اسے پلھا شم_۵

کلیات بایاےشمراقال ۹ا دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

لوا مرے قتے کو جو وانا ہو و جھو! وت

چس جات ہیں ء جو سلتے ہی ںتھ رای کی باج وگوں کی خوشامد پہ لبھی کان نہ دھرن' 5 اددوگی پا نچ ی تاب ۳ھ۱۹۰۵(:۵ء)

تُ

۷ر ایک پہاڑادرگبری پہاز درا سے اق یی تھے بای نے اتآ 0 مری ٹیل سے پان لا سے ددیا کو دہاۓ جیٹھا نہوں دالن میں دشت وصح راکو ا ککی ان ےآ مصلھیں ملاۓ جیا ہیں و ں کو بییچھ پہ انی اٹھاۓ بنا ہیں

و ا0ے اور بائیں لیا ہے ججیک جچیک کےآ ماں میری

۸۰ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

فی ہے را کی تی

ہری فیس پہ گیا سفید گجڑی سے

پا پان وو :می :ماع نے کی تی ری تی سے ہو نہیں تی برامری ری

سر

گبری ذدرا سی بات سے ء انصاف سے مگ رکہنا یہ زندگی ج ےکوٹی اس رح پڑے رہنا قرم نہ اٹھے و جینا سے موت سے ظ ڑرار عیب سے یہ ایک عیب سے بڑ ھکر لم بنا سے نہ اتا اگر ری ؤم کا بن رو بے مر یہ پھر دکھا سا جہاں کے پاغ کی گویا سگعار سے ہر جز کہ انی انی جلہ انار سے ہرز ا یفارٹ سے 27 اھ يہ بات جس نے مھ گی وی رہا اپٹھا پاڑ می کے گبری کی بات ش رای ٹل سے وہ کہ بڑے بول کا سے سر یا

ہس ارد وم٦‏ ئ یتاب(م۹۰۳مء)

۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

اک کا ے او مرن

تن

2 ك‌-- سے ار کی جھ سے کمتا سے بے موا ان می وو یں می او کک تن

یشعراچّال ۲" دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

یں اف ےی را یت اش سے کہم ۂ چا الں ایت سے مد کو بر کرو ڑھا رتا ش ھ 8

اردوگ یچچ ئٹ یکتاب(۱۹۰۳ء) ص۱۳۱

تُ

ےکی دعا ری وو ے متطر ہو زان سارا 07 009ء0" ہو مرے جن پہ دنا را لم دیا کے چچن میں ہو اگ رگ لکی طرح چنا رہوں اس پھول پٹ لکی طرح دک اٹھاۓ مرے ہاتھوں سے نہ جاندا کی اے خغدا عمر سی طرب بر ہو مری

۸۳ دوراؤ لک کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

دک بھی 1 جاۓ تو ہو دل نہ پریٹاں را کر ہر عال میں ہو میرک زہاں پے تا

2 اردوگی چٹ یکتا بش ۵۸

تُ

ہرردی

آگھوں نے نف رے سے نو

بی ے بہ رات 1 سای رس نہیں 1]/ ک بل خورشدر 0 ڑیۓ بے 1

گر کو بے جا نے تھا جا

کو ای سی اوھ دے گا آئئیں کون جا کے وانا 7و0 کی یی و کل کرت

اردوگ پا نچو ںکتاب(۱۹۰۵ء)ص۵۸

تُ

مال کاخ اب

کوئی اس سے کا ییاں کیا و کہ

سمارے فلک 4 کت تر وڑے کہ فلت کے ڈر سے خجے ‏ سے ہوے

۸۵ دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

اک مال ىا چاما 000 0 وج 7 س0090 زی تھر رفت رز رب گی کھیں کیا ججاعت وہ یوں کی گی کہ مححویت لق پھر ی مو ئی دای کے صدے موں بس طرع

٣‏ 2 9 ئ0" جب شع کا رٔ سا ے بل

ٴ

مم ت ہم

۱

اعل سے بھی بل ے بنا م۱ و وع نے و

اردوگ انچ ی تا بكل ٣۵‏

تُ

نف لا باد

و کت کے انا دہ می رآسما ںی دہ پا کیا بہارسییے دوس ب کال ک گان

یشعراچّال ٦‏ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

پچوں کا شنیوں پر وہ جھومنا خونگی میں ٹھنڈڑی ہوا کے بجی وہ جالیاں بانا ٹیا ری سے جج کو رہ رہ کے یاد ا ں کی نز مم ککھا تھا مرے کا آب و دانا چ‌ افوں بیس من وا لے خوشیاں منا ر سے ہیں ٹس دل جلا اکیلا دکھ بش کراہتا ہوں ارمان سے ہہ گی میں ء اڑک و یکو چائؤں ٹپی پگ لکی ٹھوں ہآ زاد ہو کے گائوں بر گی خاغ پر ہو دییا ىی یھر ٹیرا اس اجڑ ےکھون کو پچھر جا کے میں پسائوں چنا پچھروں من میں داۓ ورا ڈرا رے سای ج ہیں پرانے ء ان سے ملوں ملائؤں چر دن تچ رمیں جمارے ء چرسیر ہو و نکی یے پزنن توی یت کا اع دا کن کن آزاد شس نے درہکرء دن اپنے ہو ںگڑارے ا ں کو بھلا خ رکیا ء ے قی کیا بلا ے١‏

- خرن فروریٰے۱۹۰ء

ایا خر اتال ے۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

فمٹھک/ک ٠۰‏ چپپ٭ )۱( کحیت سےآ تا سے دجنقاں مضہ میں پوگا ما ہوا اۓ گرد آ لود دن ںا مات کا پا کام دہندا ہو کا اب نید سے ء آرام سے پاے وم آ ما نت کم انجام ے را تکی آمھ س ء ‏ مان ہوا امو یں ابنترا و انا ہیں میں جم آ خویش ہیں خوش گفتار اناں کی صدا گی نئیں 98۳ ۰ )۲( اے عدم 2 بے والوتم ج۶ روں امش ہو نے دولیی ے؟ رن یں بن کےیتم بے وش بب 7 راک ہمارے 2 صورتع ےکی 087ھ ہم"

دل میں ہودتے ہیں ای صصورت سے پیدا ولاو لے اس ولایت میں تھی کیا مجبور کے ہیں اے

یشعراچّال ۸۸ دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء)

واں گی آزار ٹ ری ےن رووۓ ین کیا اس ولایت میں گی دلو نے ہہوۓ ہوتے ہی نکیا بی خشام اں ولایت کا بھی کیا وسور سے؟ واں بھی کیا کن را ے غیفہ دل چھر ے وا کی عڑ تھی ہلوس بھی حا بآ سا ےکیا؟ واں گی ہے وولت بی پمانہ شرافت کا سےکیا تن ون و و یم رت ےن وا کیاگمری میں بھی اس موٹی کی قمت جج گییں؟ ین ان و سے گی کا ڈر اییا ہی گیا؟ ا جہاں میں سے جم پے خظر اییا ی کیا؟ (٢۲)‏ اں چرائ میس تیقنند نل کا سااں سے

ر7 79

چم بع سر گوہر نے اناں سے اس نگ رکی طرح کیا واں بھی ے رونا موت کا کیا دہاں کی زندگ یکو بھی سے کیا موت کا؟

7 0 نے وی 1 دہال بر لوم بے بردہ ھا“ کت وی

کلیات بایاےشمراقال ۸ ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

حن وخوپی ہو کے بے بردہ نظ رت ہی ں کیا ا جہاں میمش کےارماں نیل جاتے ہی ںکیا؟ ہے ننتاں سے جج سکی تی وہ ا یکھتی میں سے ج سکو کے ہیں بلندی ٢‏ وہ ای مجچستی میں ہے و کر وس سے صداقت بھی ء سعاد ت بھی وہاں ضو ر”-ن؟' خرن فروری ۱۹۰۲ء بیاض انا زل ۲٢۸‏ ت

نووا دہ بات تھ م٢‏ لکیا ےکہ یہب ےفھرار سے جال در ہوالۓ لت خواپ مزار ے ہے اخحقار سوز سے تیرے نرک اٹھا قمت کا انی ین کے ستارہ یچک اٹھا تھوڑی سی ری پر و رہ ےس روا نہکیا ہے اک ول ابذاطلب ہے یہ معن وصال وسوز جدا ی غحضغب سے بے حخزنء ابر بل۱۹۰۲ء

۹۰ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

تل ورل و مغ ے ٹا ہیں میں ہھم کلائی سے غیریت کی مل ای پ ما ہوا ہوں میں کاپ افتا ہیں ذکر مرکم پے 7 دل درد آیا ہیں میں گے ٹن بن کے باجح الشت کے آشانہ ا ہا ہیں میں

کارواں سے تل و مل آواڑیٗ ورا ہوں مُیں وس داعنڑ سے رج بی کے ما 5 ادا ے قضا ہوا ہوں من 7 سے ہزا۸ء سے دل زار کر وو

۹ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

سے ان ا رای شوی ئ۲۰ ہوں مُں 0 رم وعدت سے آثا ہیں میں 7 2 2تت کوگی اسں بھلاوے کو چانتا ہوں میں یر ےب ون کیا مرا شوثی ء او رکیا بہوں میں میں کی کو برا کہیں تہ ساری دنا ے خد برا ہویں میں جام ٹوٹ ہوا ہوں ا یع ۓ جن سے مگ لرا ہوا ہوں میں ا ایا یی و کا اور ین کو دنا ہیں میں و عرائی پ مان دنا سے ال کی راہ تا ہیں میں

بھائیوں میس بگاڑ ہو جس سے ان عبات کو کیا سراموں میں

کلیات بایاےشاقال ۹۲ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) بت ری 7 الات اقب بج

کفر ء فحفلت کو چاتا ہیں میں

جا۔روم

لم بنا سے میری مگودی میں راز یی ے آشنا ہیں من ڈ ھی جم سریی کے ہ ‏ لہ دید ہت کی نا ہیں مشں

ہمیرے بخ سے چان بتا ے

اس اندجرے میں چاندنا بہوں مین شی طور میں بباد مر فظر کر آثا ہیں میں وج گے کہ ڑا مل ڈا

کلیات بایاےشماقال ۹۳ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

بل واج تو گاڑ نے مطلب سب بزدگو ںکی اک پا ہوں مل یل ال سے بی بر 6 و می مت ا

مخمزنی۱۹۰۲ء

صراے وررو اے ہالہ ! 9 چھپانے اپیے دالن میں تھے سے غحضب کی ےکی ےشن میں بے لہ شی آکی سے اب ا ںکو وشن کے ہوے آہ دوالی سے ہاں یاں کی ہر لیر ش آخاں اور ال تا نی زاں جار میں آشیاں ایے گلتاں میں بڑائوں مس طرئ آرے جم جو ںکی برہادئ یکو دکھو ںکس طرح

پھر بلا نے ہج کو اے صحراے سط ایچیا این تی یی ات زا تزا رآ چا

یشعراچّال ات دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

اہر اب نیش بھانی یہاں کے بوستانوں کی میک اں علام آخری سے مولد گیخم سے اب فضا تی نظ رآ کی سے نا مم جے الیداغ اے می تھی ائاز م نصت اے آرام 1 ظٍِ چادو 2 یداع اے بگاو پّ شراز الوراخع لے دبار ارک 1 داز الوراں اع ے مرن فان شیوزیی: یں رت اے آرام 1 یی ِیے نىاں رعز الفت سے مرے ابلش وفن پائل ہوے کار زار رصن سقی ہے نا فائل ہوۓ اپٹی اصلقیت ے ناوافف ہیں کیا انماں ہیں نے خر او ںکو کھت ہیں ء جب ناداں ہیں نے ک0 ت۱ سے نظ رکا اوەدنآ نک سے صل صٹی سے انا نام مٹث جان ےو سے ول زی ہے جاں ران رر بے اندازہ ے آہ اک دفز تھا انا ء وہ گی ے اتا

یشعراچّال ۵ دو راڈ لی کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

اتیاز فوم و ملتر پ ہے جات ہیں سے ,رر 0" جھم نے یہ انا کہ ہب جانع سے انما ن گا یھ ای کے دم سے تام مان سے انسا نکی کان تا کی ا حا نک آ دی سو نے کا من جات ت رنب قومیت گر جس سے بدل تا نہیں خرن آ ا ئن تی سے یل سا نہیں موب ازل کی ہیں ہے تقیری کی اک ضس عم تی کی ہں تخیریں بی بک ہی سے سے اگر ہریچ نم ول مور ے یہ عداوت ول با ریا مم کا بے

--‫ خرن جون۱۹۰۲ء

تُ

+ ھ

2

ان اگلہار وں ان اطارتف کا رازہ یی

ٴ

یشعراچّال 1 دو راڈ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء)

مب

ابا پٹر ے دل انرو, گیں 3 25 5 راز 22 و ”از بت- زثم رل و ول ےک وی کوششل جبت سے مائل سے کے“ کی ۷تت اے وا ۓ گنو ۓ لپ بے صدائۓ ض خورغیر شب سے جلوء ظ ات ریا رر تچ ھکو بھی سے خ رکہ یہ سے چاندنا کل ای جرار ے ہی ےج ما سوا ساماں طراز ظلمتہ شب سے بے چاندنا آزار وت ہو بنا و ا ہیں میں کشند ہو یشارت کیا جان کیا ہوں مل جویں ے ند نال دی مل اسر ہوں رت میں نیتاں کی سراپا یر ہوں گور اپۓے آپ کو ھا ایا سے آیا عفان آفر رع مات سار نے دددا کہ وگم خر میں ہوں میں پتہا ہوا

وین یئ ے ہت رار کا ہوا

گلیاتبایایغراال ے۹ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) از و ٢‏ اع ان ا نے ڈرتا ہو ںکوگی ھیرکی ففا نک و بجھ نہ جاتے!

تس مخن .۱۹۰۰ء ت

ایکآرزو ّوں کا ہو نظارہ ری تا خوالی نز ہو معرفت کا ء جو گل کا ہوا ہو 7 لے و 7 یے کسی گی میں کوئی ظلت پا ہو چک مکو جا ربا ہو ء یھ اس ادا سے سورخ یی کوئی سی کے وشن کو ھٹا ہو لمت چیک ری ہواس رح چا دنے میں ہوں کہ میں بح رکی سرمہ لگا ہوا ہو دا وا از ہاّں اپتنے ین آ نو مرمزجشن کے خم سے بوٹا امیر کا ہو ین یر تن کو وت تع نے موزون ہو گے ہیں نانے بنش ننھیں سے

کلیات بایاےشماقال ۸ دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) شمشاد گل کا بب رىی :گل ہ یان کا وشن ہوآشیاں کے قائل ہبہ دہ جج ن یں سے

او ںکو خی رکجھوں اس سرزیش میں رہگر یش بے لن ہوں می راکوئی مو ن نیس سے

09۶ و ساقی خمیں وہ باکئی ‏ وہ اگ ن تئیں سے

ور ثفلے کہ پارال ہے رام گند چوں نو بے ہہ ما شمد نٹ بہ جا مکرونز''

مخرنض ۱۹۰۴ء

1

۲ ٹک

2 چڑھ

اے بای ۶ ل! اے آ تاب ۵! راستا حا میں شی تقشل ت رم ابر مس تچچنا تا ء لان ہے دل پر ایر ٹم یہ ادا ٹم قاشائی کر سے تم

کلیات باوامت۴عراال ۹ دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) دامع سے سر دبیان عالم سے لیے ام رت نے اب زر سےلکپتا کے ےس ضس ن جہا ںآ رای ےت میس کک یرہ ہو ای سے تیرے لور سے حم أیک روں پ(ور ےکی تی نشم فیک غات ول ور سے معمور ہو جاۓ ھا لہ ول ٠‏ خم نل طور ہو جاے مرا ہس نگ ۰ڑ گق۰۷ء

تُ

اب +۹ھھ

در و

پروانہ م(ۓ تی ققحم کو رو 020 ذوقی نل سے مم میں 1 زارد ہو کے نے اي چرم و تا موئی سے ء سے بن ہکہیں آبرو ری تل بی مرمٹی سے شراب مجاز اوراک لع رع ہے سرور گراز

پا

مہ

مھ

٢‏ دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

رہبر و نر گھر سے اور ذوقی در ے اتھیں میں اٌچھن ہے پا ی کلیر ے ناب ہو کے انی حقیقت دکھا یں ج جھز میں نہاں سے ء وہ رفعت دکھا یں و الد ٢‏ خرتی شراب ور .-- مر رت کرور جے نی کر کے آ ما نیک جج ھا نے دژاہ ار ما پا پاچتا ری ھتان :گنز مان ٹوو نے اشنا رون گریاں ہو عم صن بھی تیرے فراق میں١‏

. یٹول ۸ ۱۹۰۳ء

تُ

ہہ

کل شمردہ یم سفرآخرتری بوکی تری رت ہوئی ہا ےکیا اراع تیر ےس نکی دوات ہوئی بل الاںل کپ پان گر کے 2 ہو پماںعشق اہ ببھانے جے

کلیات بایاےشغراقال 2 دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) گرا لی اب شعار مر تایاں چھھ سے سے آہ وہ باجح رتھی ا بگرببزاں تھ سے سے نان ان ا لال جوڑا اب صمعتی بھی جج ھکو پہناٹی غیں ا کی بابیل سے تہ ا بن مکھات ےگا آ بگوہر سے نہ ا ب نم تھے خلا گی 1- و ٤وہ‏ ال مصصومیت اڑل ہوئی جن کےا کردا تو زی کیج وم را سا جاور ء مل دارو 0 تی ےکن و کش نی ان بے ےت جو گے ال“ تا جوا میری آگھو ںکوگر ار ےگل چھاا گا ناو لی سے بج کو تری نز مردگی سے انی و ہیں مرے من میں بھی بپشیدہ زخم بے رٹ کا انی ات ےشن وس اب مرا ہے تاملل میں نوا جیرے سے ری نکی وت او را نے ےا

ا-یاض اياز ل٢٢۲‏

۳۲ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) سی یلوب تربیت

0( ا ےکہ زائز بن کے مھیرکی قجر پ ہآ یا سے نے ا ےک متانہ ۓے من عقیرت کا ےو نہ سے باد صبا یاں کی انخوت آفریں ٦‏ 2 جہاں نرہ بھی پان نہیں ہے وہ نظّارہ سے یاں ہرکل سرایا دیدہ سے اپ ےگمش نکی زیس میں باغہاں خوابیرہ ے

)۲( دیچھ اینوں مس نہ پیدا ہوککیں بے گاگی پیا ا تر ےکن و کک دن کے بردے میں لو دتیا کا سودائی شہ ہو آڑ یس نرہ بکی شوقی عزت افزائی ثہ ہو گالیاں دینا شس یکو دی ن کی خدمت نھیں ىہ قب کوئی مٹاب ور جنت نئیں راہب ر کو جم نے کے تنا جا ہے کیا ج گا کیاروا ں ء جب رہنما جچیے رے

شعراقال ۴۲ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

(٢)) وم ات ا ا ا تک‎ ہو نہ اپٹی زت افزائی کی تج ھکو آرزو‎ قافلہ ج بک کم جاۓ شرمضزل کے ری‎ رجنما ہہوتے ہیں جوء رت مس دم لیت یں‎ کیا زا تی سے انا بن کی مگ ر بھی‎ اس میں پچھ ہوئی نہیں اہ ےکف نکی بھی‎ دکھ آواز لاہمت سے یہ تکھبران ذرا‎ خشق کے ش کو بھڑاکی سے بی می نکر ہوا‎ ور ےش اخواں ءزندگی سے جن سکا بل‎ عالم لے بی سے سب سے بڑ ی عقزت بھی‎ حشنن اخواں میں اگ رملمون ہو جا ۓکوئی‎ عحشن ہ رصصورت میں ین دل ناشاد ے‎ پککیں ہ نال ہکریں ہ شیو نکہیں فریاد سے‎ دنو دومن سے لکل جالی ے ارک نے سے ہی‎ یش ول سے ال ای ہےءالمکیا سے ہے یہ‎

کلیات بایاےشمراقال ۳۲ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) یەں زیناۓ بت روہ ارام بادہ ۲ شیا رفت ایں وم ہہ خاک افآد

(٥) چا ہے انل کو آ داپ طلب سے اظر‎ [0 رمز اطاعت گی‎ ٣ ہے دنیا کو اس نادا لکی صحبت سے عزر‎ نل نرک 2 ظا‎ ین جج رائل اعت زان‎

رہ( جاہیے ہو باعت آرام جاں شاع رکی لے لان اس جز وخ تک تڑے پاتتھوں میں ے دکچھ اے جادو بیاں ‏ نذ نے اگر پوا کی یی 92 ”از شراب مت ہم جنسان خود متانہ بائی شعل“ گج کہ را کورت پٍوائہ 1

-- مرن جو ری۱۹۰۳ء

شعراقال ۳۵ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

مادلو شام نے آ کر پڑھا دیپاچت م موب شب سے اب بر فلک پر مرح موزون شب فف یت ای ا جب ساب یگمر ھی ؛ قط زن سای گرا کیا یس سے ہاتھوں وع مج ینا آاں ور وزہ ظا کو ایا ء د یھنا لے ا دودابیٰ آذاب خاوری قر ے حم تر پر نری چاددگری قوہ رہرد ےک رتا ہی رپا منزلی کےگمرد تی سکی صورت جہیں سا بی رشٴمل کےگمرو نی ون کون کی یز سے مر ئھ ت لال مج انید سے آرزوۓ پور یں سے عمورت باب لو تکی بےےتاپی کےصدرتے ہ ےتجب بے تاب لے جا ہے میری خاہوں کہ انی پاندل

کلیات بایاےشاقال ٦‏ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) ظارے ے ای میرے ین ے وور و نات ہندوشتتال کا ہر ذژہ عرایا طور ہوا 5 بیاض اغجازگض٢٢۲‏ ت

انان اور“ ثررت ور بلسماں ڑے و یانے میں ہآ بادیی مش شہ رس ء دشت میں کہا رکا ہردادی یل رکون رات دک نے نی سے پی سے نمیٹرن وت کی توے؟ ۴ نس سمخ نق۹۰۳اء ن0

یا نآ

۳ تہ" اٹھو ء وروازہ کھو لو نے خواب پریٹاں کا اٹھایا آ کے سز ےکو صدراۓ ”نم باذ یی“ سے 7ءء رر ...2

-7

کلیات بایاےشاقال ٣‏ دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) را اج جج ۷ ھا قط) جخم کو اس نے بستر گل سے چٹرایا خیند کے ہاتھوں سے دامن ٹرکسستتاں ا"

5 تاب 2٭ا ۱۹۰۳ء

تُ

نی ورموٹ

پت ٣‏ ہٰٰ ) ئں مج ذبرل چان ۳ ا ٤‏ از ری می وو قری کو متا تھا طلوق خی صر کا انام . آزادگی می یڑ زغم شی وہ مو جم یں سا کی کی شی تی وو ورو گحٹ ء وه امای “ی وہ افغای ختيى ازل کا ا ا ا کا ا

ُ٭

ہو غیرتے طیر ہر کن خارا٢‏

٤‏ اڈ

۲ے محمر نو ۱۹۰۳ء

کلیات پا یاتیقعراقال ۳۸ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) زبراوررنری سہبہ ‏ کیچ ہیں کہ سے ا سکو عحبت تقر سے بھی نہیں ہم نے ق کوئی اس کی نتانی رات آنے رت کے جلموں سے سروکار تا نو کر روب اور سے ا اہ خرن ۱۹۰۳ء

خی آب میں گشن کی تقاغائی ہوں اپنی تی مو مانے کی ناک ی ہیں

کے شی ہوں ء محردم عکیبائی ہوں حوصلہ دک کہ میس ب ری سدا ئی ہوں

زندگی جزوکی سے کل میں نا ہو چانا

2 27 درد کا حد ےگڑرنا ے روا ہو چانا ٣‏

۴- رکنم 308ا

ایاشماقال ۳۹ دوراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

رھت اے ےے ےم چجہاں

کن ے ناو چم و رواری گے

سے ترے ہز خوشایر زادہ ے افرت بے

رزتوں ضے تم سے ممم سنا رہ

اشن ککی صورت میں اپتا عالي د لکہتا رہا

نی ار کر اپ فا ین

آ مہ مخرب ہہوں ہ راز اپنا چھیا لت غنھیں )۲(

ل کے رنتی ہیں سح دامان درا ھلیاں

نی دہ چاندی کے طائْ ء بے پ و بے آشیاں

نات من کے کا نے ہیں گلتاں کے طہور

یم زن انان ہیں شہروں میں و یراول ےدور (٢)‏

کو کے واعن می ںکیا ہے مڑھا رتا ہوں مین

کیا ماف زندگی سے پھاگنا پھرتا ہوں میں١‏

خرن مارن ۱۹۰۳ء

22 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

شف شور ای نزو کو جھ و ھا سے سامان خوقی کیائی دکھ درد کےکح بکی اید سے بھی درو مر سے ےڈ علہ گرواپ درو ہوئی انت کا تھے آمايی اپاپ درد اس جن ری خماظر سے بتا ی ےگیا؟ اب سیاتی کےکران ےکی ھے سوبھی ہ ےکیا سے تھے یف بر ا سکوگکرانے میں ھا ڈٹ جائۓ آعنہ مرا ء گے پروا ہ ےکیا تالیوں کا ہوکوئی کچھ کہ سونے کی گی للکئی جھ نے تھے جا کعلون ی نکئی جوڑی؟گھموں کے1 کے ہہوہ جہویں اگھیزے نی ہر سے نوسن اوراک کی مہھیز سے تی ےن وش کی بن نون کی منہ پہ ڈالے منر پٹے گی نقاب عاڑشی یں تڑے نے سے ول میں ہےجمتا کی خمود

ے گل نلکوی صن ہن زار وعمد

محخزنخروری۱۹۰۲ء

ایا تخاقال 2 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

لصو ورو

(١۱) 0. ہوئی سے سرمہ‎ گمہ بین بن کے گموں تی سے فاں می ری‎ ھرکی خرت رواٹی سز سے ا دبچہ اے سائی‎ ۷ '" ھم"مم‎ شکار وف رسوائی ے ری رو‎ تی ور کت ا کی نادان مکی‎

)۲( عکایت آساں کی میرے لب پر 7 نہیں تی کہ می قسعمت کا مارا ء آپ می اپٹی مصیت ہوں ہری ئی نے آلودہ گیا داماي عحصیاں کو وہ عاصی ہو يک یش اہ گنا ہو ں کی ندامت ہہوں ہے ارت ون و کک ا ان کی یں وہ درادة دابالی کراے عیادت ہیں

ھی ور دا بھی سبھہ ہو ں گر ہم رن محراب عیادت نہوں

کلیات بایاےشراقال ۲۱۲۳ دویاؤ لکا کلام ( ۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) مربی ہستی نہیں ء وعرت و ماش ے 1 و ہوں خوومم وی ہوں ووور وفرقت ہوں وضو کے واس 1 سے کعبہ نے کے زھز مککو الپی کون سی وادی بس میں و ارت ہوں ن چپ اوکاٹۓ وانے ھے ‏ میرے نتاں سے سراپا صورت نے مجر فرقت کی ایت ہوں ا او ا اوک رٹ مل یرہ اور کا ہوں ء امت شاو ولا یٹ ہوں ا و ا یا میں سونے وا ن کو معیرور رکو ء میں مت صهہہاۓ محبت ہہوں بھی صما سے جھ رفعت بنا دی سے مھت یکو سی صبا میں 1کھھیں دیھتی ہیں راز بھی کو

(٢) شراب محشی میں کیا جانے کیا تاخمر ہوٹی ہے‎ 9 وا رس‎ گاہوں میں شال مر خر ہوٹی سے‎

-

کلیات پا یا تیضعراقال ۲۳ ووراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

نہاں ہیری سے لیکن کے والا اور سے کوئی 07 قزر گیا اوک قزر ہوئی نے جس اے ذو شموڑگی ! رحنصت فریاد دے ہج ھکو کہ جپ ٹٹھوں تذ گوماکی گر ییاں گیر ہوٹی سے ا انی یا یو پہ تاداي گلتاں نے بج پرواز رنکِ گل ء صداۓ تر ہوئی سے ا سے میں نے جو کچھ ایل مق لکو سنا ہوں ای نے شس کا آتہ باندھا ہوا سے مس نے آ ہوں میں ری ہر بات میرے ودد کی توب ہولی ے خوداچپنے آ تسوبوں میں رونے والا ھپ کے بپٹھا ہو صداۓ بل دل کی می خر ہولی سے یر ا ومن وٹ ہیں حرف مت میں شال ناش موا مری لے ہل سے 8 رر ۰۷000 مرے نالوں میں استتبال کی تیر ہوی سے برا نہوں پا بھلا بہوں > میرا کہنا س بکو بھاتا سے ود یکہتا ہوں جو پچھھ سان ہگھموں کے آ تا سے

یشعراچّال 21 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

(٢) ۳ وھ-ص۶ٌٰ‎ ٤ ہواۓ اناز‎ فف ما تق لفن کے زانوں خن‎ جہاں خوں ہو را ا زنرگالی سے‎ ۓ غفلت کے سا نر یل رسے ہیں نوچجواتوں میں‎ ین جا ول وی ین کرت‎ کہ ہے پ بیٹھ رہنا بھی تانی کے نثانوں میں‎ زا دا نہیں بے صورے گل صر زہاں ہوا‎ زہاں جب ایک بھی کویا نہ ہو اتی زبانوں میں‎ ہوا پیار کی ان اجاڑے گی گلتاں کو‎ خدا رکے ہے سے اپنے پائے ہبریائوں میں‎ یی ےکن نے نے دا و ف ارت سے‎ زیں بھی انی شاید جا ٹی سے آسانوں میں‎ اڑائے جائۓ گی وج ہواۓ جصتی ان کو‎ ثہ ہو جب راہ ای کا طات ناڑاوں ٹن‎ زایا خوں مکی مگھو ںکو تی رے خواب فلت نے‎ می رر ہیں کی تھا رونا - ثررت نے‎

شعراقال 2 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

رھ( دکمادول گا ُل اے ہثریتاں ری وا "ور کہ انی زندگاپی تھ پہ تقرہا ں کر کے تچھوڑوں کا کن نت ین ا نی کن تا کہ یل اس اک سے پیدا بیابا لک کے کچھوڑو ںا شیک حت زنداں ہو ںگو ببسف صفت خو بھی گ تیر خواب ایل زنداں کر کے تچھوڑوں گا انی ول ج کو بم صنیرو ! اور روئے دو سن ات کن ا نک سک ین یت

تخب نے مرک خاک ولن میں گھر بنایا سے ۵ی ۹ 4 اکر ہیں میں لڑنا بج کل کی سے مسلمائی مسلرانوں کو خر نا ملا ں کر کے پھوڑوں گا اتھادوں 7 اپ عاش وپ کن 7 سے اس انہ جنگی پر یما ںکر کے تھوڑوں گا ترا درد تھا ء تا کا سے اس نے میرے پہل کو

ری آفار ہے اوڑاےۓ پرے زذست و پاڑ وو

یشعراچّال 2 دوراڑ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) )( ا نی سوا 9 ۰ھ زی تیر میں مر بوئی اقادگی کیوں کر شش تر اٹر سے پیا سے جوں تا جو پنی صورتے تو انز کی تا ڑنے نہ مھا مو ددا سے علابع خواب پا نڑنے یں سے دہریت گیا بندةَ می و ہوا ہونا

ٴ

امت سے گر 2 دہرا تو ے

وم تيی عالم آرا ترے رل ات

حضب سے آساموں میں دا اس کا پا نڈنے

تی تی ان وو 2 رت ذزت ہے

صداۓ ںی رر ھا ٠‏ جب کی انی صدا نے (ے)

نکر اس رور میس جج کو ترا جینا یں 1 کہ صمباۓ محت کا گے بنا خجیں ٢٢‏

+ اچھ

-

کلیات باوامتعراتال ےا٢‏ ووراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) کچھ کر ہز کا وشن تیچ عش مط پ ثاہوں کو نظر اس ہام کا زین یں ٢٢‏ 7 بات ول کی سے ظارت تحقب کی تال جم بنا سے بی میں ۲ یں بے نور سے , محشرمیں فو کیا ناک د سے کا سن ھک کت کے کک نا ین نت یہ کیٹر تھا کہ و اے خیش دل پر ہو جات صفا ہنا گے اح ان میں ٢‏ اکارت ے ٤‏ بٹاوٹ ے را روٹا نمازوں من کہ اھ اس طرح وہ پیشیدہ ینا خ۰یں ٦‏ ۶0ص ۹۶۹۷۹ ھ2 زا نے کا نبجھ سے سخر و بنا نیں 1 بجا دنا یىی ا جا ے اي زنگال کا

ٴ

عبت میںج مر مر کے گے ینا خمیں ٢٢‏

بنا اس راہ میں ذوتی طلب کو م سفر اپنا اکلے لطبِ سر واريی ہین نھیں ٢‏ شی تطر کب تک ےس محے زبر محثت ہو یہ مرن میں ۲ج سے ہنا ن٠یں‏ ۲م

کلیات بایاےق٣راقال‏ ۲۸ روراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) یتو اوت تی :دزن ا فور خرتان 2 ز طوغان متقبردار آ خی خزالی شرن ء آں خو

)ہ۸( تو گے نی ے دہ داری چم مرا ں کی چا کر میٹ کی عید میں شام زم کو عمال بیس بب و دہ آئین ول میں نہ ڈو اے و ید) مجراں نود این مریم کو شا یھی سے بیارکی سکیا ان دردمنروں نے کہ بے عاصل بت ہیں حاش بین مریم کو ا نا انی ین لت نون کہ ناک ری اک نشی بن میں عم کو

ہس تشخ ژنارج۱۹۰۳۷ء

ات الفراتی

پئی رخصت مزت شم مر ہم ہوا بخز عبر و کلیبائی ج تا . بعم ہوا

-

کلیات بایاےش٣راقال‏ 2 دوراؤ ل کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) کچھ عجب اس کی جدائی میں مرا عا م ہوا دل مت پر تن الہ جم ہوا حاضخراں اڑ دور چوں حخر خر مم رہ ائر دیدہ پا باز است لیک از راو لحم دیدہ اند

دعلِ ری کر ےج دید پڑخ یں م۱ صورت مرا حطر ہے ول تجزول کر درو فرقت ے ین ال موزوں مرا ۰ 12 ۰

و مماں سے سپا رع میں م۱ وا از ون یی ات نان کے لیف جو “تا تھا بچجھ تیری مامت میس مججے زدگی کا وشن انماں میں گویا نار ے آرزو کا ول میں ء جن میں شس کا غار ے یں نے اس عا لم سے ہرذڑے سے اتا نار سے مار فرقت کا گ٠ر‏ سب ,2ء ار ے زمگای پر ظز ار ا ہت و در ا سوزن اسٹ

تا و ای اہست در چیراانی ما سوزن است'"'

تَ مخز ن ۱۹۰۰ء

شعراقال ۲ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

اے ق کیا اضضی افزا سے تی رش

زانتف: کے وشن جم یس ےگویا حر سولی ہوئی ت

حصح کال تی صورت کا نثاط اگیز ے

پاندنی مم مکی اک سحکین ٹم آمیز ے ت

"ھ۹۶١‎ ۹۶

انی تی نی انمان کی ے دور

اں اتآ میرے ول میں ساتھ ےکر چاندٹی

اس اندعیر ےگھ می بھی ہو جاۓ د مبھ چا نیا

د٢‏ سمخین جا .۱۹۰۴ء

تُ

بلال تم سے شوقی کی ہن کو موج ہوا مخدا بھلا کرے زار دۓ 5 یی

کھت کہ

کلیات بایاےشمراقال ۲٢‏ دورال کا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) از عق صن از ے گا بھی نماد غدا کی ناز سے گ۰ویا

حس سمخ نقبر۹۰۷اء

ت 7 پا ی ازل سے ج کن ہیں مس نے ہر اک پر میں 7 ا ےگھیں ان نے ت سوا دی میں لآت سے اس ے یم ای ہار ہار سی سے وی میں میں نے ت تح یت ا شی کی نا وم سادہ لوج ہوں میں ءکر لیا لیقیں بی نے

‌ٌ

یں یا یں ین

کی تر یی ین نے ٌ‌

ھا می 9 سا او

بناکے ایک زہانے کو ند میں میں نے

کات ات شر قال ہو مبراتلککام (۸۹۳ ۹۸ر کیپ طرز سے بھہ گنو ۓ واعنڑ کا خی کان کان ین تے دہ نر نام سے شس کا جہاں میں آزاری ور کسی کی تی من نے مو تہ ور ند کو نام یھ“

++

خدا تق تا سے انان می خمھیں کت ‌‌‌‌٢‏ ۶ 2۰۶ ای و ا بت برست ہوں دی جمیں میس نے۱ مرن بقب ۹۷ء ۰ ۹ءء و انما ںکو گی کیا لد کو چاندنی 0

۲ من ۱۹۰۳ء

کلیات بایاےشماقال ۲۲۳ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

مم کاسارہ

واشی صن سے ٠‏ وشن سے مرا فور حر

یہ لا خرو اور کا بھی 27

عب رکا خون فنل آیا ہو ہل کر بج بش

اک طونان ہو ار کا مغمر ھہ میں ن۵ے-٠٢‏ :نمحخرن ۱۹۰۳ء

چ‌

ہنرو تا لی بیو ںکا توکىیگیت آڑی در

گخم کا ج ششن ہے جاپان کا مم سے

یا ے یاشتوں کا کو ریلم سے

رون جس زمیں میں اسلام کا تئم سے

ہر ون ٹن چچی نک فر دو سے انکر

مرا ششن دی سے - مرا ششن وئی ے'

٢‏ مخ نفروری ۱۹۰۵ء

شعراقال س1 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

ٹیاعواا یھ گر پچھوٹ کی کر ہ مالی سے نے مجن کا بیو ںکو پچھ ویک الا اس شس ببری ہوا نے چھر اک الوپ ای سونے کی مورکی ہو اس پردوار ول میں لاظر جے ٹا وں سندر ہو ال کی صورت ‏ ججوب ال سی مےنی ہو سق نت ین ا ا ا کن کی یت یچنی مم کمدے میں ان حم دکھا دیں پل کو چے ڈالیش ء دشن ہو عام اں کا پر تھا تا لک رگن تحی لک ون آأنھو کی ہے جوگنگاء نے لے کے اس سے پان اس دیتا کے آکے اک ری با دں نہندوستان“ آکھ ریں مات پہ اس صم کے بھونے ہوۓ ترانے دا کو پھر سنا ویں مندر میں ہو بلانا جس پیاریں کو آواز اذاں کو ناقوس میس چھا یں

گیا تباپا یق راال ۲۵ ووراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء) انی سے جو وہ نرکن ء کے ہیں پبیت مج سکو وعرموں کے بی کھھیڑے اس آگ ٹیس جلا ویں سے ریت عاشتوں کی تن من ثار کرنا رونا 2 اٹھانا اور ان و پیار کرناا

سح خخنارج۱۹۰۵ء

27 حور دی فوائی پا چکا جس دم مال رنہ ہو کن یکن عیروھر زا کی مثال مردیافندرت نے پیداایک دوفو ںکالظیر داغ نی پل کل میرزا و درد مر شع رکا کا شان ہمان آ ج پھر وراں ہوا دید خوبار پھر مق ت کل واباں ہوا "می ںگجشرسے یھ ای صداکی خائمشی ول سوزی وش کوک ت1 موزی دش٢‏ ٢‏ سمحخزنابریل۱۹۰۵ء

شعراقال غ2 دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) اہر بیام حنششل و طرب آحان سے آی

ٹور ابر سے مار ہو گیا سر ےن ا ا یی ہوا کے ٹم سے ہوئی یم سرہ کی نی و رتخا یت اک تی کی لا ردی سے سر اع گل کو مو ہوا ئا سے باغ میں بل سے واسلے تمول

0اا و سر

٭ھ پ0

ہوا میں کھیلنے پھرتے ہیں ٠‏ مہات ہیں

++

سن میں ہو براۓ نماز 'ٹھا سے

ضو کرانے کو سقاے اب آیا سے

اث کے نے بوازقی :نکی( ان کے جن وا ہوا سے پپچاں یں 7 سو وت

ری مہ میں پچ رتا سے اور ہی نتشا جو ریلتا ہوں خرام مس وں نما ان کا

کلیات پا یا تیشعراقبال ئ۲ ووراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

مک ہپس تفل رز ود کن وا لے کما ن۔کھیتوں سے اتھ اٹہ کےجچھونپڑو ںکو لے

ون وو رک ہیں سار گی چائوں کوا

زماضجون ۱۹۰۵ء

کزار راوی

ظارہ موج کو پھر وج اغطراب سے

نماز شام کی غاطر یہ ائليی ول ہیں کھڑے کر

مری اہ میں انسان پا یہ مکل ہی ںکھڑے

مخز نوہ ۱۹۰۵ء تُ

انتا ۓ مسا ر

ڑے وجور سے ری سے راہ مرل شی

شعراقال ۲۸ دوراؤ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

خروش میلد حوق سے تۃے بت سے طلب ہو خف کو جس کی وہ جام ہے تما رو ال سے ان کن ا مر بر بھف سے ظام سے م٠‏ کیا سے تیرا ٠‏ مشدر نے مد خواں جج ھکو سے ہزار مارک می زہاں جج کو اڑا پچلرلی سے حرت کہاں کہاں مج ھکو

ان نون یں تعشقی و جن مل نے دے سے تحبید داستاں ججھ کو

میں آقع بل ہیں پانا یاز مر ۱۶ دکھایا آ بح خدا نے ہہ آمتاں مھ کو مرے مس نے کو زٴ نے ارہ ہیں کیا لاں شہ دتا تھا جب مر گراں بے کو حوش پر میں منم عفت اڑا کہ جن ندرا سا دا سے شنے کا آشیاں بج کو رہوں میں نادم ضلننی خدا ء جیوں جب کک 7 ۷ھ گر چاورال جہ کو

ال ۲۲

7 میرے بل ورر مٹر کا کا بہت اتا سے اندیش؟ زیاں مججھ کو مرا وہ ار بھی ء ‏ معفوقق تھی . پراور تھی بی بی رے مفخل مرے اض کی ہر برا تظر آۓ بے بیستاں مج کو بھلا ہو دووں جماں میں خسن ئ ظا کا لا سے جس کی بدوات پہ آآستتاں مگ ھ کو

م سے اس کے ول ورد مد کی ٢٢‏ ری ٹا کے لیے کی نے دی زہاں بج ھکو

سمخرن اک ر۹۰۵اء

کیو ں کر تہ وہ چھا یکو پغام بزم راز دے مکی صداۓے نیس جس کا گت ساز درے زائل ! گے خرک٘ییں لت فراغ مس سےکیا دیا ارا مر ات کا نے

دوراڑ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

کلیات بایاےشماقال سا ووراؤ لکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

و و ہن کس ان انل ترقات کو سھاتڑے پا اھ نہ ہو ہر حظہ و ناز رہ چا کر اس رش مس فو پپیرئن نماز دے

ہو شوتی سی رگل اگر ہ ایا جن جا ش کر ہر شن ےکی چک جہاں لطبِ نواۓ راز دے

ےسمخزنفروری۱۹۰۹ء ہت کات ابا لک ا٣‏ تَّ

سوائی را م رھ

کیاکوں زندوں سے میں اس شاہدمستقورکی دا رکو تھے ہوۓے یں چو مزا مصور کی

۲- خرن جو ری ے۱۹۰ء

تُ

مسقور سے ددوان جا مہ پت سے برو ان جام ال کا متام اور ے ء ال کا مقام اور ے

کلیات باوامتعراّال ۲۳ ووراژ لک کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء) یں تق پلانے کت ہی ںعف لکوسا قیان ہند مین نہیں خ نہیں ء ىہ تن کام اور ے شس مز مکی بساط ہوسرعد یں سے مص رک سائی سے ا کا اور ہی ء ے اور چام اور ے اے زم دو رآ نرک یک سکی جلائش سے جھے ہے ایت او ہے انی سے زندگی ذوقی مو اگر ئہ ہو م کت آ دی یت اور رت چام اور ے فانیں کی طرح نے ء آنش بہ پرئن رہو لے جلے والو! لزت سوز غام او کے

7 با انا زن کے ابخزن جونے۱۹۰ء

تُ

وصال

آڈارا م عم ہوں اور رہ ہروں ینیل ۶ریہاں ہول اور نادیرہ ہول٢‏

٢كلوداصاپ‎ ہ٢‎

کلیات بایاےشماقال ۲۳ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

٤

ا ای سے لیکن صورت گوش صرف گی تیرامو نکی شوریش سے بے بپروالھی سے عم عنان حصبر حاضر ۴ عاش عم کن دش بیگویا ھے امروزبھی ہ فردا بھی سے و پرناں مو شال ٹس ٦‏ اس پرینالی میں سی رکیسوۓ لیے بھی سے

)۲( ذرا میربی نظ رکی جلوہ شا ی نو دک طور شش رما جاۓ الما حوصلہ رکا ہوں م١‏ -. زنر۷۸٣‏ ت

کوشش ناقمام

آلٗ صداے چانرکی رم طراتی شع

یع ازل سے سے سفررہتا قیام کے لیے

٠ 7

-

کلیات بایاےشمراقال ۳۳م دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء) قلب زی سے مانگ کے لاکی سے داع جو او ببار : لال“ شطہ عیام کے لیے صور گر از لکوبھی ابد ے ٦‏ ١ڑ‏ ھت

د اہر فدر تکا اک فریب سے لطفِ حول مد عا ار امی رک غلشٹل ء روں کا نازیاد ے حنت کا ذوق باع ٹف شر آشادہ ے انی چچزی نے کر ذا راز اغیز آففار کاٹ دل ہے مڑھا ہگ لک یک بہانہ سے قمری و حندلی بکوشرط حیات سے وہ شور گشش غاد شنو ہیں جو نال عاشقانہ ے سج مو کے نام ہیں سبزہ وہ و مجر عالم ہے زلفِ پرنکن ‏ ] اک بہانہ ہے لاو ول رر

مودت سے ڈر گئے ہیں سب ٦‏ ] و یا ٹرار ہوا

پاش اڈل ك۷

کلیات باوامتعراّال ۲۳٣‏ ووراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

جل> ٦٣و٣‏ ۰

۶ اور وا لے مت آباد بٹا دتا دور؟ عص رکی مستی کو مان سے خیال ہ رکھڑیی ایک نا دہر بات سے خال'

ٴ:

9

سے 0

سے 0

بیاض اول ۸۲۷

بی ال ض۸۰

++

دیار امش دل میں ایا سم م کش 0007

را طف ا آپ کیو ضوریت ار راز ریا

ماہنو اتا ل نُرےے۱۹ء ش٢۲٢۲‏

کلیات بایاےشماقال ۲۳۵ دورا لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸۲ء)

عبدالقادر کے نام پچ ویک ڈالا تھا نبھی بغز پل جس نے حت ‏ م سے ای شل کو پیدراکر ویں ٹن ہلنش زرو شوق مو حر مرکک ا کی کک اک وین درد سے سارے زمانے کا ہمارے دل میں اہر شب رکہ سے سوختد بجی میں مثال فان ےج ا نکو یق پا کر یں مگ یں شا نی ہم نے جن کے لیے اپنے بے دردو ںی کو آ ماد ایا کر وییں'

خرن ۱۹۰۸ء

کلیات بایاےشماقال ۲۳۷ دورالکا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸5ء)

صقلےٰ (جز مس ی)

فرش ہج نکی دنا ۓکو نکی تھی ابمل کی یت مات ےل ےکن ت مریہ جیکی انی کا مری تمت میں تا یہ بنا اور تڈیانا عری قمت میں تھا مخرن ات۱۹۰۸ء ات

کلیات با وا ےخ6عراال م٣۲‏ دوراؤ لگا کلام (۱۸۹۳ء۱۹۰۸ء)

مل مرو زلیس

آب جن بار تھوڑا سا نہ لے کر رکھ دیا ا وت ین تب ار تا